میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 21 فروری، 2014

قائد اعظم کی اہلیہ رتی جناح

   قائد اعظم کی اہلیہ رتی جناح  

رتی جناح 20 فروری 1900ءکو بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ قائداعظم محمد علی جناح ان کے والد سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں شامل تھے۔ ان کی شخصیت نے رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی قربت محبت میں بدل گئی۔ 18 اپریل 1918ءکو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد خجندی کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آگئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔

یہ وہ زمانہ جب قائداعظم اپنی سیاسی سرگرمیوں میں بے انتہا مصروف تھے اور اکثر انہی مصروفیات کی وجہ سے شہر سے باہر بھی رہا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں میاں بیوی نے اختلافات رونما ہونے لگے اور ایک وقت وہ آیا جب رتی اپنا گھر چھوڑ کر ایک ہوٹل میں منتقل ہوگئیں، 1928ءمیں وہ شدید بیمار پڑیں اور علاج کے لیے پیرس چلی گئیں۔ قائداعظم کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ بھی ان کی تیمارداری کے لیے پیرس پہنچ گئے اور ایک ماہ تک ان کے ساتھ رہے۔ یوں ان دونوں کے تعلقات ایک مرتبہ پھر بحال ہوگئے۔ چند ماہ بعد رتی جناح وطن واپس آگئیں مگر ان کی طبیعت نہ سنبھل سکی اور 20 فروری 1929ءکو ان کی 29 ویں سالگرہ کے دن ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ بمبئی میں خوجہ اثنا عشری کمیونٹی کے آرام باغ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل ڈن شاپٹیٹ کی اکلوتی بیٹی حسین بیٹی رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا ۔ ڈن شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پرقوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا ۔ ان میں بیرسٹر محمد علی جناح بھی تھے ۔سترہ سالہ رتن کو جنہوں گھر کے لوگ پیار سے رتُی کہہ کر پکارتے تھے ۔

لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹ بوٹ والے جناح کی پر مغز بحثوں نے اتنا متاثر کیا کہ وہ انہیں پسند کرنے لگیں ۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتُی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی اور وہ بھی ان سے کشش محسوس کرنے لگے تھے ۔1917کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈن شا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہوئی چاہئیں ۔

عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈن شا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا ۔بس پھر کیا تھا ، آتش پرست ڈن شا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی ۔ ڈن شا نے رتُی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگادی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی ۔

عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس ملاقات پر پابندی لگادی لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہوگی ۔جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ رتُی کا انتظار کیا اس درمیان جناح اور رتی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے ۔ 20فروری1918کو پیٹیٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں ۔ ڈن شا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی ۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈن شانے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرادی ۔ اس کے بعد ڈن شا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا ۔19اپریل1918کے روزنامہ اسٹیٹ مین میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی ۔ رتی کا اسلامی نام مریم رکھا گیا تھا    -

جناح اور رتی کی محبت کی نشانی ان کی اکلوتی بیٹی 14 اگست 1919 کو پیدا ہوئی تھی 28 سال بعد ٹھیک اسی تاریخ کو پاکستان کا جنم ہوا تھا ۔ جناح اور رتی کی یہ باغی محبت زیادہ دنوں برقرار نہ رہی کیونکہ جناح رتی کے والد سے صرف تین سال چھوٹے تھے اور رتی سے تقریبا پچیس سال بڑے تھے ۔دونوں کے ذوق وشوق میں کافی فرق تھا ۔ جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سےاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا ۔بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ رتی نے اسے جناح کی بے التفاقی تصور کیا۔

شادی کے دس سال بعد 1928میں، جب جناح  53 سال کے تھے ، تو  مریم (رتی)   نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کرکے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں ۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے ۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی ہو گئی   ( ٹی بی کے یہ جراثیم جناح میں بھی سرایت کر گئے )  ۔  رتی کی ماں نے ان کا علاج یورپ لے جا کر کرایا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی غرض کہ رتی نے جس مہینے اور جس تاریخ کو جنم لیا تھا اسی مہینے اسی تاریخ کو وہ موت سے ہم آغوش ہو ئیں ۔


ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے ۔بتایا جاتا ہے کہ ان کی موت کے بعد جناح جب بھی ممبئی میں ہوتے تو وہ ہر جمعرات کو اپنی    بیوی کی قبر پر حاضر ہوتے تھے ۔

رتی جناح کاجناح کے نام آخری یادگار خط

’’پیارے ! تم نے (میرے لیے) جوکچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حِسّوں نے میرے رویّے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے… پیارے ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے) جیسے کہ میں پہنچ چکی، تو تب انسان (اپنی زندگی) کے خوش کن اور مہربان لمحے ہی یاد رکھتا ہے، بقیہ لمحات موہومیت کی چھپی، اَن چھپی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کوشش کرکے مجھے ایسے پھول کی حیثیت سے یاد رکھنا جو تم نے شاخ سے توڑا، ویسا نہیں جو جوتے تلے کچل دیا جائے۔
’’پیارے! (شاید) میں نے زیادہ تکالیف اس لیے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔ میرے غم و اندوہ کی پیمائش (اسی لیے) میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیے۔ ’’پیارے! میں تم سے محبت کرتی ہوں… مجھے تم سے پیار ہے… اور اگر میں تم سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید تمھارے ساتھ ہی رہتی… جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کرلے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہوجاتا ہے۔ ’’میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے تم سے محبت کی ہے کہ کم ہی مردوں کو ایسا پیار ملا ہوگا۔ میری تم سے صرف یہی التجا ہے کہ (ہماری) محبت میں جس اَلم نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہوجائے۔
’’پیارے شب بخیر اور خدا حافظ۔
رتی


بھارتی اور مغربی مؤرخین اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قائداعظم نے رتی جناح کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا۔ وہ ان سے بے توجہی برتتے اور اپنی انا کے خول میں بند رہتے لیکن رتی جناح کا آخری خط سبھی غیرمسلم مؤرخین کے دلائل رد کرنے کو کافی ہے۔ اگرچہ قائد اور رتی کی داستان نشیب و فراز سے ضرور پْر ہے،لیکن اس میں کہیں بھی قائدِاعظم کی بے توجہی نہیں ملتی-

نئی دہلی میں ایک لنچ کے موقعے پر قائد اعظم محمد علی جناح اپنی بیگم رتی جناح کے ساتھ مدعو تھے۔ اس موقع پر لارڈ ریڈنگ مسز جناح سے باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے کہ
“مسز جناح میں آپ کو کیسے بتاؤں کہ مجھے جرمنی جانے کی کتنی تمنا ہے ، لیکن افسوس کہ میں جا نہیں سکتا ۔”

مسز جناح نے پوچھا “آخر آپ وہاں کیوں نہیں جا سکتے؟”

لارڈ ریڈنگ نے جواب دیا “اصل بات یہ ہے کہ جرمن ہم برطانوی لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔”

رتی جناح فوراً بولیں”پھر آپ ہندوستان کیسے چلے آئے؟”


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔