میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 21 دسمبر، 2013

فوجی کی بیوی کا اعزاز





میں وردی نہیں پہنتی، لیکن میں فوج میں ہوں، کیوں کہ میں اس کی بیوی ہوں 
میں اس عہدے پر ہوں جو دکھائی نہیں دیتا، میرے کندھوں پر کوئی رینک نہیں 

میں سلیوٹ نہیں کرتی، لیکن فوج کی دنیا میں میرا مسکن ہے 
میں احکام کی زنجیر میں نہیں،لیکن میرا شوہر اس کی اہم کڑی ہے 

 میں فوجی احکام کا حصہ ہوں، کیوں کہ میرا شوہر ان کا پابند ہے 
میرے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں، لیکن میری دعائیں میرا سہارا ہیں 

میری زندگی اتنی ہی جانگسل ہے، کیوں کہ میں پیچھے رہتی ہوں 
میرا شوہر، جذبہ حریت سے بھرپور، بہادر اور قابل فخر، انسان ہے 

تپتے صحرا ہوں، ریگستان ہوں، برفیلے میدان یا کھاری سمندر 
ملک کی خدمت کے لئے اس کا بلاوہ، کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا

میرا شوہر، قربانی دیتا ہے اپنی جان کی، میں اور میرے بچے بھی 
میں سرحدوں سے دور، امیدوں کے ہمراہ، اپنے پر آشوب مستقبل کی 

میں محبت کرتی ہوں اپنے شوہر سے، جس کی زندگی سپاہیانہ ہے 
لیکن میں، فوج کے عہدوں میں نمایا ں ہوں، کیوں کہ میں فوجی کی بیوی ہوں 



6 تبصرے:

  1. چھٹی پر فیملی کے بیچ میں بیٹھ کر بیوی کو یہ تحریر پڑھانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ارے سب ایموشنل ھوگئے ہیں!
    بہت عمدگی سے اظہارِ جذبات کرنے پر خصوصی داد
    بطور ادیب اور فوجی یہ تحریر پڑھ کر میں خود جذباتی ہوگیا اور بے ساختہ اس پر اپنا تبڑہ ثبت کرنے کو دل کیا۔
    میری خاتون خانہ کا تذکرہ میری اپنی تحریروں میں کافی ہوتا ہے کیونکہ معاشرے کے مختلف لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کے جذبات کی تحسین بھی لازمی ھے۔
    وقعتاً یہ اعزاز تمام فوجیوں کی بیویوں کے لیے باعث تفاخر ھے۔
    ھمارے نشان حیدر، ہلالِ جرآت یا دوسرے اعزازات پانے والے شھداء افسران، سردار صاحبان، جوانوں، سویلین ملازمین کی بیویاں اللہ کے ہاں بہت بڑے انعام کی مستحق ہوں گی، کیونکہ وہ زندی جاوید لوگوں کی بیویاں ہیں۔
    فوجی کی بیوی کی یہ خدمت کہ وہ اپنے شوھر کی غیر موجودگی میں اس کے گھر، اس کے بچوں، اس کی عزت کا خیال رکھتی ہے، اس کی جدائی کا غم بھی برداشت کرتی ہے۔
    ہم فوجی ان کی خدمات کا بدل انہیں نہیں دے سکتے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت عمدہ تحریر ہے۔ فنی لحاظ سے یہ کیا ہے، کیا نہیں ہے، وہ بات ہی دوسری ہے۔
    اس میں جس سانجھ کا ذکر ہے وہی ہماری سب کی خانگی زندگی کا سرمایہ ہے اور اس کے اثرات نسلوں تک چلتے ہیں کہ یہی بچوں کی ترتیب کا ماخذ اور محرک ہوتا ہے۔ عاطف مرزا صاحب کا شکریہ ادا کرنا بھی واجب ہے ان کے دل گداز تبصرے کے لئے۔
    فقط ۔۔۔ محمد یعقوب آسی

    جواب دیںحذف کریں
  3. فنی لحاظ سے اسے نثر پارہ کہیے یا نثریہ کہ دیجیے،
    نظم یا شعری کی اصناف سے تعلق جوڑنا مناسب خیال نہیں کیا جائے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. بہت عمدہ تحریر.......واااااااہ

    راشد

    جواب دیںحذف کریں
  5. بھائیو ! بہت بہت شکریہ ۔
    دلی جذبات ، نہ نثر ہو سکتے ہیں نہ شاعری ۔

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔