میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 4 جنوری، 2014

چیف آف آرمی سٹاف اور کارگل آپریشن


بھائی :  کسی پر تنقید کرنا بہت آسان ہے خاص طورپر اس آدمی کا جو ، اس ادارے سے واقفیت نہیں رکھتا ، اور ہم پاکستانیوں میں بچپن سے گھروں میں مائیں اور خالائیں - پھوپیوں ، چچاؤں ، تایاؤں ، دادا اور دادی (خصوصاً) کے خلاف تنقیدی رجحان پیدا کرواتی ہیں ، کہ اگر پھوپی نے ایسا کہا تو ایسا کرنا ، اور اگر وہی بات خالہ کرے تو ویسا نہ کرنا جیسا پھوپی نے کہا ۔

میرا خیا ل ہے کہ ہمیں اس روئیے تو ترک کرنا ہوگا ، اگر ہم بہترین انسان اور بہترین قوم کی صف میں شامل ہونا چاہتے  ہیں ۔  اب آتے ہیں فوج اور فوجی کی طرف۔

فوج : تمام اداروں کی طرح پاکستان کا ایک ادارہ ہے ، جس کے اصول ، قانون اور ضابطے صدیوں کا نچوڑ ہیں ۔ یہ علاقے پر ایک قوم کی حکومت قائم کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے ۔ اور اس میں رکھے جانے والے ، لوگوں کو اب فوجی کہا جاتا ہے ۔  یہ ایک فرد ہوتا ہے جسے فوج ،ان اصولوں، قوانین اور ضابطوں کے مطابق بھرتی کرتی ہے جو فوج میں مروج ہوتے ہیں اور اسے اپنے لئے تسلیم کیا ہوتا ہے ۔ خواہ وہ کسی بھی قوم نے ترتیب دئے ہوئے ہیں اور ان میں تبدیلی ، ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے ۔ جو کی اتھارٹی ، فوج کے سب سے اعلیٰ عہدیدار کو تفویض کی جاتی ہے ،

فوجی کیا ہوتا ہے ؟
بھائی : فوجی آپ کی طرح ایک انسان ہوتا ہے ، اور اسی ملک کا شہری ہوتا ہے جو اپنے مستقبل اور روزگار کے لئے فوج میں اس لئے بھرتی ہوتا ہے ، کہ فوج اس کا خیال رکھے اور وہ ، فوج کا نہیں ، بلکہ ملک کا خیال رکھے گا اور فوج کے ضابطے ، قانون اور اصولوں کی پاسداری کرے گا ۔ اور اس کے بدلے میں فوج اسے یہ ڈیوٹی دینے کے لئے ملک کے اندر یا باہر ، سمندر پر یا سمندر کے اندر (آبدوز)  اور یا فضاء میں کہیں بھی تعینات کر سکتی ہے ، اس اس تعیناتی میں اس کی جان بھی جا سکتی ہے ، جان جانے کی صورت میں فوج اسے ، اس کے گھر والوں ، یعنی شادی شدہ ہونے کی صورت میں بیوی بچوں اور غیر شادہ شدہ ہونے کی صورت میں والدین کو اس کی خدمات کا صلہ دے گی ۔

فوجی سربراہ – کا حکم حتمی ہوتا ہے ، خواہ وہ نائیک سے لے کر جنرل تک کیوں نہ ہو ، اسے ماننا اس کا فرض ہے ، اگر کوئی غیر قانونی حکم دیا جاتا ہے تو اس کی اطلاع وہ اس سے اوپر والے سربراہ کو کرے گا ، فوج میں  قانونی حکم کے سلسلے میں کیوں ؟     کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ،
DO or Die Do not say WHY ?

کارگل کا آپریشن :
یہ وہ سیاسی طور پر متنازعہ آپریشن تھا ، جس پر پورا غور و خوص   کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کے حکم پر " ملٹری آپرشن برانچ " کے ماہرین نے  پلان بنایا تھا اور اس کو عملد درآمد بھی کروایا تھا ۔

اس آپریشن کے لئے ، پوری آپریشن ریہرسل ہوئی ،اور وزیر اعظم کو دکھائی گئی ،لیکن اس کو خفیہ رکھنے کے لئے ، اس کا پورا تناظر وہ نہیں تھا جو کارگل اور اس کے اردگرد کے علاقے اور ماحول کا تھا ،  اسے "کوڈ ورڈ" بھی دیا گیا تھا ، یوں سمجھیں یہ ایک مکان تھا جسے کہیں دور اس علاقے کی مناسبت سے تعمیر کیا گیا ، اور جب اسے شفٹ کرنے کا موقع آیا تو صرف ، ایک لفظ ادا کیا گیا ، اور مکان رکھنے کی جگہ بتا دی گئی ۔


یہاں میں ایک بہت پرانی بات کا حوالہ دیتا ہوں ،  کہ انڈیا نے اپنا پہلا سائینسی مشن اٹارکٹیکا میں 1981 میں ایک سال کے لئے بھیجا تھا ، جس میں فوجی بھی شامل تھے ۔ میں اس وقت جہلم میں تھا ، ایک آپریشنل مشن میں اس کا حوالہ آیا تو اس وقت کے جنرل عالم جان محسود نے اس کا ذکر کیا ، کہ یہ انڈین مشن شاید کشمیر میں برف کے دنوں کوئی ایکشن کا پلان ہوگا ، لازمی بات ہے ، پاکستانی  ملٹری آپریشن  کے ماہرین  نے اس پر کام کیا ہوگا ، لیکن سیاچین کی طرف ان کا دھیان نہیں گیا ۔ کیوں کہ وہاں کے علاقے میں فوجی قبضہ بہت مہنگا پڑتا ہے اور ایسا ہی ثابت ہو رہا ہے 

تو بھائی کارگل آپریشن ، بھی اسی تناظرمیں پلان کیا گیا – جس کے بارے میں ہمارے وزیر اعظم محترم کہتے ہیں کہ انہیں بے خبر رکھا گیا ۔

کارگل آپریشن میں 12 نادرن لائیٹ انفنٹری (رینجر یا سکاوٹس کے طرز کی یونٹ ) نے حصہ لیا ، جو پیرا ملٹری ٹروپس میں آتے ہیں ، پیرا ملٹری ٹروپس کی کمانڈ لیفٹنٹ کرنل کرتے ہیں ، جو ریگولر یونٹ کمانڈ کرنے کے بعد ، مزید دوسال سٹاف آپائنٹمنٹ پر رہنے کے بعد جاتے ہیں ، چونکہ انہوں نے سٹاف کالج نہیں کیا ہوتا ،یا اگر کیا ہو تو ان کے بطور بریگیڈئیر پرومشن کے چانسز 50 فیصد رہ جاتے ہیں انہیں پوسٹ کیا جاتا ہے ۔ لیکن جنگی  تجربے  اور  مہارت میں وہ کسی طور پر پیچھے نہیں ہوتے ۔
 
جب کارگل آپریشن کے لئے ٹروپس حرکت میں آئے ، تو ایک معمولی سی بدنظمی دیکھنے میں آئی ، جس کی اطلاع میرے ایک کورس میٹ کو ہوئی وہ اس وقت ، جی ایچ کیو میں تھا ۔ میرا یہ کورس میٹ، جب پی ایم اے سے پاس آؤٹ ہوا تو اس کی دوسالہ ٹریننگ قابلیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پلاٹون کمانڈر نے اسے ، آرمی سروس کور ، کے لئے منظور کیا ،  اس کے لئے ایک صدمے سے کم نہیں تھا ، یونٹ میں پہنچنے کے بعد اس نے حسب ضابطہ درخواست دے کر ، فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں تبدیل ہو کر آگیا ۔ اس کے بعد اس کی قابلیت کے جوہر کھِلنے لگے اور وہ ایس ایس جی میں شامل ہو گیا  اور پاکستان آرمی کے بہترین لڑاکا آفسروں  کی ٹیم کا ممبر بنا  ، اس نے یہ دیکھتے ہوئے ، ملٹری سیکٹری کو بتایا کہ وہ کارگل کے لئے خود کو والنٹئیر کرتا ہے ، ملٹری سیکٹری نے چیف آف آرمی سٹاف سے اجازت لے کر اسے اگلے  دن کارگل کے لئے روانہ کردیا ، اس نے کارگل کی جنگ میں 12 این ایل آئی یونٹ کمانڈ کرتے ہوئے حصہ لیا ، میرے اس کورس میٹ کا نام "خالد نذیر " ہے – جو بریگیڈئر فوج سے ریٹائر ہوا۔
 
لیفٹنٹ کرنل خالد نذیر ، کے کمانڈ سنبھالتے ہی ، نادرن لائیٹ انفنٹری ، کے دستوں میں ایک نئی سپرٹ پیدا کردی اور اس سپرٹ میں مزید اضافہ ، چیف آف آرمی سٹاف کے کارگل کے جنگی میدان میں ایک مکمل رات گذارنے سے ہوا ، پاکستان میں پہلی بار کسی چیف آف آرمی سٹاف نے ایک رات ، محاذ جنگ میں ٹروپس کے ساتھ گذاری تھی ، یہ نہیں کہ باقی جنرل نہیں گذارتے تھے ، پاکستان کے میجر جنرلز ، تینوں جنگوں میں اپنے  ٹروپس کے پاس میدان جنگ کی حدود میں ہی رہتے تھے -

لیفٹنٹ کرنل خالد نذیر ، کی کمانڈ میں 12 نادرن لائیٹ انفنٹری کی یونٹ نے ملٹری ہسٹری کی تاریخ میں بحیثیت پیرا ملٹری ٹروپس وہ کارنامے انجام دئیے  کہ 12 نادرن لائیٹ انفنٹری یونٹس کو ریگولر آرمی میں شامل کر لیا ۔ اس جری اور بہادر یونٹ کے جوانوں اور آفیسروں نے آئیندہ فوج میں آنے والے آفیسروں کے لئے جرءت اور بہادری کے انمٹ نقوش چھوڑتے ہوئے  

دو نشان ِحیدر ، نو ستارہ جرءت ، نو تمغہء جرءت ، آٹھ تمغہ ء بسالت ، چار امتیازی سند اور دو چیف آف آرمی سٹاف شاباشی کارڈ حاصل کئے ۔

فوج نے ان شہیدوں اور نہ گیاری کے شہیدوں کو لاوارث ، چھوڑا ، ان شہیدوں کے لائق بچے ، ملٹری کالجوں میں فخر سے گردن اٹھائے اپنے باپ کی جگہ لینے کے لئے تیار ہورہے ہیں اور سب ابھی سے شہادت کی تمنا کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے باپ کی جلائی ہوئی بہادری کی مشعل کو اپنی آنے والی نسلوں میں منتقل کریں ، ان شہیدوں کی بیوائیں ، بچے بچیاں ، والدین ، بہن اور بھائی ،کوئی بھی یہ کہتا دکھا ئی نہیں دیتا کہ کاش یہ فوج میں بھرتی نہ ہوتا اور باہر چلا جاتا ، تو ہمارے درمیان زندہ ہوتا ۔

لیکن مجھے نہیں معلوم ، کہ انڈین پروپیگنڈے سے متاثر ہونے والے کیوں ان شہیدوں کے غم میں دبلے ہورے ہیں ، کہ :
"  کیوں اتنے آفیسر اور جوان ، چیف آف آرمی سٹاف نے مروا دئیے ۔  کیوں ؟ "

KARGIL should be celebrated as a famous Pakistani victory

The plan was brilliantly executed militarily till the extent of meeting its tactical and strategic objectives. The Indians cannot deny that 132 most dominating positions had been occupied by the liberators or that around 130 KM territory across the LOC, which the Indian Army had been occupying illegally since 1971 were taken back ?. Also can they deny that the Indian Army had to incur heavy losses than those compared to Pakistan?.

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔