میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 21 دسمبر، 2013

فوجی کی بیوی - 2


        غالباً 10جولائی تھی اِن کا خط اپنی بہن سعیدہ کے نام آیا۔ وہ خط لے کر ہمارے گھر آئی اور بتایا کہ بھائی کا خط آیا ہے۔ میں گھبرا گئی کہ نہ معلوم میرے بارے میں کیا لکھا ہو میری چھوٹی بہن فردوس، خط پڑھنے پرمُصراور میں منع کروں کہ دوسروں کا خط نہیں پڑھتے۔ بہرحال سعیدہ کے کہنے پر اُس نے اونچی آواز میں خط پڑھنا شروع کیا۔ جو ریل کے سفر سے شروع ہو کر کرم ایجنسی میں پارا چنار میں ختم ہوا اور راستے میں یہ جن رشتہ داروں سے ملے اُن کی تفصیل، سب سے مزیدار اِن کا کوہاٹ سے ٹل تک کا سفر تھا۔ چار گھنٹوں کا یہ سفر انہوں نے ناک پر رومال رکھ کر سفر کیا کیوں کہ پوری بس میں نسوار اور تھوک کی بو میں سانس دوبھر تھا۔ مجھے بڑا ترس آیا۔ آخر میں ایک جملہ،”محلے والوں کو سلام“  پر مجھے بہت غصہ آیا کہ میرے متعلق ایک بات بھی نہیں لکھی  اور "اپنے محلے والوں" کے لئے سلام بھجوا دیا ہے۔  

       کالج میں میری دوسری پوزیشن آئی، میں تھرڈ ایر سے فورتھ ایر میں اپنی سہیلوں کے ساتھ چلی گئی۔ فردوس نے چپکے سے اپنی طرف سے خط لکھ کر سعیدہ کو دیا اُس نے وہ اِن کو بھجوا دیا۔ جواب میں، فردوس کے نام خط آیا، اُس میں ایک روپے کے نوٹ پر اپنے دستخط کے ساتھ لکھا،”اعلی کامیابی پر“  اور خط کے آخر میں پھر وہی  جملہ،”محلے والوں کو سلام“  تب عقدہ کھلا کہ،”محلے والے“  ہمارے لئے استعارہ ہے۔ اِن کے خط آتے رہے نومبر 77کی بات ہے ہم لوگ دس بجے دھوپ سینکنے کے لئے سامنے والے صحن میں بیٹھے تھے  میں کسی کام کے لئے اُٹھی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی، چھوٹی بھابی گئیں اور پوچھا کون ہے؟ جواب میں پوچھا،”لقمان صاحب ہیں“ بھابی نے دوبارہ پوچھا آپ کون؟ آواز آئی، ”عبدا لغنی“۔ بھابی حیران کہ اس نام کا تو بھائی کا کوئی دوست نہیں اور پھر بھائی گھر پر نہیں تھے۔ بتا دیا کہ وہ نہیں ہیں۔ بھابی نے واپس ہونے والے کو دیکھا، اِن کا انداز نظر آیا مجھے بلایا دیکھو یہ کون ہے میں نے دروازے کے سوراخ سے جھانک کر دیکھا۔ یہ سامنے سڑک پر کھڑے کسی سے بات کر رہے تھے۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹی اور اندر دوڑ گئی۔

        فردوس باہر نکلی انہیں بلایا مگر یہ چلے گئے، معلوم ہوا کہ مہینے کی چھٹی لے کر آئے ہیں ۔ امی کو معلوم ہوا تو نارض ہوئیں کہ اندر کیوں نہیں بلایا۔ شام کو بھائی آئے تو منجھلے بھائی کے بیٹے گڈّوکو بھیج کر بلوایا، یہ گھرپر نہیں تھے مغرب کے بعد اپنے ہمزاد، آزاد بھائی کے ساتھ آئے۔امی نے کھانے کا پوچھا تو معلوم ہوا کھانا کھا کر آئے ہیں، حال احوال پوچھا اور چائے بھجوائی۔ تھوڑی دیر میں ناہید اور اس کی بہن آگئی۔ اُن کا پروگرام اِن سے مذاق کرنے کا تھا۔اِن کے لئے چائے اہتمام سے بنائی گئی۔ ناہید نے گڈّو کو بتایا کہ یہ کپ اِن کے سامنے رکھنا اور ہنسنا بالکل نہیں۔ گڈّو چائے رکھ کر پلٹا، ناہید، اس کی بہن اور فردوس سٹول رکھ کر دروازے کے اوپر بنے روشندان سے جھانکنے لگیں۔چائے اُن کے سامنے رکھی یہ پیالی نہیں اُٹھا رہے، یہاں سسپنس بڑھتا جارہا تھا۔بھائی نے اصرار کیا بھئی چائے پیو انہوں نے کہا پہلے پانی پیوں گا۔بھائی پانی لینے اُٹھے۔آزاد بھائی نے اُٹھ کر سامنے بڑی میز سے اخبار جہاں اُٹھایا اور واپس بیٹھ گئے۔ چائے کی پیالیاں ویسے ہی پڑی تھیں۔ بھائی نے پانی دیا انہوں نے پانی پیا۔آزاد بھائی نے چائے کی چسکی لی اور پیالی واپس رکھتے ہوئے میز پر گر گئی۔آزاد بھائی نے، بھائی سے معذرت کی اور اِن سے کچھ کہا، انہوں نے اپنی چائے دینے کی کوشش کی۔ شکر ہے آزاد بھائی نے انکار کر دیا۔انہوں نے پیالی اُٹھا کر چسکی لی تھوڑا سا منہ بنایا، بات بات کی خبر اوپر سے ہماری طرف آرہی تھی۔امی، باورچی خانے میں تھیں اور ہم سب منہ میں دوپٹے ٹھونسے ہنس رہے تھے اور یہ منہ بنا بنا کر چائے پیتے جا رہے تھے، تھوڑی دیر بعد ہم حیران ہوئے پھر ہمارے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ کہ چار چاول کے چمچے نمک ملی چائے پینے کے بعد انسان کی کیا حالت ہو گی، بہر حال وہ چائے انہوں نے پی لی اور جاتے ہوئے کہا،”لقمان بھائی چائے بڑی مزیدار تھی“۔ ہم سب پریشان اب کیا ہوگا۔ مجھے غصہ بھی آرہا تھا کہ مذاق تھا ساری چائے پینے کی کیا ضرورت تھی، عجب ڈھیٹ آدمی ہے اگر کچھ ہو گیا تو پھر۔  دوسرے دن معلوم ہوا کہ اِن کی طبیعت خراب ہو گئی اور یہ اپنی امی کے ساتھ حیدآباد سی ایم ایچ گئے ہیں۔ مجھے خود پر غصہ آیا کہ منگیتر تو میرے تھے میں نے کیوں مذاق کرنے دیا اور ندیدوں کی طرح ساری چائے پینے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا گھر میں چائے نہیں ملتی۔ 

         امی سے ہمیں بہت جھاڑ پڑی ناہید کو بھی باتیں سنی پڑیں اور سب نے وعدہ کیا کہ آئیند ہ کوئی ایسا مذاق نہیں کریں گے۔ہمیں افسوس کہ شاید سسرالی چائے کا بھرم رکھنے میں یہ مجنوں سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے وہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ آزاد بھائی سے گرنے والی چائے دراصل نمکین چائے تھی جو سیکنڈ کے وقفے میں آزاد بھائی کے روشندان کی سامنے سے ہو کر اخبار جہاں اُٹھانے کے وقت تبدیل کردی۔ یہ پہلے سے تیار ہو کر آئے تھے کہ مذاق ہو نہ ہو پیالیاں کسی طرح تبدیل کرنی ہیں اور کسی بھی چیز کو پہلے آزاد چکھے گا اور بعد میں یہ، چنانچہ آزاد بھائی نے چائے  پی کر بتا دیا کہ نمک ڈالا ہے یہ ویسے ہی منہ بنا بنا کر پیتے رہے۔ پہلے ہم اپنی کامیابی پر خوش ہوئے اور بعد میں اِن کی حالت کا اندازہ کر کے پریشان اور باقی کسر، سعیدہ نے فردوس کو یہ کہہ کر پوری کر دی کہ بھائی کی طبیعت خراب تھی،امی کے ساتھ حیدآباد سی ایم ایچ گئے ہیں۔ بعد میں سعیدہ نے بتایا کہ بھائی کو اِس قسم کا مذاق پسند نہیں،جس میں نقصان پہنچے۔بہرحال مذاق سے ہم نے جزوی  توبہ کی لیکن کہتے ہیں کہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں وہ سالیاں ہی کیا جو دلہابھائی کو زچ نہ کریں۔ لیکن ہونے والی دلہن کی آشیرباد کے بعد۔اُن کی پلاننگ کے بعد ہماری اپروول کے بعد کاروائی ہوتی۔لیکن انہوں نے اپنے بھائی اور آزاد بھائی کے ساتھ مل کر ایک دفعہ لوہاری مذاق کیا۔ یعنی سو سنار کی اور ایک لوہار کی۔

      انہیں آئے ہوئے کوئی بیس بائیس دن ہو گئے تھے،ہر تیسرے چوتھے دن مغرب کے بعد آزاد کے ساتھ ہمارے ہاں چائے پینے آتے۔کہانیاں اور مختلف واقعات سنانے میں انہیں مہارت حاصل تھی، کیوں کہ ہر قسم کے ڈائجسٹ، ناول، تاریخی کہانیا ں اور عمران سیریز پڑھتے، چنانچہ گڈو اور فردوس فرمائش کر کے قصے سنتے، جن میں اِن کے دونوں چھوٹے بھائی اور بہنیں بھی شامل ہو جاتیں۔کبھی کسوٹی بھی کھیلا جاتا، ہم لوگ دروازے کے دوسری طرف روشندان سے آنے والی آوازیں سنتے رہتے، بعد میں فردوس اور گڈو تفصیل بتاتے۔

       میرپور خاص میں توہم پرستی بہت زیادہ ہے، چنانچہ وہاں جنوں، بھوتوں اور چڑیلوں کا بھی راج ہے اب معلوم نہیں کہ وہی حال ہے یا لوگ تعلیم کی وجہ سے بہادر ہو گئے ہیں۔ہمارے گھر کے سامنے بڑی سڑک ہے اور پچھلی طرف چھوٹی گلی ہے جس میں لوگوں نے اپنی بھینسیں باندھی ہوتی ہیں، یہ گلی آٹھ بجے کے بعد سنسان ہو جاتی ہے۔ہاں ہم جو اِن سے مذاق کرتے اُس میں چھوٹے بھائی بھی شامل ہوتے ۔ اُس دن انہوں نے جنوں، بھوتوں اور چڑیلوں کی خوفناک کہانی سنائی، رات ساڑھے دس بجے کا وقت تھا، یہ تینو ں  بعد میں اپنے گھر چلے گئے، گھر میں چھوٹے بھائی، اور ہم سب تھے ابا کراچی گئے ہوئے تھے۔ہم سونے کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ چھوٹے بھائی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر ہوئی اٹھے تھے اور صحن میں گھومتے ہوئے دعائیں پڑھ رہے تھے۔ گیارہ بجے ہماری پچھلی گلی کے دروازے کی کنڈی کسی نے بجائی، ہم سب چارپائیوں پر لیٹے ہوئے تھے۔ چھوٹے بھائی نے پوچھا کون ہے، ہمیں انّا خالہ کی لرزتی  آواز سنائی دی ”لقمان دروازہ کھولو“  بھائی نے کمرے سے چابی لا کر دروازے کے اندر لگا ہوا تالا کھولا، ہم سب بھی صحن میں آگئے، چھوٹی بھابی اور بھائی نے دروازہ کھول کر باہر اندھیرے میں جھانکا، دروازے کے باہر کوئی نظر نہیں آیا، چھوٹی بھابی نے آواز دی  انّا کہاں ہو۔ سامنے دائیں طرف دیوار کی طرف سے آواز آئی ”یہاں ہوں“  انہوں نے سامنے دیکھا۔ اچانک ایک سفید ٹھگنا سا سایہ بھائی کی طرف لپکا اور بھائی کے سر سے ٹوپی اتار کر تاریکی میں گم ہو گیا۔ اُس کے گم ہوتے ہی سامنے سے گھٹی گھٹی آواز میں ہنسنے کی آوازآئی۔ بھابی نے لپک کر بھائی کو اندر کھینچا۔ دروازے کو کنڈی لگائی تو دروازے کو دھکا دینے اور کھرونچنے  اور انّا خالہ کے رونے کی آواز آئی۔ بھائی،بھابی اور ہم سب چھلانگیں مارتے اور ہانپتے کانپتے کمرے میں گھس کے دروازے کو کنڈی لگا دی  اور ہماری رات سوتے اور ڈرتے گذری، دوسرے دن شام سعیدہ اور حمیدہ  ہمارے گھر آئیں۔اُنہیں ہم نے ساری کہانی سنائی وہ بھی حیران ہو کر ہماری کہانی سنتی رہیں بعد میں سعیدہ نے کہا کہ نعیم بھائی نے یہ ٹوپی بھجوائی ہے۔اُس نے لفافے سے لقمان بھائی کی ٹوپی نکال کر دی جو سایہ لے کر بھاگ گیا تھا اور ہمیں سب کو چیئیں (املی کی گٹھلیاں) پڑھنے پر لگا گیا۔

    آزاد بھائی اِن کے میٹرک کے کلاس فیلوہیں اور دونوں گہرے دوست ہیں، آزاد بھائی صحافت میں چلے گئے اور یہ فوج میں، دونوں ایک جیسے کپڑے پہنتے اور چشمہ لگاتے تو ہم شکل جڑواں بھائی نظر آتے، اِن کی امی آزاد بھائی کو ہمزاد کہتیں۔کئی دفعہ شہر سے گھر آنے کے بعد پوچھتیں "نعیم کہاں ہے؟ " سعیدہ بتاتی کہ بھائی تو نہیں آئے تو کہتیں میں نے خود شہر میں دیکھا ہے۔ 

      وقت گذرتا رہا ہم 1978میں گریجوئیٹ ہو گئے۔ انہوں نے دس روپے کا نوٹ دستخط کر کے فردوس کو بھجوایا اور تنبیہ کی کہ”محلے والوں“ کو بتائیں کہ اِس کے پکوڑے مت کھانا۔ آگے پڑھنے کے لئے ہمیں حیدرآباد جانا پڑتا جس کی اباجان نے اجازت نہیں دی، چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کیوں کہ اِس سال شادی ہونی ہے لہذا پرائیویٹ کوشش کی جائے۔ یہ اُن دنوں نوشہرہ میں کورس کر رہے تھے کہ ایک بری خبر ملی وہ یہ کہ اپریل 1978میں افغانستان میں انقلاب آیا اور کچھ روسی دستے افغانستان میں داخل ہو گئے۔اور ہماری مغربی سرحد جو ایک پر سکون سرحد تھی، سورش زدہ علاقے میں تبدیل ہوگئی۔ اِن کی یونٹ کے آبزرور کو سرحد پر دفاعی پوزیشن سنبھالنے کا حکم ہو ا جو پارا چنار اور علی زئی کے علاقوں میں بنائی گئیں یہاں سے پاکستان میں گاڑیوں کے راستے آتے تھے۔ کورس کے بعد یہ اپنی بیٹری کی آبزرویشن پوسٹ پر چلے گئے۔ یہ ستمبر میں چھٹی آئے۔ اپنے اباجان سے مل کر انہیں سارا حال بتایا۔ اِن کے ابا نے ہمارے ابو کو بتایا کہ حالات کی وجہ سے سال تک شادی ممکن نہیں، ابو نے کہا کوئی بات نہیں۔  یہ واپس چلے گئے۔

      خاندانی سازشوں سے شائد کوئی خاندان بچا ہو، جہاں دوست ہوتے ہیں وہاں حاسد بھی بہت، فروری یا مارچ 1979کی بات ہے کہ ابو جان کے نام ایک خط آیا جو اِن کی طرف سے تھا اور ہمارے صحن میں پڑا تھا ابو نے خط کھولا، پریشان ہو گئے، امی اور بھائیوں نے پڑھا۔ اُن کی بھی یہی حالت ہمیں بھی سن گن ملی کہ اِنہوں نے کوہاٹ میں کسی کیپٹن  لیڈی ڈاکٹر سے شادی کر لی ہے۔ مجھے بھی دکھ ہو ا۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ریجیکشن کا جو احساس ایک لڑکی کو ہوتا ہے اُس نے ہمیں بھی افسردہ کر دیا۔ فیصلہ ہوا کہ اِن کے ابو سے بات کی جائے، امی اور ابو اِن کے گھر گئے۔

         ہمارے ابو نے اِن کے ابو کو وہ خط دے دیا اِن کے ابو نے وہ خط پڑھا  اور ابو سے پوچھا،
" عبدالغفورصاحب آپ نے یقین کر لیا۔ ابو نے جواب دیا، یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ؟"
اِ ن کے ابو نے کہا،  "پہلی بات تو یہ نعیم ایسا نہیں کر سکتا، اگر اُس نے لیڈی ڈاکٹر سے شادی کرنی ہوتی تو حیدرآباد میں میرے دوست کی بیٹی لیڈی ڈاکٹر تھی انہوں نے رشتے کاکہلوایا تھا ۔ مگر نعیم نے انکار کر دیا ، وہ مکمل گھریلو بیوی چاہتا ہے دوسرے یہ   اُس کیلکھائی نہیں، اُس کا لفافہ کہاں ہے؟"
 میرے ابو نے کہا " وہ تو گھر پڑا ہے"

        بھتیجے گڈّو کو بھیجا کہ لفافہ لے کر آئے۔سعید لفافہ لے کر آیا۔ انہوں نے لفافہ دیکھا تو اُس پر مہر کے بجائے دوات کے ڈھکن سے گول مہر لگائی گئی تھی۔ اِن کے ابو نے بتایا، کہ کوئی فساد پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی میز کی دراز سے ایک خط نکال کر دیا اور کہا کہ ایسے تین خط پہلے بھی مجھے مل چکے ہیں جو میں پڑھ کر پھاڑ چکا ہوں یہ چوتھا خط ہے جو کل ملا ہے آپ گھر لے جائیں اور پڑھیں لیکن اُن دونوں خطوں کی لکھائی ایک ہے۔

         ابو معذرت کر کے خط گھر لے آئے پڑھا، بلکہ ہم نے بھی دراز سے نکال کر پڑھا بہت غصہ آیا لیکن تھوڑی سی خوشی بھی ہو ئی کہ چلو کوئی تو ہمارے لئے خودکشی کرنے کے لئے تیار ہے اور ایک یہ ہمارے منگیتر صاحب ہیں کہ بیس ماہ کی منسوبیت کے باوجودہمارا رتبہ ”محلے والوں“ سے آگے نہیں بڑھا اور ایک ہم ہیں کہ ہم نے اپنے بھتیجے  گڈّو کے ہاتھوں، اِن کے پینے والے پائپ کا تمباکو، سگریٹ، فردوس کو لکھے ہوئے اِن کے خط جمع کر کر کے رکھے۔ اور یہ سوچ بھی آتی تھی کہ انہوں نے ہمیں ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی دیکھنے کی خواہش ظاہر کی، کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ماں کی مجبوری سے بند گئے ہیں۔خدانخوستہ کہیں وہ خط سچ نہ ہو اِنہوں نے شادی نہ کر لی ہو! وسوے دبے پاؤں آتے رہے ، 

       وقت آہستہ آہستہ رینگتا رہا،اِن کے گھر والے شادی کا نام نہیں لیتے، جب امی، ان کی امی سے پوچھتیں تو وہ کہتیں کہ دیکھیں نعیم کب راضی ہوتا ہے۔ اور نعیم صاحب تھے کہ شادی سے زیادہ شہادت کی طرف راغب تھے۔ افغانوں کے ساتھ مل کر روسیوں سے لڑ رہے تھے۔ستمبر 1979کی بات ہے بھابی کی انّا خالہ نے امی کو رائے دی۔ کہ مجھے لڑکے والوں کا شادی کا ارادہ نہیں لگتا اُس سے پہلے کہ لڑکے والے انکار کریں آپ لوگ خود منگنی توڑ دیں۔یہ بات امی، انّا اور چھوٹی بھابی کے درمیان خفیہ طور پر گردش کر رہی تھی ابھی تک کسی اور کو ہوا نہ لگی تھی۔ لڑکا بھی تلاش کر لیا گیا، چھوٹی بھابی کا ماموں زاد رضاعی بھائی سعید عرف گلّو، لڑکے میں کوئی برائی نہ تھی سوائے ایک بات کے کہ اُس کے والد گالیاں دینے کے ماہر تھے۔ جو امی کے لئے قابل قبول نہ تھی۔

        نہ جانے یہ بات کس طرح ”وکی لیکس“ بن گئی  اور ناہید کے ذریعے نہ صرف ہم تک پہنچی بلکہ میری منجھلی بھابی کے ذریعے اُن کی امی تک، وہاں سعید ہ سے ہوتی ہوئی۔اِن تک پہنچ گئی۔اِن کا خط آیا کہ اگر ”گل“ کی خواہش ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں انہیں یہ منگنی توڑنے کی اجازت ہے۔  مجھے معلوم ہوا تو پھر شدید دکھ ہوا  نہ کوئی شور نہ کوئی ڈائیلاگ، اُن دنوں سدھیر اور محمد علی کے ظالم سسر یا باغی حسینہ کے خلاف بولے جانے والے ڈائیلاگ  زیادہ گونجتے تھی یہ فوجی تو ڈائیلاگ بولنے میں واقعی وحید مراد نکلا۔ 

        لفٹین صاحب نے کتنی آسانی سے بات ہم پر ڈال دی اور خود صاف بچ گئے۔ تاکہ خود نیک نام ہوں اور ہم بدنام۔ کہ لڑکی نے ایک شریف آدمی سے منگنی توڑ ڈالی۔ اور وہ بھی 23ماہ بعد، ہم نے انّا خالہ کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا، ہم پر بڑا زور ڈالا جانے لگا، ہم اپنی جگہ پر قائم تھے لیکن دل میں خوف بھی تھا کہ کہیں ہم شرمندہ نہ ہوجائیں،  میری گہری سہیلی نے اپنی خدمات پیش کیں کہ وہ  نعیم کو خط لکھ کر پوچھتی ہے کہ وہ شادی کیوں نہیں کرتے ایک شریف لڑکی کو انتظار کی صلیب پر کیوں لٹکایا ہوا ہے۔میں نے سختی سے منع کر دیا کہ نہیں اُنہوں نے گیند میری طرف لڑھکا دی ہے اور فیصلہ میں نے کرنا ہے اور وہ یہ کہ میں انتظار کروں گی۔

 وہ 30اکتوبر 79کی بات ہے، صبح کے نو بجے تھے  امی، انّا خالہ ،تینوں بھابیاں، میں اور فردوس  بیچ کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ گیٹ بجا۔ گڈّو  دروازہ کھولا، اِن کی امی گھبرائی ہوئی داخل ہوئیں، دادی کہاں ہیں، گڈّو نے جواب دیا اندر بڑے کمرے میں بیٹھی ہیں ۔


 امی ”یا اللہ خیر“  کہتے ہوئے اُٹھیں، ”آپا سلام"
 "وعلیکم“ نعیم کی امی بولیں ”نعیم کا پنڈی سے فون آیا ہے“

 وہ بھرائی ہوئی سانس میں بولیں، ایسا لگتا تھا کہ تقریباً دوڑتی ہوئی آئی ہیں۔  


٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

 پچھلا مضمون ۔ ۔فوجی کی بیوی - 1٭٭ ٭٭  اگلا مضمون ۔ ۔  فوجی کی بیوی - 3
 

٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔