میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 21 فروری، 2014

قطرے سے گہر ہونے تک

قطرے سے گہر ہونے تک 

خیالات کے بلبلوں کی زندگی اور ان کا حجم ، انسان کی ذہنی تربیت پر ہوتا ہے ۔

بے تحاشا خیالات ، چھوٹے بلبلے ۔
کم خیالات ، بڑے بلبلے ۔
توانائی کے یہ بلبلے ، خوابوں کو جنم دیتے ہیں ، خواب سے عمل تک ایک طویل راستہ ہوتا ہے ۔ جس کی یوں وضاحت کی جا سکتی ہے :-

• ENERGY CREATES DREAMS
• DREAMS CREATES THOUGHTS
• THOUGHTS CREATE BELIEFS
• BELIEFS CREATE ATTITUDES
• ATTITUDES CREATE EMOTIONS
• EMOTIONS CREATE MOTIVATION

یہاں تک تو سب انسان ساتھ چلتے ہیں ۔
اور اس سے آگے ۔ ۔ ۔ صرف تیس فیصد ہمت کرتے ہیں ۔

• ACTION PRODUCE RESULTS
• RESULTS DEPICTS PERSONALITY

قطرے کو گہر بننے کے یہ یہ دو یعنی “ عمل اور نتیجہ “ نہایت اہم ہیں ۔
 لیکن “ عمل اور نتیجہ “ توانائی سے بھرپور خوابوں کی بنیاد سے نمودار ہوتا ہے ۔
 
بچے کا خواب اور جوان کا خواب اور ادھیڑ عمر اور بوڑھوں کے خواب الگ الگ ہوتے ہیں ،
دانشور کے خواب الگ ، لیکن ہر خواب میں ذاتی خواہشات کی تکمیل کا عنصر ہوتا ہے ۔
 
لیکن آفاقی سچائیوں پر یقین رکھنے والا اپنے خوابوں کو دلیل کے ترازو پر پرکھنے کے بجائے ، ان سچائیوں پر پرکھتا ہے جو لازوال ہیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔