میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 18 دسمبر، 2013

فوجی کی بیوی- 1

       


    وہ 29جون  1977 کا دن تھا میں چھوٹے بھائی جان اور بھابی کے ساتھ کراچی مہینے کی چھٹیاں گذار کر مہران سے واپس رات گیارہ بجے میرپورخاص خاص پہنچی۔ آج سے ٹھیک پینتیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ یوں لگتا ہے کل کا دن ہو۔ ریلوے سٹیشن سے تانگے پر اپنے گھرسیٹلائیٹ ٹاؤن پہنچے۔ نہا کر کھانا کھایا، امی، ابا، بڑے بھائی، بھابی، منجھلی بھابی، چھوٹے بھائی، بھابی اور چھوٹی بہن سب صحن میں چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ بھتیجے اور بھتیجیاں سو چکی تھیں ہم کراچی کے واقعات سنا رہے تھے۔ 

         کہ چھوٹی بہن نے میرے کان میں ایٹم بم پھاڑا، ”باجی وہ سعیدہ باجی ہیں نا ۔ 
"ہاں کیا ہوا ان کو " میں نے پوچھا ۔
 بہن بولی ، "ان کے بھائی ہیں نا وہ جو فوج میں ہیں“ 
میں نے فوراً کہا،”ہاں وہ لمبے کانوں والا فوجی؟“
 ”جی ہاں“ چھوٹی بہن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”کیا ہوا اُس کو اور تم دانت کیوں نکال رہی ہو؟“ میں نے پوچھا۔
 ”کل آپ کی اُن سے منگنی ہو رہی ہے!“ چھوٹی بہن نے جواب دیا۔  میں  حیرت سے چیخی ”کیا، نعیم الدین خالد سے؟ " 
       نہیں وہ ایٹم بم نہیں غالبا نیوٹرون بم کا دھماکہ تھا۔ میرے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی۔ مجھے کسی کی آوازنہیں آرہی تھی۔ جب یہ بھائی سے ملنے آتے تو ہم بھابی کو چھیڑتے کہتے،
”بھائی کے وہ لمبے کانوں والے  اور لمبے نام والے نعیم الدین خالد صاحب آئے ہیں اور ساتھ ان کے ہمزاد بھی ہے آپ چائے بنائیں“ 
اور بھابی چڑ جاتی تھیں، ان کے گہرے دوست اور کلاس فیلو کو ہم ہمزاد کہتے تھے وہ بھی ساتھ ہوتے۔ 
امی نے پوچھا،”گل تمھیں اعتراض تو نہیں“
میں کچھ نہ کہہ سکی۔اگلے دن میں ہونق بنی پھرتی رہی۔ ہر کام روبوٹک ایکشن پر ہو رہے تھے۔ جب مجھے منگنی کی انگوٹھی غالباً پانچ بجے  اِن کی امی نے پہنائی۔ یہ باقی مردوں کے ساتھ بیٹھک میں تھے۔ تب مجھ پر ایک خوفناک آگہی ہوئی کہ میں اُس لمبے کانوں والے فوجی کی بیوی بنوں گی۔ اب سب مجھے چھیڑیں گے کہ”لمبے کانوں والے کی بیوی“  مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد آگیا جب ہم  والکرٹ میں ایک گروپ کی صورت میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کواونچی آواز میں چھیڑا کرتے تھے۔ 
" لمبے کانوں والا ، تیرے لمبے لمبے کان ، تیری حلوائی کی دکان ، کھاتا رہتا ہے تو پان ، بیوی نکالے گی تیری جان "

       کان چھوٹے نہیں کرائے جا سکتے اور نعیم کے بال ایسے کٹے ہوتے تھے کی جیسے کسی رنگروٹ نائی نے سر پر پیالہ رکھ کر مشین چلا دی ہو۔  مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں میٹرک پاس کرنے کے بعد میرے رشتے آنے شروع ہو گئے۔ کسی پر امی ابا نے اعتراض کیا کسی پر بہن بھائیوں نے اور کسی کو ہم نے قابل اعتراض گردانا۔ ابھی کراچی میں خالہ کی بیٹی کی شادی میں دو خواتین نے ہم کو پسند کر لیا ایک تو جولائی کے پہلے ہفتے میں رشتہ لے کر آنے والی تھیں۔ اب کیا ہوگا۔ نعیم کے ہم نے ماردھاڑ کے بہت قصے سنے ہوئے تھے اور دیگر وہ قصے بھی مشہور تھے جو نہیں ہونے چاہییں۔ جن میں کچھ تو ہماری کلاس فیلو تھیں اور کچھ ان کی محلہ دار اور ایک تو پڑوسن تھیں، جن کے ساتھ بیٹھ کر یہ اپنی امی کے سامنے گپ شپ لگایا کرتے تھے۔ یہ بات خود ان کے چھوٹے بھائی نے ہمیں بتائی۔
         انگوٹھی پہننے کے بعد ہم نے اپنے  چھوٹے بھائی جان کی طرف دیکھا، شاید ان کی آنکھوں میں افسردگی ہو۔ کیوں کہ وہ ان کے گہرے دوست  اور راز و نیاز کے ساتھی تھے۔ شاید ان کے مشہور کرتوتوں کے بارے میں جانتے ہوں۔ لیکن چھوٹے بھائی ان کے نمبر دو بھائی سے ہنسی مذاق کر رہے تھے ان کی باچھیں کھلی ہوئی تھیں۔ میری گہری سہیلی ناہید مجھ سے چپکے چپکے  مذاق کر رہی تھی اور میں ابھی تک دھماکوں کی زد میں تھیں۔  

        امی کو دیکھو ہر آنے والے رشتے کو ایسے پھٹکتی تھیں جیسے چھاج میں گندم ۔ ایک رشتے کو تو صرف اس لئے انکار کردیا کہ لڑکا ، پان بہت کھاتا ہے ۔ کمال ہے، انہوں نے بھی کوئی قانونی شق نہیں نکالی۔ صرف دولہا بھائی نے اعتراض کیا تھا کہ لڑکا سگریٹ پیتا ہے اور بزرگوں کو (یعنی انہیں) سب کے سامنے سگریٹ پینے پر اکساتا بھی ہے ،  مزید ستم یہ کہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ بھی بیٹھتا ہے۔ یعنی ایک نہیں تین تین خامیاں تھیں اور اس پر ستم یہ کہ دولہا بھائی کو فوج کے لطیفے بھی سناتا ۔ بڑوں کا ادب لحاظ نہیں تھا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی امی اور بہنوں کو دیکھ کر یہ رشتہ قبول کر لیا کہ بیٹی نے رہنا تو سسرال میں ہے ۔ 

        ان کی چھوٹی دونوں بہنیں، سعیدہ اور حمیدہ خوشی سے نہال ہو رہی تھیں، دونوں چھوٹے بھائی نسیم اور وسیم  میرے دائیں بائیں گھسے ہوئے تھے سب سے چھوٹاوسیم، جو آٹھ سال کا تھا میری گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا، ان کی امی میری بلائیں لے رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ میرے کان میں کل رات ہونے والے دھماکے کی آواز کی شدت میں کمی محسوس ہونے لگی۔

           میں نے غور کیا تو کانوں کو چھپانے کا حل سمجھ میں آگیا۔ جیسی ٹوپی ہمارے دولہا بھائی پہنتے تھے میں بھی شادی کے بعد اِن کے لئے وہی ٹوپی خرید کر تحفے میں دوں گی جس سے کان چھپے رہتے ہیں اور سردیوں میں منہ کے لئے ایک گول سا سوراخ ہوتا ہے۔ میرپورخاص کے باہر بے شک وہ یہ ٹوپی نہ پہنیں ۔ لیکن یہاں تو یہ ٹوپی ہر خاص و عام میں سردیوں میں مقبول تھی خاص طور پر جب کوئیٹہ کی ہوا آتی ۔ یہ اُن دنوں ٹل کوہاٹ میں تھے جہاں سخت سردی پڑتی ہے۔ یہ وہاں بھی کام آسکتی تھی۔

     ابھی میں اِن سوچوں میں گم تھی کہ اِن کی چھوٹی بہن سعیدہ نے ایک تصویر دکھائی، بھابی یہ دیکھیں۔ میں نے دیکھا اور بولی، ”شاید یہ وحید مراد کے بچپن کی ہے“۔
جب ہم والکرٹ میں تھے تو، دلیپ کمار اورراج کپوردور تھا ہمارے سب سے بڑے بھائی، دلیپ کمار کی ایسی نقل اتارتے کہ ہم بچیاں حیران رہ جاتیں اور سوچتیں کہ فلم والوں کی نظر ہمارے بھائی پر کیوں نہیں پڑتی، اُ ن دنوں سڑکوں پر وحید مراد، محمد علی اور ندیم نظر آتے تھے،
”نہیں!نعیم بھائی کی ہے جب میٹرک میں تھے کوئٹہ میں کھنچوائی تھی“ سعیدہ نے جواب۔
میں نے غور سے دیکھا سات سال پہلے کی تصویر تھی جب انہوں نے میٹرک کیا تھا۔ مجھے ان کے لمبے بالوں میں کان نظر نہیں آئے۔
” کیا کان میٹرک کے بعد بڑھے ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
”کون سے کان بیٹی؟“ اُن کی امی نے پوچھا۔
میں ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ کیا بہانہ کروں۔ میری چھوٹی بہن فوراً بولی،”خالہ، نعیم بھائی کے کان بہت بڑے ہیں“۔
ان کی امی کھلکھلا کر ہنسیں  اور بولیں،”گل، تمام فوجی جب بال کٹواتے ہیں تو اُن کے کان نکل آتے ہیں، میرے بیٹے کے کان تو بہت چھوٹے ہیں“۔ میری سانس میں سانس آئی۔

        ”سعیدہ یہ کونسی تصویر ہے دکھانا ذرا“  ان کی امی نے تصویر مانگی، تصویر دیکھ کر ہنس پڑیں اور واپس کر دی۔’’امی یہ وہی والی ہے“  سعیدہ نے بتایا۔ ”اچھا ٹھیک ہے“۔ اِن کی امی نے جواب دیا۔  " وہی والی " یہ کوڈ ورڈ ہمیں سمجھ نہ آیا ، بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے سر پر لمبے بالوں کی یہ آخری یادگار تصویر ہے ، کیوں ان کے والد نے کوئیٹہ میں غصے میں آکر قینچی لے کر ، خود ان کی ٹنڈ کر دی تھی، اس کے بعد غالباً ان کے بالوں نے لمبے ہونے سے انکار کردیا یا پھر انہوں نے والد کے ڈر سے بال ہی نہیں بڑھائے ۔ 

         اِن کے امی اور ابو ”جماعت اسلامی میں تھے“۔  امی کونسلر بھی تھیں اور تھرپارکر کی غالبا ً عورتوں کی امیر بھی، دو تین ماہ پہلے ”نظام مصطفیٰ کی تحریک“  میں باقی لوگوں کے ساتھ ان کے ابو گرفتار بھی ہوئے، عورتوں کو بھی گرفتار کیا تھا۔ اُسی جلوس میں اُن کی امی بھی تھیں۔ اِن کی امی بھی بینر اُٹھا کر آگے آگے چل رہی تھیں دونوں بہنیں بھی تھیں۔جلوس جب، بلدیہ کے آفس کے سامنے پہنچا تو وہاں رک گیا تقریریں شروع ہوئیں۔ ان کی امی چِوڑی گلی میں رشتے کی بھتیجی کے ہاں دونوں بیٹیوں کو ساتھ لے کر پانی پینے دو اور عورتوں کے ساتھ گئیں، وہاں، انہوں نے اُن کو کھانا کھلایا، گھر کی کھڑکی سے جلوس نظر آرہا تھا۔جلوس چلنے لگا تو انہوں نے سوچا نماز پڑھ جلوس میں ملتے ہیں۔ جلوس تھوڑا آگے چل کر پولیس لائن کے پاس پہنچا تو، پولیس نے نکل کر ہلا بول دیا اور سارے اگلی صفوں کے شرکاء کو گرفتار کر لیا۔ یہ عورتیں باہر نکلنے لگیں تو ”بھتیجی“ نے منع کیا جب یہ باہر نکلنے لگیں تو وہ تیزی سے باہر نکلی اور دروازے کو تالا لگا کر نیچے اتر گئی۔ باہر ہنگامہ مچا ہو اتھا۔ دوڑ بھاگ ہو رہی تھی۔پو لیس نے خوب لاٹھی چارج کیا۔ بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ جب ہنگامہ تھما تو بھتیجی واپس آئی اور ہنستے ہوئے بولی،”ممانی“، اب گھر جائیں اور ماموں کے لئے، تھانے میں کھانے پکا کر بھیجیں۔ 

 مجھے یاد ہے کہ میں اور باجی گورنمنٹ گرلز مڈل سکول میں المعروف”لال سکول“ میں پانچویں تک پڑھے۔ باجی مجھ سے دو تین کلاس آگے تھیں جب انہوں نے آٹھویں اور میں نے پانچویں کلاس پاس کی تو ہمیں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، شفٹ کر دیا، دھندلی دھندلی یادیں آنکھوں کے سامنے لہراتی ہیں۔اسی وقت ہم والکرٹ سے سیٹلائیٹ ٹاؤن میں گھر بننے کے بعد ہم 1968میں شفٹ ہوئے تھے۔ باجی تو برقع پہنتی تھیں مجھے بھی گیارھویں سال میں برقع پہنا دیا گیا اور ایسا سخت پردہ کہ ہاتھوں پر دستانے پہننے کا حکم تھا  ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، تینوں بہنیں بھائیوں سے چھوٹی ہیں۔ 

         1974میں میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہوئی تو یہ شہ بالے بنے تھے۔ ہاں یاد آیا، چھوٹے بھائی نے اپنی سالی کے لئے اِن کو کنونس کرنے کی کوشش کی تھی بلکہ شادی کے ہجوم میں دکھائی بھی تھی۔ مگر اُن دنوں اِن کی نظر کہیں اور تھی۔ ہم تو اچانک اِن کی امی کی لسٹ میں اچانک 27جون کو آگئے۔جب اِن کی امی نے میرپورخاص سے باہر شادی کو قطعاً ممنوع کر دیا اور اپنی ایک خاص سہیلی کی بیٹی کے لئے اِن کو کہا۔ مگر اِنہوں نے انکار کر دیاتین، چار اور لڑکیا ں ہٹ لسٹ پر لائی گئیں، سب میٹرک یا ایف اے تھیں۔ صرف دو لڑکیا ں اِن کے جانے والوں میں کوالی فائی کر رہی تھیں، ایک کی بات چل رہی تھی، باتیں تو سب ہی لڑکیوں کی چل رہی تھیں۔ کہتے ہیں کہ بیری ہو تو پتھر آتے ہیں۔

        اِنہوں نے شرط لگا دی۔ کہ لڑکی گریجویٹ ہونی چاہیئے۔
ان کی امی نے کہا،”شیخ صاحب! کی بیٹی ہے وہ ابھی تھرڈ ایر کا امتحان دے رہی ہے“۔
یہ بولے،”کون!  لقمان کی بہن؟“ ۔ ہاں، ان کی امی جواب دیا۔

         اِنہیں معلوم تھا کہ، لقمان کی امی کبھی بھی رشتہ نہیں دیں گی۔ کیوں کہ، 1971میں چھوٹے بھائی سے ملنے آنے پر،  ہمارے کتے کے بھونکنے اور ان کو لپک کر کاٹنے پر انہوں نے لات مار کر اُسے دور پھینک دیاتھا۔ اور ہماری امی کو یہی دکھ تھا کہ بے زبان جانور کو مارا۔ اِن کی امی سے شکائیت کی۔ اِنہوں نے کافی صفائی پیش کی کہ امی مجھ میں چودہ ٹیکے اور وہ بھی پیٹ میں لگوانے کی ہمت نہیں تھی اور اُس نے مجھے پہچاننے کے باوجود مجھ پر حملہ کیوں کیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ میں لقمان کا دوست ہوں ؟ اس کے بعد ہمارا کتا انہیں دیکھتے ہی دم دبا کر ، اندر بھاگ آتا اور یہ زور سے قہقہہ لگاتے ۔ 

         بہرحال اِنھیں سو فیصدیقین تھا کہ، ہماری امی اِن کا نام لیتے ہی، نہ کہہ دیں گی۔اور اِن کی جہاں ”نظر“ تھی وہاں کے لئے شائد راضی ہو جائیں ۔ کیوں کہ اِن کی امی کے علاوہ سب راضی تھے بلکہ، اِن کی چچی کوئی مہینہ پہلے راولپنڈی سے چکر لگا کر گئیں۔ اور ان کی امی کو کافی منایا۔ کہ آپا راضی ہو جائیں۔ اِن کی امی کا کہنا تھا کہ اگر بیٹے کی شادی پنڈی میں کر دی تو میں بیٹے کا منہ دیکھنے کو ترس جاؤں گی۔ کیوں کی اِس نے رہنا تو پنجاب میں ہے۔ ہر چھٹی پھر یہ پنڈی گذارے گا۔بڑی مثالیں دی لیکن اِن کی امی ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ تنگ آکر انہوں نے چچی کو کہا کہ ”ساجدہ“ تم شادی کروا دو میں نہیں آؤں گی۔

       اِن کا کہنا تھا کہ امی نہ آئیں تو میں شادی ہی نہیں کروں، اور نہ رشہ مانگنے کے لئے امی کے علاوہ کسی کو بھیجوں گا۔ بلکہ پاس آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں پلاٹ کے لئے ایڈوانس جمع کروا دیا تھا، امی کی دھمکی کی وجہ سے پلاٹ کینسل کروانا پڑا۔ صرف ان کی امی کی ایک”نہ“ کی وجہ سے یہ ”پنڈی وال“ نہ بن سکے۔ بلکہ بعد میں السر کے مریض بن گئے۔ خیر دوسرے دن اِن کی امی ہمارے ہاں آئیں میں تو کراچی میں تھی۔ اِن کی امی نے رشتہ مانگا۔میری امی نے ایک دن مانگا۔ اور دوسرے دن انہوں نے ہاں کردی۔اور اِن کی تمام امیدیں ختم ہو گئیں۔  یہ بار بار پوچھیں مذاق تو نہیں کر رہیں۔ اِ ن کی امی جواب دیں ہرگز نہیں اور 30 تاریخ کو منگنی ہے۔

 منگنی کے دوسرے دن یہ اپنی یونٹ ٹل کے لئے روانہ گئے۔ ناہید نے اپنے گھر جاتے ہوئے محلے میں رہنے والی ساری کلاس فیلوز کو بتا دیا ۔ میں تھرڈ ایر میں تھی کالج گئی تو سب نے مبارکباد دی اور مٹھائی کا تقاضا کیا اور پوچھا کہ منگنی کس سے ہوئی ہے۔ میری ایک کلاس فیلو۔”خالدہ قمر“جو  مڈل سکول میں مجھ سے ایک سال سینئیرتھی اور اب ہمارے ساتھ تھی، ہمارے گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر رہتی تھی۔اُس نے اپنے پرس سے ایک تصویر نکالی اور ساری لڑکیوں کو دکھاتی ہوئی بولی”اِس سے“-

    میری نظر تصویر پر پڑی۔کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، خجالت سے میں زمین میں گڑی جارہی تھی۔تصویر میں یہ سمندر کے کنارے، اپنے دو اور دوستوں کے ساتھ، سوئمنگ کاسٹیوم میں کھڑے تھے یہ اِن کی 1972کی تصویر تھی۔ ناہید، خالدہ قمر کا مذاق سمجھ گئی اور اس سے تصویر لیتے ہوئے بولی،”یہ دو کانگڑی پہلوان کون ہیں۔ ان میں سے غالباً  ایک تمھارے ماموں ہیں؟“

          پھر اپنے پرس سے اِن کی سرمونیل ڈریس میں سیکنڈ لیفٹننٹ کی تصویر نکالی جو ناہید نے اپنی امی کو دکھانے کے لئے مانگی تھی۔”یہ ہیں پاک فوج کے آفیسر“  ناہید نے سب کو دکھاتے ہوئے کہا ”جس سے ہماری کلاس پریفیکٹ کی منگنی ہوئی ہے“۔ لڑکیوں نے وہ تصویر اچک لی اور خوب تعریف کی، اتنے میں مس”سکندر عسکری“ کا مسلم ہسٹری کا پیریڈ شروع ہوا وہ کلاس میں داخل ہوئیں، انہوں نے تصویر دیکھی اور مجھے مبارکباد دی اور سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔

           اب بھی میں اپنے سر پر اُن کا مامتا جیسا لمس محسوس کر رہی ہوں۔ وقت کتنی جلدی گذرجاتا ہے اور فاصلوں کی دھند میں کتنے اچھے، کتنے پیارے اور حوصلہ دلانے والے چہرے چھپ جاتے ہیں۔ وہ چہرے جنہوں نے مستقبل سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا ہوتا ہے، وہ ہنس مکھ چہرے جو ناامیدی میں حوصلہ بڑھاتے،  آج وہ چہرے ایک ایک کرکے میری آنکھوں کے سامنے سے گذرتے جا رہے ہیں۔کتنے شفیق چہرے تھے جنہوں نے قدم قدم پر میری راہنمائی کی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون ۔ ۔فوجی کی بیوی - 2
 

1 تبصرہ:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔