میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 21 فروری، 2014

مرزا غالب کی چٹکیاں


مرزا غالب 27 دسمبر 1797ءکو آگرہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آباء واجداد کا پیشہ تیغ زنی اور سپہ گری تھا۔ انہوں نے اپنا پیشہ انشاءپردازی اور شعر و شاعری کو بنایا اور ساری عمر اسی شغل میں گزار دی۔
تیرہ برس کی عمر میں غالب کی دہلی کے ایک علم دوست گھرانے میں شادی ہوئی اور یوں غالب دلی چلے آئے جہاں انہوں نے اپنی ساری عمر بسر کردی۔ غالب نے اپنی زندگی بڑی تنگ دستی اور عسرت میں گزاری مگر کبھی کوئی کام اپنی غیرت اور خودداری کے خلاف نہ کیا۔ 1855ءمیں ذوق کے انتقال کے بعد بہادر شاہ ظفر کے استاد مقرر ہوئے جن کے دربار سے انہیں نجم الدولہ دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے۔ جب 1857ءمیں بہادر شاہ ظفر قید کرکے رنگون بھیج دیئے گئے تو وہ نواب یوسف علی خاں والی   رام پور کے دربار سے وابستہ ہوگئے جہاں سے انہیں آخر عمر تک وظیفہ ملتا رہا۔
غالب فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے عظیم شاعر تھے جتنی اچھی شاعری کرتے تھے اتنی ہی شاندار نثر لکھتے تھے۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ نثر نگاری میں بھی ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ غالب سے پہلے خطوط بڑے مقفع اور مسجع زبان میں لکھے جاتے تھے انہوں نے اسے ایک نئی زبان عطا کی اور بقول انہی کے ”مراسلے کو مکالمہ بنادیا“۔
مرزا غالب نے 15 فروری 1869ءکو دہلی میں وفات پائی اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔


ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں __ اور
 غالب کی چٹکیاں ۔
جب مرزا غالب قید سے چھوٹ کر آئے تو میاں کالے صاحب کے مکان میں آ کر رہے تھے۔ ایک روز میاں صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے آ کر قید سے چھوٹنے کی مبارکباد دی۔
مرزا نے کہا: کون بھڑوا قید سے چھوٹا ہے۔ پہلے گورے کی قید میں تھا۔اب کالے کی قید میں ہوں
۔
مشہورِ زمانہ ٹی وی ڈرامہ ”مرزا غالب“ میں اسد اللہ خاں غالب کا ایک شخص سے دلچسپ مکالمہ۔ دیکھو میاں! شکایت ہم سے نہیں خود سے کرو۔ قومیں بادشاہوں سے نہیں عوام سے بنتی ہیں اور آپ اگر آج بھی کبوتر نہ اڑا رہے ہوتے تو یہ قوم کچھ اور ہوتی، یہ ملک کچھ اور ہوتا۔ جاؤ، کبوتر اڑاؤ۔

مرزا  غالب رمضان کے مہینے میں دہلی کے محلے قاسم جان کی ایک کوٹھری میں بیٹھے پچیسی کھیل رہے تھے. میرٹھ سے ان کے شاگرد مفتی شیفتہ دہلی آئے، تو مرزا صاحب سے ملنے گلی قاسم جان آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رمضان کے متبرک مہینے میں مرزا پچیسی کھیل رہے تھے۔
انہوں نے اعتراض کیا : “مرزا صاحب ہم نے سنا ہے کہ رمضان میں شیطان بند کر دیا جاتا ہے۔“
مرزا غالب نے جواب دیا “مفتی صاحب آپ نے ٹھیک سنا ہے۔ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے، وہ کوٹھری یہی ہے۔“

ایک روز غالب نے اپنے شاگردوں کو ہدایت کی۔
جوں ہی میری روح جسدِ خاکی کو چھوڑے، تم بھاگ کر کہیں سے پرانا کفن لانا اور مجھے اس میں لپیٹ کر دفنا دینا۔
ایک شاگرد بولا، استادِ محترم، یہ تو بتائیے، اس سے آپ کو کیا فائدہ پہنچے گا۔
غالب نے کہا، کم بخت اتنی سی بات بھی نہیں سمجھے کہ منکر نکیر تشریف لائیں گے تو پرانے کفن کو دیکھتے ہی سوال جواب کیے بغیر ہی لوٹ جائیں گے، کیونکہ پرانا کفن دیکھ کر وہ سمجھیں گے کہ اس جگہ غلطی سے دوبارہ آ گئے ہیں۔

ایک دفعہ مرزا غالب گلی میں بیٹھے آم کھا رہے تھے ان کے پاس ان کا ایک دوست بھی بیٹھا تھا جو کہ آم نہیں کھاتا تھا اسی وقت وہاں سے ایک گدھے کا گزر ہوا تو غالب نے آم کے چھلکے گدھے کے آگے پھینک دیے گدھے نے چھلکوں کو سونگھا اور چلتا بنا تو
غالب کے دوست نے سینا پھلا کر کہا دیکھا مرزا گدھے بھی آم نہیں کھاتے
مرزا نے بڑے اطمینان سے کہا کہ جی ہاں دیکھ رہا ہوں گدھے آم نہیں کھاتے.

ریاست رام پور کے نواب کلب علی خان انگریز گورنر سے ملاقات کیلئے بریلی گئے تو مرزا اسد اللہ خان غالب بھی انکے ہمراہ تھے، انہیں دلی جانا تھا بوقت روانگی نواب صاحب نے مرزا سے کہا۔۔
مرزا صاحب الوداع خدا کے سپرد۔
مرزا غالب جھٹ بولے۔
حضرت خدا نے تو مجھے آپ کے سپرد کیا تھا، اب آپ الٹا مجھے خدا کے سپرد کر رہے ہیں۔

ایک روز سید سردار میرزا کے ہاں تشریف لائے جب تھوڑی دیر کے بعد جانے لگے تو مرزا شمع دان لے کر لب فرش تک آئے تاکہ وہ روشنی میں جوتا دیکھ کر پہن لیں۔ انہوں نے کہا "۔۔۔ قبلہ و کعبہ آپ نے اس قدر زحمت فرمائی میں اپنا جوتا پہن لیتا"
مرزا ہنس کر بولے ۔۔۔ بھئی میں آپ کا جوتا دکھانے کو شمع دان نہیں لایا بلکہ اس احتیاط سے لایا ہوں کہیں آپ میرا جوتا نہ پہن جائیں
۔

غدر کے بعد مرزا غالب بھی قید ہو گئے۔ ان کو جب وہاں کے کمانڈنگ آفیسر کرنل براؤن کے سامنے پیش کیا گیا تو کرنل نے مرزا کی وضع قطع دیکھ کر پوچھا۔
ویل، ٹم مسلمان ہے۔
مرزا نے کہا، جناب، آدھا مسلمان ہوں۔
کرنل بولا۔ کیا مطلب؟
مرزا نے کہا، جناب شراب پیتا ہوں، سؤر نہیں کھاتا۔

ایک مرتبہ جب ماہِ رمضان گزر چکا تو بہادر شاہ ظفر نے مرزا صاحب سے پوچھا کہ: مرزا، تم نے کتنے روزے رکھے؟

غالب نے جواب دیا: پیر و مرشد ، ایک نہیں رکھا۔

غالب کی مفلسی کا زمانہ چل رہا تھا، پاس پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی اور قرض خواہ مزید قرض دینے سے انکاری۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک شام انکے پاس پینے کیلیے بھی پیسے نہ تھے، مرزا نے سنِ شعور کے بعد شاید ہی کوئی شام مے کے بغیر گزاری ہو، سو وہ شام ان کیلیے عجیب قیامت تھی۔
مغرب کی اذان کے ساتھ ہی مرزا اٹھے اور مسجد جا پہنچے کہ آج نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔ اتنی دیر میں انکے کے دوست کو خبر ہوگئی کہ مرزا آج "پیاسے" ہیں اس نے جھٹ بوتل کا انتظام کیا اور مسجد کے باہر پہنچ کر وہیں سے مرزا کو بوتل دکھا دی۔
مرزا، وضو کر چکے تھے، بوتل کا دیکھنا تھا کہ فورا جوتے پہن مسجد سے باہر نکلنے لگے۔ مسجد میں موجود ایک شناسا نے کہا، مرزا ابھی نماز پڑھی نہیں اور واپس جانے لگے ہو۔
مرزا نے کہا، قبلہ جس مقصد کیلیے نماز پڑھنے آیا تھا وہ تو نماز پڑھنے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے اب نماز پڑھ کر کیا کروں گا۔

مرزا غالب شطرنج کے بڑے شوقین تھے۔ مولانا فیض الحسن سہارنپوری دلی میں نئے نئے آئے تھے۔ غالب کو پتا چلا کہ وہ بھی شطرنج کے اچھے کھلاڑی ہیں تو انہیں دعوت دی اور کھانے کے بعد شطرنج کی بساط بچھا دی۔ ادھر سے کچھ کوڑا کرکٹ ڈھونے والے گدھے گزرے تو
مولانا نے کہا “دلی میں گدھے بہت ہیں!“
مرزا غالب نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولے “ہاں بھائی، باہر سے آ جاتے ہیں۔“







دل ھی تو ھے نہ سنگ و خشت
درد سے بھر نہ آئے کیوں؟

روئیں گے ھم ھزار بار
کوئی ھمیں ستائے کیوں؟

دَیر نہیں، حرم نہیں
در نہیں، آستاں نہیں

بیٹھے ھیں رہ گزر پہ ھم
غیر ھمیں اُٹھائے کیوں؟

جب وہ جمالِ دل فروز
صورتِ مہرِ نیم روز

آپ ھی ھو نظارہ سوز
پردے میں منہ چھپائیں کیوں؟

دشنہء غمزہ جاں ستاں
ناوکِ ناز بے پناہ

تیرا ھی عکس رُخ سہی
سامنے تیرے آئے ھی کیوں؟

قیدِ حیات و بندِ غم
اصل میں دونوں ایک ھیں

موت سے پہلے آدمی
غم سے نجات پائے کیوں؟

حسن اور اس پہ حسنِ ظن
رہ گئی بوالہوس کی شرم

اپنے پہ اعتماد ھے
غیر کو آزمائے کیوں؟

واں وہ غرورِ عزّ و ناز
یاں یہ حجابِ پاس وضع

راہ میں ھم ملیں کہاں
بزم میں وہ بلائے کیوں؟

ھاں وہ نہیں خدا پرست
جاؤ وہ بے وفا سہی

جس کو ھوں دین و دل عزیز
اس کی گلی میں جائے کیوں؟

غالب خشتہ کے بغیر
کون سے کام بند ھیں

روئیے زار زار کیا؟
کیجئے ھائے ھائے کیوں؟




ﺟﮩﺎﮞ ﺗﯿﺮﺍ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺧﯿﺎﺑﺎﮞ ﺧﯿﺎﺑﺎﮞ ﺍِﺭﻡ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﺩﻝ ﺁﺷﻔﺘﮕﺎﮞ ﺧﺎﻝِ ﮐﻨﺞِ ﺩﮨﻦ ﮐﮯ
ﺳﻮﯾﺪﺍ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺮ ﻋﺪﻡ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﺗﺮﮮ ﺳﺮﻭِ ﻗﺎﻣﺖ ﺳﮯ ﺍﮎ ﻗﺪ ﺁﺩﻡ
ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﻓﺘﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮐﺮ ﺍﮮ ﻣﺤﻮ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﺍﺭﯼ
ﺗﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﺗﻤﻨّﺎ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﺳﺮﺍﻍِ ﺗُﻒ ﻧﺎﻟﮧ ﻟﮯ ﺩﺍﻍِ ﺩﻝ ﺳﮯ
ﮐﮧ ﺷﺐ ﺭَﻭ ﮐﺎ ﻧﻘﺶِ ﻗﺪﻡ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ

ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻓﻘﯿﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﮨﻢ ﺑﮭﯿﺲ ﻏﺎﻟﺐ
ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﮯ ﺍﮨﻞ ﮐﺮﻡ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
                                                                                                                                     



وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

فرصتِ کاروبارِ شوق کِسے
ذوقِ نظارۂ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
شورِ سودائے خطّ و خال کہاں

تھی وہ اِک شخص کے تصّور سے
اب وہ رعنائیِ خیال کہاں

ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں‌ طاقت، جگر میں حال کہاں

ہم سے چُھوٹا قمار خانۂ عشق
واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں

فکرِ دُنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ غالب
وہ عناصر میں اعتدال کہاں



عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی
میری وحشت، تِری شہرت ہی سہی

قطع کیجے نہ، تعلّق ہم سے
کچھ نہیں ہے، توعداوت ہی سہی

میرے ہونے میں، ہے کیا رُسوائی؟
اے، وہ مجلس نہیں، خلوت ہی سہی

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی

اپنی ہستی ہی سے ہو، جو کچھ ہو
آگہی گر نہیں، غفلت ہی سہی

عمر ہر چند کہ ہے برق خرام
دل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق، مصیبت ہی سہی

کچھ تو دے، اے فلکِ نا انصاف
آہ وفریاد کی رُخصت ہی سہی

یار سے چھیڑ چلی جاے، اسد
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

کسی کو دے کے دل کوئی
نوا سنجِ فغاں کیوں ہو

نہ ہو جب دل ہی سینے میں
تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے
ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں

سبک سر بن کے کیا پوچھیں
کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو

کِیا غم خوار نے رسوا
لگے آگ اس محبّت کو

نہ لاوے تاب جو غم کی
وہ میرا راز داں کیوں ہو

وفا کیسی کہاں کا عشق
جب سر پھوڑنا ٹھہرا

تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی
سنگِ آستاں کیوں ہو

قفس میں مجھ سے
رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم

گری ہے جس پہ کل بجلی
وہ میرا آشیاں کیوں ہو

یہ کہہ سکتے ہو
"ہم دل میں نہیں ہیں" پر یہ بتلاؤ

کہ جب دل میں تمہیں تم ہو
تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو

غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ
دیکھو جرم کس کا ہے

نہ کھینچو گر تم اپنے کو
کشاکش درمیاں کیوں ہو

یہ فتنہ آدمی کی
خانہ ویرانی کو کیا کم ہے

ہوئے تم دوست جس کے
دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہی ہے آزمانا تو
ستانا کس کو کہتے ہیں

عدو کے ہو لیے جب تم
تو میرا امتحاں کیوں ہو

کہا تم نے کہ کیوں ہو
غیر کے ملنے میں رسوائی

بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو
پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو

نکالا چاہتا ہے کام کیا
طعنوں سے تُو غالب

ترے بے مہر کہنے سے
وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

وہ فراق اور وہ وصال کہاں
وہ شب و روز و ماہ و سال کہاں

فرصت کاروبار شوق کسے
ذوق نظارہ جمال کہاں

دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا
شور سودائے خط وخال کہاں

تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائی خیال کہاں

ایسا آساں نہیں لہو رونا
دل میں طاقت جگر میں حال کہاں

ہم سے چھوٹا قمار خانہ عشق
واں جو جاویں ، گرہ میں مال کہاں

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں
میں کہاں اور یہ وبال کہاں

مضمحل ہو گئے قویٰ" غالب"
وہ عناصر میں اعتدال کہاں


دھوتا ہوں جب میں پینے کو
اس سیم تن کے پاؤں

رکھتا ہے ضد سے
کھینچ کے باہر لگن کے پاوں

دی سادگی سے جان
پڑوں کوہکن کے پاؤں

ہیہات! کیوں نہ ٹوٹ گئے
پیر زن کے پاؤں

بھاگے تھے ہم بہت
سو اس کی سزا ہے یہ

ہو کر اسیروں دابتے ہیں
راہزن کے پاؤں

شب کو کسی کے خواب میں
آیا نہ ہو کہیں

دکھتے ہیں آج اس
بتِ نازک بدں کے پاؤں

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اُس کی گردن پر
وہ خوں، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

بھر م کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پرپیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلے
جو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالم
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے

کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظ
پر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے·



پھر ہوا وقت کہ ہو بال کُشا موجِ شراب
دے بطِ مے کو دل و دستِ شنا موجِ شراب

پوچھ مت وجہ سیہ مستئِ اربابِ چمن
سایۂ تاک میں ہوتی ہے ہَوا موجِ شراب

جو ہوا غرقۂ مے بختِ رسا رکھتا ہے
سر پہ گزرے پہ بھی ہے بالِ ہما موجِ شراب

ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
موجِ ہستی کو کرے فیضِ ہوا موجِ شراب

چار موج اٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سو
موجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب

جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
دے ہے تسکیں بَدَمِ آبِ بقا موجِ شراب

بس کہ دوڑے ہے رگِ تاک میں خوں ہو ہو کر
شہپرِ رنگ سے ہے بال کشا موجِ شراب

موجۂ گل سے چراغاں ہے گزرگاہِ خیال
ہے تصوّر میں ز بس جلوہ نما موجِ شراب

نشّے کے پردے میں ہے محوِ تماشا
ۓ دماغ
بس کہ رکھتی ہے سرِ نشو و نما موجِ شراب

ایک عالم پہ ہیں طوفانئِ کیفیّتِ فصل
موجۂ سبزۂ نوخیز سے تا موجِ شراب

شرحِ ہنگامۂ مستی ہے، زہے! موسمِ گل
رہبرِ قطرہ بہ دریا ہے، خوشا موجِ شراب

ہوش اڑتے ہیں مرے، جلوۂ گل دیکھ، اسدؔ
پھر ہوا وقت، کہ ہو بال کُشا موجِ شراب

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔