میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 26 فروری، 2014

قد سے بڑا فیصلہ

صبح آٹھ بجے ،وہ اٹھا اس کا دل چاہا کہ وہ کہیں دور جائے ، اس نے تیاری کی بہترین سوٹ پہنا، ہاتھ میں چھڑی لی ، وسیع الشان گھرسے باہر نکل کر پورچ میں آیا ، جہاں دو چمچماتی اس سال کے ماڈل کی کاریں کھڑی تھیں ، اس نے  لان کی طرف دیکھا اس کے بیوی اپنی بہو اور چھوٹی  پوتی اور پوتے کے ساتھ بیٹھی تھیں ۔باقی بچے سکول گئے تھے  اور  ناشتہ کر رہی تھیں ، پوتا دوڑ کر آیا اور دادا سے لپٹ گیا ۔ وہ پوتے کو ساتھ لئے ہوئے  ، بیوی کی طرف بڑھا ۔ 
 کہاں کے ارادے ہیں ؟  بیوی نے پوچھا ۔
  "بس ذرا پرانی یادیں  تازہ کرنے کا پروگرام ہے    اس نے جواب دیا ۔
"جلدی آجانا "  ۔بیوی نے کہا ۔
" ہوں"- یہ کہتے ہوئے وہ ڈرائیو وے کی طرف بڑھا  ۔
ڈرائیور نے دروازہ کھولا وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا ، ڈرائیور نے کار  گیٹ سے باہر نکالی دربان نے  گیٹ بند کر دیا -
وہ  کام کرتے ہوئے تھک کر سڑک کے ساتھ بنی ہوئی حفاظتی دیوار پر بیٹھا تھا ، اس نے سامنے  خوبصورت سکول یونیفار م میں، بچے سکول میں داخل ہو رہے تھے  وہ حسرت سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا ، کیا میرا بچہ بھی  اس سکول میں پڑھ سکتا ہے ؟  اس نے سوچا  
وہ ایک ارادے سے اٹھا ، گیٹ کے چوکیدار کے پاس ، اپنا سامان رکھا اور سکول میں داخل ہوگیا ، چوکیدار اسے جانتا تھا ، وہ یہیں کام کرتا تھا ۔  وہ نپے تلے قدموں سے  پرنسپل کے آفس  کے پاس پہنچا، اور آفس میں داخل ہوا ۔
پرنسپل نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ، " کیا بات ہے ؟"
" میڈم ۔ میں اپنے بچے کو اس سکول میں داخل کروانا چاہتا ہوں  ! "وہ لجائی ہوئی آواز میں بولا ۔
" کیا  ؟ " میڈم کا منہ کھلا رہ گیا ۔ "باہر جاؤ  " وہ دھاڑی  ،" تمھاری ہمت کیسے ہوئی ، اپنے قد سے بڑی بات کرنے کی  ؟ نکلو یہاں سے "  
وہ افسردہ پرنسپل کے آفس سے باہر نکل آیا ۔  نہ اسے شرمندگی ہوئی نہ ہی ندامت اور نہ ہی اسے اپنے حقیر ہونے کا احساس ہوا  ، کیوں کہ ھوش سنبھالنے کے بعد وہ اس قسم کے حقارت بھری الفاظ ، دھتکار اور تمسخر سنتا آیا تھا  ۔
اس دن ان کی ، کچی بستی میں خوب صفائی ہوئی تھی ، کچی گلی میں چونا بھی ڈالا گیا تھا ۔ کچھ نے اپنے گھر کو دیواروں پر اپنی بساط کے مطابق چونا بھی کیا تھا کیوں کہ بڑے صاحب کی بیگم بھی آرہی تھی ، وہ دبلی پتلی خوبصورت سے خاتون ہمیشہ آتی ، ان کے ساتھ کچھ لمحے گذارتی ، ان کے بچوں کو   میٹھی گولیاں  اور دوسری چیزیں دیتی ، عورتوں سے ان کے مسائل سنتی  اس کے ساتھ آیا ہوا ایک آفیسر کاغذ پر نوٹ کرتا اوروہ چلی جاتی ، آج پھر بیگم صاحبہ آرہی  تھیں ۔ مرد سب ایک دری  پر بیٹھے تھے عورتیں دوسری طرف، بیگم صاحبہ حسب معمول ، آفیسر اور دو نرسوں کے ساتھ آئیں ، آج بچوں کو ٹیکے بھی لگناتھے ،  جاتے ہوئے بیگم صاحبہ نے  کہا کہ اگر کسی کو کوئی کام ہو تو وہ میرے پاس بلا جھجک آسکتا ہے ۔
وہ کام کرتا ہوا پھر سکول کے سامنے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بیگم صاحبہ بس سے اتریں ، وہ سلام کرنے بیگم صاحبہ کے پاس گیا ،" بیگم صاحبہ سلام " ہاتھ اٹھا کر سلام کیا ، بیگم صاحبہ نے سلام کا جواب دیا  ۔  اور اس کی سوالیہ کو سمجھتے ہوئے پوچھا ، " کچھ کہنا ہے ؟"
" بیگم صاحبہ ، میں اپنے بچے کو اس سکول میں پڑھانا چاہتا ہوں "  - وہ بولا ۔
بیگم صاحبہ نے بے اختیار مڑ کر سکول کی طرف دیکھا  ،  یہ سکول آفیسروں کے بچوں کے لئے تھا ۔
" تم سکول کی انتظامیہ کے پاس جاکر بات کیوں نہیں کرتے ؟" بیگم صاحبہ نے کہا ۔
 " میں گیاتھا ، مگر انہوں نے انکار کر دیا ، یقین مانیں  میں سکول کی فیس بھی پوری دوں گا اور میرا بچہ ، بہترین لباس میں سکول آئے گا ، اگر وہ کبھی گندہ ہوا تو بے شک اسے سکول سے نکال دینا"  وہ پورے اعتماد سے بولا ۔
اس کے لہجے میں بیگم صاحبہ نے  ایک عزم دیکھا  ، وہ سکول میں چلی گئی ان کے اصرار پر بچے کو سکول میں داخلہ مل گیا ۔
وہ جب تمام بنگلوں کی صفائی کرنے کے بعد ، سکول کے سامنے سڑک کی صفائی کرتا ہوا تھک کر بیٹھتا تو اس کا بچہ بہترین سکول یونیفارم میں اپنی ماں کے ساتھ  سڑک پر آتا دکھائی دیتا ، اور سکول میں داخل ہو جاتا  ،و ہ بچہ ہمیشہ لباس کی صفائی کے پانچ نمبر لیتا ہوا آہستہ آہستہ اگلی کلاس میں جاتا رہا ، اس نے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا تو وہ مٹھائی لے کر بیگم صاحبہ کے پاس گیا ۔ بیگم صاحبہ نے مبارکباد دی ، اس  نے شکریہ ادا کیا  اور پوچھا ، " مائیکل ،کیا اب بیٹے کو پی اے ایف میں ائر مین بھرتی کرواؤ گے " 
مائیکل  نے کہا ، "نہیں بیگم صاحبہ  میں اسے ڈاکڑ بنوانا چاہتا ہوں  "
ایف ایس سی ، پری میڈیکل میں مائیکل کے بیٹے نے  اسی فیصد نمبر لئے  تو مقامی چرچ نے اسے سکالر شپ پر میڈیسن کی تعلیم کے لئے اٹلی بھیجا ۔ اس کا بیٹا اٹلی سے  بہترین ڈاکٹر بن کر آیا  اور لاہور میں پریکٹس شروع کر دی ۔
اچانک پاس سے گذرتی ہوئی بس کا ہارن بجا وہ ماضی سے حال میں آگیا ،  سکول کے سامنے اسی منڈیر پر بیٹھا وہ سوچ رہا تھا کہ اگر ، مسز سیسل چوہدھری اس کے لئے سکول انتظامیہ کو قائل نہ کرتیں تو ، آفیسروں اور جوانوں کے گھر اور بیرکیں  صاف کرنے والے سوئیپر کے بیٹے کو ، پی اے ایف سکول میں داخلہ کیسے ملتا ، صرف اس کاہی نہیں بلکہ اور دوسرے سیپروں کے بچے بھی  اسی پی اے ایف سکول سے پڑھ کر پاکستان کی ترقی کی دوڑ میں  ، بیگم سیسل چوہدری کی وجہ سے شامل ہوئے ۔

وہ وہاں سے اٹھ کر چرچ گیا فادر سے ملا اور پڑھنے والے بچوں کے لئے ہر سال کی طرح آج بھی اس نے حصہ ڈالا کیوں کہ آج ہی کے دن تو اس کا بچہ سکول میں داخل ہوا تھا ۔ وہ ہر سال اپنی بیوی اور بچوں کو بتائے بغیر ، یہاں آتا اور سڑک کے کنارے اسی تھڑے پر بیٹھتا اور خدا کا شکر ادا کرتا  اور دعا کرتا  کہ خدا  بیگم سیسل چوہدری اور اس کے شوہر کو اپنی جنت میں ایک ساتھ رکھے اس کے بعد وہ آسمان کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلاتا ، اسے یقین ہے کہ بیگم سیسل چوہدری کی روح  اسے دیکھ کر خوش ہو رہی ہوگی  کہ اب مائیکل کے پوتوں اور پوتیوں  کو   کسی اچھے سکول  میں داخل کروانے کے لئے  کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے گا  ۔   اس  نیک دل خاتون نے جو نیکی کی تھی وہ کئی ہزار گنا طاقتور درخت کے روپ میں خدا کی جنت میں اس پر سایہ کرتی ہے ۔
 
 
 



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔