میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, فروری 23, 2014

انسانی ذات



انسانی ذات ، خودی اور تکبر کا مجموعہ " میں" ہے ۔

یہ اس وقت تک نہیں ٹھیک ہوسکتی جب تک آفاقی سچائیوں کی پابندی نہ کرے ،
آفاقی سچائیاں جو لازوال ہیں ۔
آفاقی سچائیاں جو ہر خطے کے لئے ایک ہیں ۔
آفاقی سچائیاں جو آفاق کی مرھونِ منت ہیں ۔ انسانوں کا ان کی تخلیق میں کوئی دخل نہیں ، ہاں یہ انسانوں کے لئے ہیں ۔


تم بھی جیو !

مجھے بھی جینے کا حق ہے ۔
میں تمھارا حق چھینوں ، مجھے سزا دو ۔
تم میرا حق چھینو تو اپنی سزا خود تجویز کرو ۔
کیوں ؟
کہ میرا حق تو لوٹ کر میرے ہی پاس آئے گا !



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔