میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 20 دسمبر، 2013

میں سو نہ سکی





وہ  بچی تھی
چھوٹی سی پیاری سی
میری نواسی عالی جیسی

اپنے باپ کی گود میں سہمی سی
نرم و نازک کونپل کی طرح لرزاں 

وہ کھیل رہی تھی ہنس رہی تھی 
اپنی دادی کی گود میں چند لمحے پہلے 

اپنی ماں کو شرارت سے چڑاتی ہوئی 
دادی کی گود میں چُوری شوق سے کھاتی ہوئی 

اب وہ خاموش ہے انے باپ کو گود میں 
سر سے بہتا خون، جسم سے رستا خون 

کپڑوں کو بھگوتا، ایڑیوں کو بھگوتا ٹپ ٹپ گرتا 
غزہ کی سڑک پر لمبی سی  اک لکیر  

سرخ رنگ کے قطروإ کی دور معدوم ہوتی جاتی ہے 
وہ ننھی معصوم سی پیاری بچی 

قطر قطرہ خالی ہوتی ہے 
انکھیں بند ہوتی ہیں 

میری آنکھیں بھی دھندلی ہوتی ہیں 
قطرہ قطرہ وہاں خون ہے یہاں آنسو ہیں 

وہ ننھی پیار ی معصوم بچی سو گئی 
ہسپتال پہنچنے سے پہلے اک ابدی نیند میں 

وہ ننھی پیاری معصوم سی بچی 
میری نواسی عالی جیسی

میں سو نہ سکی، انسانوں کے ظلم پر 
جو وہ کرتے ہیں اپنے بچوں کے امن کی خاطر 


1 تبصرہ:

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔