میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 16 فروری، 2014

اسلام میں داخلہ


ایک خوبصورت وعظ جو ہمارے ایک فیس بک کے دوست حنیف سمانا کے توسط سے پڑھنے کو ملی  -
جسے قاری حنیف ڈار نے تحریر کیا -
  

- میں حج پر جانے کی سعادت نصیب ہوئی 1986

ان دنوں میگنیٹک ٹونٹیاں تازی تازی چلی تھیں ! جونہی آپ نے لوٹا یا ہاتھ نیچے کیا سنسر نے سسٹم کو متحرک کر دیا اور پانی چل پڑا، ہاتھ ہٹایا تو پانی بند، یوں پانی کا ضیاع روکا جاتا تھا  - !

لوگ خاص کر پاکستان سے آنے والے دیہاتی ،ان جادوئی ٹونٹیوں کو دیکھ کر حیران پریشان تھے کہ یہ کیا طلسم ہے کہ ہاتھ نیچے کرو تو ٹونٹی کو پتہ چل جاتا ہے ، حاجی گاما ہاتھ دھونا چاہتا ہے ،  سبحان اللہ ! عورتیں خیموں میں اللہ کا ذکر چھوڑ طلسمی ٹونٹیوں کا ذکر کرتی نظر آتیں،، اور ان کا مشورہ تھا کہ یہ معجزہ انگریزوں کو دکھایا جائے تو وہ بھی سارے مسلمان ہو جائیں گےاور وہ تو کوئی پکا ابوجہل کا بیٹا انگریز ہو گا جو یہ یہ دیکھ کر بھی کلمہ نہ پڑھے -

  12 ذی الحج کی دوپہر کو کنکریاں مار کر واپس آئے تو کیمپ کا معلم باہر سر پکڑ کر بیٹھا تھا ! 
پوچھا ، "حاجی ایش حصل "   بھائی آپ کو کیا ہو گیا؟
کہنے لگا  ، "حاجی سای ٹونٹیاں اکھاڑ کر لے گئے ہیں "
 حاجیوں نے سوچا  ہو گا کہ بس جا کر دیوار میں ٹونٹی فٹ کر دیں گے اور رات دن گھڑے بھریں گے،انہیں کیا پتہ کے اس ٹونٹی سے پانی نکلنے کے پیچھے پورا سسٹم کام کر رہا تھا،صرف ٹونٹی کچھ نہیں  -
!
نبی کریمﷺ زمانہ جنگ میں تلوار ہاتھ میں لے کر اور اس پر ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے، جبکہ عام حالات میں عصا ہاتھ میں لے کر خطبہ دیا کرتے تھے،یوں عصا ہاتھ میں لے کر خطبہ دینا سنت ٹھہرا !
مگر یہ عصا اس ٹونٹی کا طرح ایک پارٹ تھا،اصل چیز اقتدار تھی جس کی نمائندگی یہ ڈنڈا یا عصا کرتا تھا


ہم مولوی دیہاتیوں کی طرح پورے سسٹم سے عصا توڑ کر لے آئے اور اسے منبر میں ٹھونک کر اب اس میں سے اقتدار پھوٹ نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں ،مگر اقتدار ہے کہ نکل کر نہیں دے رہا اور نہ قیامت تک نکلے گا !

بہتر یہ ہے کہ اس عصا کو سسٹم میں واپس لگایا جائے اور صاحب اقتدار کے ہاتھ میں دیا جائے تا کہ اس عصا کا کوئی فائدہ اس معاشرے کو بھی ہو !

ورنہ اس کی حیثیت جنرل ضیاء الدین بٹ کے صدر بازار کے کباڑی سے خریدے گئے اسٹاروں سے زیادہ کوئی نہیں جنہوں نے جنرل بٹ کو اقتدار تو نہیں دیا نواز شریف کو جیل اور جلاوطنی دے دی ،
 

اب اس ڈنڈے کو سسٹم میں کیسے لگایا جائے؟
اس کا آسان اور فوری طریقہ یہ ہے کہ گلی گلی کے جمعے ختم کر کے ایک بڑے قصبے میں جمعہ رکھا جائے، اس جمعے کا خطیب کوئی ایسا عالم ہو جو دینی علوم میں ماسٹر کی ڈگری رکھتا ہو اور دنیاوی علم سے بھی بہرہ ور ہو جیسے مفتی کاکا خیل صاحب ! اس خطیب کو میجسٹریٹ دفعہ 30 کے اختیارات سونپے جائیں ، اس کے اخراجات ان ہی بستیوں کی زکوۃ و عشر سے پورے کئے جائیں، اور وہ ان بستیوں کے تمام مسائل اور رفاہی کاموں کا محتسب بھی ہو،،پھر دیکھیں اس ڈنڈے میں کرنٹ اور جان آتی ہے کہ نہیں اور نظامِ عدل و قسط قائم ہوتا ہے کہ نہیں؟

نہ تو اس کے سامنے جھوٹی گواہی چلے گی اور نہ وہ جھوٹ بول کر کوئی چھٹی کر سکے گا،عدالت موقعے پر پہنچ کر اور بھیس بدل کر تحقیق کرے گی، اسلام اسی طرح بستی سے نکل کر تین برِ اعظموں میں پھیلا تھا !

ان خطیبوں کو سال کا قانونی کورس بھی کرایا جا سکتاہے ! الغرض اگر علماء آئندہ الیکشن میں اتفاقِ رائے سے اس پروگرام پر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کریں جو جماعت اس پروگرام کو منظور کرے ساری دینی قوتیں اس کو سپورٹ کریں،،

بس اسلام آیا کہ آیا -
 اس عمدہ تحریر پر میں نے جو کمنٹ دیا :
واہ سمانا جی واہ ! کیا اعلیٰ قسم کی سوچ پڑھنے کو ملی ۔ اللہ قادری صاحب کو جزائے خیر دے ۔


ہاں ، اسلام نہیں آئے گا ۔ کبھی نہیں آئے گا ، کیوں کہ جو چیز موجود ہو وہ کیسے آسکتی ہے ؟
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَن يَكْفُرْ‌ بِآيَاتِ اللَّـهِ فَإِنَّ اللَّـهَ سَرِ‌يعُ الْحِسَابِ ﴿آل عمران: 19﴾
یہ ہوگا آفاقی سچائیوں کے تحت اسلام میں داخلہ :-
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ﴿البقرة: 208)
عصا کی اہمیت :

قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي وَلِيَ فِيهَا مَآرِ‌بُ أُخْرَ‌ىٰ ﴿طه: 18

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔