میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 25 فروری، 2014

پہلے دن کی نوکری

ایک بہت بڑے سپر سٹور نے ، ملازمت کے لئے اشتہار دیا  اور ایک  نوجوان کو منتخب کیا ۔ مینیجر نے اسے مبارک باد دیتے ہوئے  ، اسے اس کا پہلا کام بتاتے ہوئے کہا ، " نوجوان  ! آپ کو پورے سٹور میں جھاڑو لگانا ہو گی  !

نوجوان نے حیرت سے  ، چالیس سالہ مینیجر کی طرف دیکھا ۔

اور ہکلاتے ہوئے بولا ،  " سر !  میں کالج گریجوئیٹ ہو ں " ۔

" اوہ  ، معذرت  ، میں سمجھ گیا ۔ میرے ساتھ آؤ  " یہ کہہ کر  مینیجر نوجوان کے ساتھ اپنے  اعلیٰ قسم کے آفیسر  سے باہر نکلا ، اور  کونے پر ایک ٹائلٹ میں داخل ہوا ، دروازے کے ساتھ والی الماری کا دووازہ کھولا ، وہاں سے بالٹی اور وائپر نکالا ، بالٹی کو پانے سے بھرا ، اس میں پوڈر ڈالا  اور  سامان اٹھائے ہوئے   باتھ روم سے باہرآیا ، نو جوان بھی پریشان اس کے ساتھ چل رہا  تھا ، باہر آکر  مینیجر نے بالٹی سے   پانی مگ میں نکال کر فرش پر ڈالا اور  وائیپر سے فرش صاف کرنے لگا   پچاس فٹ لمبا کوریڈور صاف کرنے کے بعد ، نوجوان سے مخاطب ہوا ۔
" میں  نے تمھاری عمر میں آکسفورڈ  سے  بزنس مینیجمنٹ کی گریجوئشن کی تھی "۔
 
نوجوا ن ، گریجوئیٹ نے ، مینیجر سے  وائپر لیا اور اپنے پہلے دن کی نوکری شروع کر دی ۔  


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔