میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 6 جنوری، 2014

ہم سچ کیوں نہیں بولتے ۔

     جنٹل مین ”سچ  بولنے پر سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا  اور منصور کو سنگسار کیا گیا“، 
 میری پبلک سپیکنگ کا عنوان، ”ہم  سچ کیوں نہیں بولتے“
    ایک  فوجی بحث پر میرے ذہن میں ماضی کی یادوں سے  ایک بلبلہ پھٹا اور اس سے ماضی بعید کی ایک یاد،  لپک کر پردہ ء شعور پر آگئی ،  ہم اس وقت پاکستان ملٹری اکیڈمی میں، تھرڈ ٹرم میں داخل ہوئے تھے،  1976جنوری کا مہینہ تھا اور سردیاں، ٹریننگ کے ساتھ اپنے عروج پر تھیں، اْس دن ہمارا لیکچر، اینگل ہال میں تھا،  پورا کورس وہاں حاضر تھا، بریک ہوئی  سب ٹانگیں سیدھی کرنے اینگل ہال کی پچھلی طرف نکلے جو سگریٹ پینے کے شوقین  برآمدے میں کھڑے رہے اور باقی ہال کے سامنے کھڑے ہوکر بادلوں سے چھن کر آتی ہوئی دھوپ سے جسم گرم کرنے لگے، سگریٹ سُلگا لی گیں، ہم بھی اْن کے ساتھ اپنے پھیپڑے جلانے میں مگن ہوگئے اور ہر کَش کے مزے لینے لگے، ہم  نے جلدی سگریٹ پی  اور  اندر چلے گئے، کلاس ختم ہوئی کمروں میں پہنچے، تو وقار  (میرا روم میٹ) نے بتایا کہ وہ سگریٹ پینے  پر پھنس چکا ہے اور اسے اور کلیم کو پندرہ  رسٹرکشن مل چکی ہیں، اور حکم دیا کہ اْس کا جہیز تیار کردوں، شام  کو منہ دکھائی کو جانا ہے ، ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
     اکیڈمی میں سگریٹ پینا جرم تھا، اور سردیوں میں تو یہ سنگین جرم بن جاتا تھا،سردیوں میں کھانسی تو ہر فرد کو لگتی ہے، لیکن سگریٹ پینے والے کے لئے اِس کی شدت میں چار گنا اضافہ ہوجاتااِس پر سِتم یہ کہ کھانسی میں ”پکے راگوں“  کے سُر بھی شامل ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے پلاٹون کمانڈر کو، لیکچر روک کر، متاثرہ فرد کو کلاس سے باہر جاکر کھانسے کا شوق پورا کرنے کی اجازت دیتا۔ لیکن،”  چُھٹتی  کہاں ہے عادت منہ کو لگی ہوئی“ کے مصادق جب موقع ملتا تھا، ہم جُرم ضرور کرتے اور اْس وقت تو شدت سے بغاوت کی خواہش اُبھرتی جب کسی پلاٹون کمانڈر کو، اپنے سامنے سگریٹ پیتا دیکھتے۔
    وقار کی جملہ،تفصیل کے مطابق، جب ہم لوگ اندر چلے گئے، تو اچانک ایک پلاٹون کمانڈر، میجر ریاض شاہ نے چھاپہ مارا، اْن کا سایہ دیکھتے ہی، ماہرین نے سگریٹ زمین  پر ڈالے اور پیروں سے بجھا دئیے،  میجر صاحب نے برآمدے میں کھڑے لوگوں کو میدان میں نکالا،  تو انہیں جرم کے  واضح ثبوت نظر آئے، انہوں نے مجرموں کو پکڑنے کے لئے، پوچھا،
” جو سگریٹ پی رہا تھا وہ ایک قدم آگے آجائے“
تیس کے تیس افراد دم سادھے کھڑے رہے کوئی حرکت، نہیں ہوئی۔ میجر ریاض نے بتائے ہوئے طریقوں کے متعلق، سچ بولنے پر لیکچر دیا، تمام اخلاقیات، اسلامیات اور مبادیات کوبیچ میں شامل کیا، اور گویا ہوئے۔
    ”جنٹل مین کیڈٹس، یہ سگریٹ کے ٹوٹے بتا رہے ہیں کہ آپ میں سے کچھ کالی بھیڑیں اکیڈمی کے قوانین پر عمل نہیں کر رہیں، آپ لوگوں نے پاس آؤٹ ہونے کے بعد قیادت سنبھالنی ہے، ایک قیادت کے لئے اسلامی اور فوجی لحاظ سے سچا ہونا، نہایت ضروری ہے، کیوں کہ اس نے جنگ میں ایک تیس بہترین لڑاکا جوانوں کی پلاٹون کاکمانڈر بننا ہے، اس لئے اسے ہر موقع پر سچ بولنے کو فوقیت دینی ہے، میں آپ کو ایک موقع دیتا ہوں، کہ سگریٹ پینے والے  ایک قدم آگے آجائیں“
مجرمان کی اس ٹولی میں وہ بھی شامل تھے، جن کے پاس کوئی نہ کوئی، کیڈٹ عہدہ   کارپورل یا سارجنٹ کا  تھا، اور سمپل جنٹلمین کیڈٹ (رائفل مین) بھی تھے، عام کالجوں سے آئے ہوئے بھی تھے اور ملٹری کالج  کے تربیت یافتہ بھی، جو غالباً بہت زیادہ تربیت یافتہ ہوتے ہیں ، سب خاموش کھڑے تھے، میجر ریاض شاہ  دوبارہ گویا ہوئے۔
    ”جنٹل مین، میں اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک انسان کو جوتربیت والدین کی طرف سے ملتی ہے وہ اس کے مطابق عمل کرتا ہے، مجھے افسوس ہے کہ ہم آپ لوگوں میں آپ کے کردار کی یہ خرابی پہچاننے میں ناکام ہوگئے“۔
            تو قارئین،  میجر ریاض شاہ کے منہ سے، یہ الفاظ نکلتے ہی، صورت حال میں تبدیلی ہوئی، اور ہمارے روم میٹ، وقاراحمد سمیت بابر کمپنی کے سید محمد کلیم  نے ایک ایک قدم، آگے بڑھ کر،
”یس سر“ کا نعرہ  سلیوٹ کے ساتھ  مارا، میجرریاض شاہ نے حکم دیا کہ،
”کلاسز کے بعد، دونوں بٹالین کمانڈر کے دفتر کے سامنے پہنچ جاؤ“ 
            ہم نے اپنے، بیگ سے چیزیں نکال کر وقار کے جہیز کا سامان، جو  چھتیس اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے، مکمل کیا ، وقار، دوپہر  کی کردار سازی کی سزا پر روانہ ہوا، اور ہمیں غصے، نفرت اور بغاوت کے سمندر میں پھینک گیا، کہ اگر سگریٹ پینے والے دیگر کیڈٹس ( بشمول اپاینٹمنٹس ) غیرت، حمیت اور سچائی کی ذرا سی بھی رمق نہیں تھی تو اس خبیث کو، چیک ون ٹو مار کر آگے نکلنے کی کیا ضرورت تھے، اور میجر ریاض شاہ، کو باقی مجرموں کو بھی ان کے منہ سے نکلنے والی مہک سونگھ کر گرفتار کرنا چاہئیے تھا۔
احمق ، نہ باہر نکلتا ،  سزا ملتی تو سب کو ملتی،  وقار کردار سازی کے بعد واپس آیا تو پسینے میں تر تھا، رات کو وہ اخلاق سازی کے لئے روانہ ہوا،  اس کی واپسی کے بعد ہم دونوں دیر تک ، اس حکم کے اوپر باغیانہ تبصرہ کرنے کے بعد سو گئے۔
            دوسرے دن، انگلش کے دو پیریڈ تھے، پہلا  مضمون کا اور دوسرا پبلک سپیکنگ کا، میجر تصدق حسین، ایجوکیشن کے ماہر، ہمارے انگلش کے پلاٹون کمانڈر تھے اور ایک نہایت نفیس شخصیت تھے، اْس دن انگلش کا پیریڈ تو کم ہوا، وقار کا جرم وسزا پر بات ہوئی، ہم چوں کہ وقار کے روم میٹ تھے، لہذا ہم بولنے میں پیش پیش تھے،
میجر تصدق نے کہا، :خالد  پبلک سپیکنگ کے پیریڈ میں، ٹاپک ہوگا میں ٹاپک رکھوں گا اور پہلے سپیکر تم ہوگے"
 یہ پہلا پیریڈ تھا، تیسرا پیریڈ آیا، میجر تصدق نے ٹاپک دیا۔

"ہم پی ایم اے،میں سچ کیوں نہیں بولتے"
 ہماری ڈرائینگ اور کیلیگرافی اچھی تھی لہذا ہم نے بورڈ پر خوبصورتی بکھیری اور اپنی سیٹ پر بیٹھ کر اپنی تقریر کے اہم پوائنٹ، نوٹ کئے، ملٹری پلاٹون کمانڈر، میجر متین مہاجر تشریف لائے اور کلاس کے پیچھے میجر تصدق کے پاس بیٹھ گئے،
میجر تصدق نے کہا، ” خالد،“ 
اور جناب ہم، اندرونی غصے میں بھرے ہوئے، ڈائس پر پہنچے، بتائے اور سمجھائے ہوئے اصولوں کے مطابق، تقریر شروع کی، ہماری آنکھیں، کلاس سے گھوم کر، دونوں پلاٹون کمانڈرز پر جاتیں،
خدا جھوٹ نہ بلوائے ہم سے بیس فٹ کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے، میجر متین مہاجر کے کان ، ہمارے الفاظ کی تپش  سے سرخ ہونے شروع ہوئے، پھر چہرہ سرخ ہونا شروع ہوا، تین منٹ بعد ٹائمر نے ڈیسک بجایا ہم تقریر سمیٹ کر نیچے اترے اور پلاٹون کمانڈر کلاس سے باہر نکلے، سگریٹ لگائی، سگریٹ پی کر واپس کلاس میں آئے، باقی مقرر بھی ڈائس پر گئے اور انہوں نے بھی گل افشانی کی، پیریڈ ختم ہوا، پلاٹون کمانڈر کلاس سے چلے گئے،
میجر تصدق ڈائس پر آئے، سب مقرروں کے بارے میں بتایا کہ ، انہیں اپنی تقریر میں ،کیا کیا چیزیں انہیں بہتر کرنی ہیں،
اور مجھے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ” خالد، اچھا بولے ہو، لیکن اپنا  بوریا بستر تیار رکھو“ 
میجر تصدق کے جانے کے بعد وقار غصے ہوا۔
”تو یہ کیا بول رہا تھا خود کو بھٹو سمجھتا ہے؟
  تو تجھے کیا ضرورت تھی، میرا حوالہ دینے کی؟
سزا مجھے ملی تھی تجھے نہیں، اب پی ایم اے سے نکالا جائے گا، تو میرا نام لگے گا “، 
باقی سب بھی افسوس کرنے لگے کہ، تھرڈ ٹرم میں کون اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتا ہے،
میں نے پورے اعتماد سے وقار کو کہا،
”اگر سچ بولنا جرم ہے تو میں اکیڈمی سے باہر رہنا پسند کروں گا ، لیکن مجھے پوری امید ہے کہ تمھاری سزا ختم ہو جائے گی“۔
    پانچویں پیریڈ میں، میجر متین مہاجر  نے خود آکر بتایا کہ،
” کیڈٹ وقار احمد اور کیڈٹ سید کلیم کی سزا معاف کر دی گی ہے،کیوں کہ انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں سچ بولا ہے اور  

  ”نائم“  مجھے خوشی ہوئی،  تم اچھا بولے تھے۔    

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔