میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 21 فروری، 2014

جوتوں کا ڈبہ


ایک مرد اور عورت اپنی ساٹھ سالہ ازدواجی زندگی گذار چکے تھے ، انہوں نے زندگی کا بھرپور لطف اٹھایا ۔ ایک دوسرے سے ہر باتیں ، ہر واقعات اور ہر چٹکلے آپس میں سنائے ۔ سوائے کہ عورت نے اپنے شوہر کو کہا کہ وہ اس جوتے کے ڈبے کو کبھی نہ کھولے ۔ جو اسے کے کپڑوں کی الماری میں سب سے اوپر رکھا ہوا ہے 

ان ساٹھ سالوں میں شوہر نے بھی ساری زندگی اس ڈبے کی طرف دیکھا بھی نہیں ۔ اب دونوں بوڑھے ہو چکے تھے کہ ایک دن عورت سخت بیمار ہوگئی ، اس کےبچنے کی امید نہ رہی ۔ شوہر نے اس کو دوائی پلائی ،

تو اس نے شوہر سے کہا ،" ڈیئر تمھیں یاد ہے کہ میری الماری کے سب سے اوپر کے خانے میں ایک جوتے کا ڈبہ پڑا ہے جس کو میں نے تمھیں کھولنے سے منع کیا تھا "۔

" ہاں ، مجھے کچھ یاد تو آرہا ہے ۔ کیوں کیا ہوا ؟ " شوہر نے جواب دیا ۔

" وہ ذرا لانا " بیوی نے کہا ۔ شوہر اٹھ کر بیوی کی الماری کے پاس گیا اسے کھولا ، الماری کے سب سے اوپر کے خانے میں مختلف ، چھوٹے چھوٹے ڈبوں کے درمیان وہ ڈبا پڑا ہوا تھا ۔ شوہر نے ڈبہ نکالا اور بیوی کے پاس لے آیا ۔

" اسے کھولو " ۔ بیوی نے کہا ۔

شوہر نے ڈبہ کھولا ، تو اس میں جال میں لپٹی ہوئی دو قیمتی گڑیاں اور 95 ہزار ڈالر کے نوٹ پڑے تھے ۔ وہ حیران ہوا ۔

بیوی اس کی حیرانی دیکھ کر بولی ، " ڈئیر جب ہماری شادی ہوئی تو میری نانی نے مجھے خوشگوار شادی شدہ زندگی گزارنے کے بارے میں ایک نصیحت کی ، کہ جب مجھے تم پر غصہ آئے تو میں خاموش رہوں اور ایک گڑیا کو جال میں لپیٹ کر رکھ دوں ، تو ڈیئر یہ ڈبہ میں نے، اس لئے رکھا کہ وہ گڑیا اس میں رکھ دوں  "

شوہر ، جذباتی ہو گیا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں  کے دو قطرے نکل کر اس کے گالوں پر لکیر بناتے ہوئے جذب ہو گئے ۔ کیوں کہ ڈبے میں جال میں لپٹی ہوئی صرف دو گڑیاں تھیں ، تو کیا ان ساٹھ سالوں میں وہ صرف دو دفعہ اس کی حرکتوں پر غصے میں آئی ۔
یہ سوچ کا شوہر کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ اس نے پیار سے بیوی کے چہرے پر ہاتھ پھیرا ۔

لیکن ، ہنی ان دو قیمتی گڑیوں کا تو تم نے بتا دیا، لیکن یہ رقم کا کیا راز ہے ، یہ کہاں سے آئی ؟ " شوہر نے پوچھا ۔

بیوی نے مسکراتے ہوئے رسانیت سے جواب دیا ، " یہ گڑیوں کی فروخت سے جمع کی تھی " ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔