میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 12 مارچ، 2014

الکتاب اورعَلَّمَ الکِتَاب-1


 

أعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ  
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْم
  
ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَ‌يْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ﴿2 سورة البقرة - 2
وہ  ”الکتاب“،  کہ المتقین کی ہدایت کے لئے، اِس میں کوئی ریب نہیں۔

أَفَلَا يَتَدَبَّرُ‌ونَ الْقُرْ‌آنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ‌ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرً‌ا ﴿83سورة النساء-3
کیا یہ لوگ  ”ا لقرآن“  میں تدبر نہیں کرتے؟ اور اگر وہ غیر اللہ کی طرف سے ہوتا تو بے شک وہ اس میں بہت اختلاف پاتے۔

          اللہ تعالی کے مطابق القرآن  (خاص پڑھائی)  میں کوئی اختلاف نہیں کیوں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر اس میں ہم کو اختلاف مل رہا ہے تووہ ہمارے علمی فہم و  تدّبر کا اختلاف ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کسی مسلمان کوالقرآن کی عربی تلاوت میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ملے گا  اگر کسی کو کوئی اختلاف ملا تووہ ”کتاب اللہ“ کے ترجمہ میں ہو گا اور وہ ترجمہ ”من اللّٰہ“ !  نہیں  بلکہ”من دون اللّٰہ“!  ہے گویا کسی بھی ترجمے کو ہم ”کلام اللہ“ نہیں کہہ سکتے ہاں البتہ کلام اللہ کا ترجمہ کہہ سکتے ہیں۔ ترجمے کے فرق کو اس وقت تک نہیں پکڑا جاسکتا جب تک مترجم نے آیت جس کا ترجمہ کیا ہے سامنے نہ پیش کی ہو۔
          کتاب اللہ“ جسے عام فہم میں ”قران مجید“ کہا جاتا ہے۔
 عربی میں لکھی ہوئی ہے۔ ”کتاب (تحریری)  اور  قرآن(پڑھائی) “ ، 
”کتاب اللہ“  میں پائے جانے والے دو ایسے الفاظ ہیں جن کا آپس میں نہایت قریبی تعلق ہے۔ جن کے بارے میں آگے وضاحت ہو جائے گی۔
          مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کو سیکھنا نا ممکن نہیں تو کم از کم مشکل ضرور ہے۔ کچھ زبانیں ایسی ہوتی ہیں جو آسان ہوتی ہیں جو آسان ہوتی ہیں اس کی وجہ متماثل الفاظ ہوتے ہیں جو دوسری زبان میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ایک زبان دوسری زبان سے یکسر مختلف ہو تو مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ مثلاََ، ایک چینی زبان  بولنے والے کو عربی‘ اردو یا انگلش سیکھنے میں کافی وقت لگانا پڑے گا۔ مگر اردو بولنے والے کو عربی اور فارسی زبانیں سیکھنے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اردو زبان میں عربی اور فارسی کے الفاظ کی بہتات ہے جو فرق ہے وہ تلفّظ کا ہے۔
          ہر زبان میں الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے جو ایک ہی مفہوم کو مختلف طریقے سے ادا کرنا ہے۔ لیکن ہر زبان کے کچھ قواعد ہ ضوابط ہو تے ہیں کہ جملے کے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے مخصوص مترادف (Synonym) کو جملے میں استعمال کیا جائے تو جملے کا مطلب سمجھنے والے کو غلط معنی کی طرف لے جا تا ہے۔ مثلاََ اردو زبان میں ”مسلسل“ کے لئے مختلف ہم معنی الفاظ (synonyms) لگاتار‘ متواتر‘ پے درپے‘ یکے بعد دیگرے‘ غیر منقطع‘ سلسلہ وار‘ متصل اور زاروقطار۔ یہ تمام الفاظ کسی ایک جملے میں ہم نہیں استعمال کر سکتے۔ جملے کے اعتبار سے ہر لفظ اپنے اسی جملے میں زیادہ بہتر معنی ادا کرے گا۔
٭-  وہ زارو قطار رو رہا تھا۔
٭-   اس نے لگا تار خطوط لکھے۔
٭-  وہ یکے بعد دیگرے پیغامات بھجواتا رہا۔
٭-   صبح سے متواتر بارش ہو رہی ہے۔
٭-   اس نے پے درپے گھونسے لگائے۔
          لیکن ”مسلسل“ ایک ایسا لفظ ہے جو کسی بھی جملے میں استعمال کیا جائے تو اس جملے کے بنیادی معنی میں فرق نہیں پڑے گا۔ جبکہ کچھ مترادف دوسرے جملوں میں استعمال نہیں ہو سکتے۔ مثلاََ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ بارش صبح سے زاروقطار ہو رہی ہے  یا  وہ یکے بعد دیگرے رو رہا ہے۔تو ہمارا جملہ یکسر غلط ہو گا۔ اس کی وجہ مترادفات کا غلط استعمال ہے۔ اس طرح جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ خطہء عرب میں بولی جانے والی عربی نہایت فصیح زبان ہے اور اس میں ایک ایک لفظ کے کئی مترادفات ہیں تو اس کی بھی بعینہی یہی حالت ہے کہ الفاظ کا غلط استعمال جملے کو یکسر بدل دیتا ہے کسی بھی خطے میں بولی جانے والی زبان میں الفاظ کی یہ پیچیدگیاں علماء ادب کی پیدا کردہ  ہیں ورنہ روز مرہ بولی جانے والی زبان نہایت سادہ ہوتی ہے یوں سمجھئے کہ علم و ادب سے نا آشنا یا دوسری زبان بولنے والے افراد اپنا مطلب بہتر طریقے سے واضح کر سکتے ہیں۔ لہٰذا کسی ہمہ گیر اور جامع زبان کی یہ بنیادی خوبی ہوتی ہے کہ وہ آسان ہو۔
وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿17  سورة القمر-54
اور حقیقت میں ”ہم نے “ القرآن کوالذکر کے لئے آسان کیا۔پس ہے کوئی   مُّدَّكِرٍ‌؟

اللہ تعالیٰ کے مطابق مفصّل بھی ہو:-
وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا أَعْجَمِيًّا لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ ۖ أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَ‌بِيٌّ ۗ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖوَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ‌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ ﴿44﴾ سورة فصلت-41
اگر ہم قران کو عجمی (کسی اور زبان) میں نازل کرتے تو وہ (ضرور) کہتے کہ اس کی آیات مفصّل کیوں نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔

          اب صورتحال یہ ہے کہ ہم ”کتاب اللہ“ سمجھنا چاہتے ہیں لیکن علماء ادب کہتے ہیں کہ ”عربی“ بہت مشکل زبان ہے۔ اتنی مشکل کہ عام آدمی اس کہ نہیں سمجھ سکتا اور پھر کتاب اللہ کو سمجھنا اس کے لئے ”سولہ علوم“ پڑھنے پڑتے ہیں پھر کہیں جا کر کچھ شُدبُد پیدا ہوتی ہے۔ اب وہ لوگ جو دل میں یہ  جذبہ  رکھتے ہیں  گھبرا کر ”کتا ب اللہ“ کو چھو ڑ دیتے ہیں یا رسمی عربی میں پڑھتے رہتے ہیں اور انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ اگر کوئی با ہمت کمر باندھ لے تو وہ بھی مختلف تراجم کے گرداب میں پھنس جا تا ہے۔ ہر ترجمہ دوسرے سے مختلف عربی گرامر کو اپنی سوچ کی گرامر کے مطابق مترجم نے تبدیل کیا ہو تا ہے۔ جب کسی عالم سے وضاحت لی جاتی ہے تو ایک عالم کا مشورہ ہوتا ہے کہ فلاں عالم کی تفسیر پڑھو۔ دوسرا کہتا ہے کہ نہیں فلاں عالم بہت ماہر ہے۔ علم و ادب اُس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں اور فصاحت و بلاغت اُس نے کوزے میں بند کر کے اپنے زانو تلے دبائی ہوئی ہے۔ بہرحال اگر وہ بے چارہ کمر کس کے علماء ادب کے تالاب میں غوطہ زن ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ آگے محیط، تاج، راغب، لین اور نجانے کون کون بیٹھے ہیں۔ اور سب سے بڑے دکھ کی بات تو یہ ہے کہ جس کلام کو اللہ نے شدت سے شاعری سے الگ اسلوب کہا ہے۔ ہم اسی کلام اللہ کو جہلائے عرب کی شاعری سے سمجھنے کہ کوشش کرتے ہیں۔ استغفراللہ: معلوم ہوتا ہے کہ میں نے بھی آپ کو پریشان کر دیا ہے اور آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھئی  اب تو ہمارے ہاتھ پاؤں بالکُل بندھ گئے اب کریں تو کیا کریں۔
          قارئین: لوگ آپ کو سورج،روز روشن میں ٹارچ کی روشنی کی مدد سے دکھا رہے ہیں، جب کہ سورج تو دیدہ بینا کو بغیر اشارے کے نظر آتا ہے۔ ہاں دیدہ ء ِکور کو وضاحت سے بتانا پڑتا ہے کہ سورج کیا ہے۔ کیسا ہے؟ اور اس کے کیا کیا فائدے ہیں؟ اب ہم آتے ہیں ”کتاب اللہ“ کی طرف۔ اللہ تعالیٰ کے مطابق
 :
وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا أَعْجَمِيًّا لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ ۖ أَأَعْجَمِيٌّ وَعَرَ‌بِيٌّ ۗ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ۖوَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ‌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۚ أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ ﴿44﴾ سورة فصلت-41
اگر ہم قران کو (عربی کے بجائے) عجمی (یعنی دنیا کی کسی اور زبان میں) میں نازل کرتے!تو وہ (لوگ جو اس کو مشکل سمجھتے ہیں ضرور) کہتے کہ اس کی (الحمد سے لے کر والناس تک جتنی بھی) آیات مفصل نہیں ہیں؟ کیا عجمی اور عربی؟ کہہ!  وہ ان  لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ھدایت اور شفا ہے  اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور اِن کے اوپر اندھا پن ہے  انہیں یہ دور کی منادی محسوس ہوتی ہے –

          اب یہ آیت اتنی جامع اور واضح ہے اور ہمیں اس تردد سے نکالتی ہے کہ
”بھئی قرآن کی عربی بہت مشکل  ہے“
 اس بات کا خیا ل رہے کہ اللہ تعالیٰ عربوں سے مخاطب نہیں بلکہ الناس سے مخاطب ہے اور خود کہہ رہا ہے،  یہ اللہ کے الفاظ ہیں جو الکتاب میں درج ہیں مگر اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ القران کی تمام آیات تفصیل یا تفسیر کے بغیر سمجھ نہیں آتیں۔(نعوذ بااللہ) القرآن مجمل ہے۔

کتاب اللہ“  میں دو الفاظ، ”عربی“ !  مادہ  ”ع  ر  ب“  اور  ”عجمی“ ! مادہ  ”ع  ج  م“  آئے ہیں  ،
جس کو ہم عام طور پر ”اہل عرب“ ! اور  ”اہل  عجم  (ایران)“ ! لیتے ہیں 
جبکہ در حقیقت ان کا صحیح مطلب ”اہل زبان“    اور ”غیر اہل زبان“  ہے  اہل زبان سے مراد وہ لوگ جو اس زبان کو اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں جبکہ غیر اہل زبان کو سمجھانے کے لئے تفصیل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ دو ہم زبان افراد آپس میں اہلِ زبان ہوتے ہیں۔جبکہ اُن کی زبان کا علم رکھنے والا اہلِ زبان نہیں ہو سکتا ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ اہلِ زبان کی طرح زبان بولتا ہے۔اُس کی اِس روانی کے باوجود ہم اُسے اہلِ زبان تسلیم نہیں کریں گے۔

          انسانوں میں زبان انسانی اظہار اورانسانی ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔انسان کو عموماً حیوانِ ناطق کہا جاتا ہے۔ قوتِ گویائی جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اُن کے لئے اِس کا استعمال صدیوں سے محدود ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی قوت ِ گویائی سے نواز ا لیکن اُسے ایک ایسی اضافی قوت دی جس نے اُس کی گویائی کو قوتِ لسان میں تبدیل کیا اور وہ عطائے ربّانی ”علم الاسماء“  تھا۔اللہ کی تخلیق کی گئی اشیاء کو ”بذریعہ اسم (خصوصیت) سے پہچاننے کا علم۔

”علم الاسماء“   کی وجہ سے اِس کی لسان نے اُس کی قوتِ خامسہ سے مل کر  انسان کو محدود حیوانی  زندگی سے نکال کر  لامحدود شاہراہ زندگی پر لا ڈالا۔ اُس نے اپنی پہچان کے لئے ہر معلوم شئے کو ایک اسم دیا۔دوسرے انسان کو سمجھانے کے لئے سب سے آسان زبان جو تحریر میں آئی وہ  اشکال   میں تھی۔کسی بھی چیز کو سمجھانے کا پہلا ذریعہ بنا۔

”علم الاسماء“  کی خصوصیت کے باعث "تصویری زبان"   ترقی کرتے کرتے  حروف میں تبدیل ہو گئے۔ (حروف بھی اشکالِ ہیں ہی کی ایک قسم ہیں۔)مشکل سے مشکل زبان ،آسان سے آسان ہونے لگی۔چند الفاظ سے انسان پورا مافی الضمیر بیان کر دیتے۔اُن الفاظ کا تلفظ اور ادائیگی انہیں اور آسان بنا دیتا۔اس  پر مزید فصاحت اِس طرح ہوتی کہ اِن الفاظ میں ایک یا دو حروف کا اضافہ، ایک لفظ کو مکمل جملہ بنا دیتا۔
بہر حال کسی بھی زبان کی فصاحت  سے مراد کم از کم الفاظ میں اپنے خیالات، احکامات اور رائے کا اظہار ہے۔جب ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے الگ ہوا تو اُس نے اپنی   ”علم الاسماء“  کی خصوصیت کے باعث  اپنے اظہار کے لئے نت نئی زبانیں ایجاد کیں۔
زبانوں میں اختلاط اور نئی زبانوں کا وجود مقبوضہ عورتوں اور غلاموں سے ہو ا۔جن کی وجہ سے قابض آقاؤں کی زبان کو اپنی زبان میں ملا کر انہوں نے نئی زبان وجود میں لائی۔بچوں نے ماں کی زبان میں مافی الضمیر کا اظہار کرنے کو فوقیت دی یوں پدری زبان،  مادری زبان میں مل کر نئی زبان بنی۔
مدرسوں نے زبان کی حفاظت کے فرائض سنبھالے۔ علمائے ادب نے زبان کو چاشنی دی اور ایک لفظ کے کئی مترادفات بنا لئے یو ں لغت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا۔ اِس طرح بولی جانے والی زبان قیودِ تحریر میں آکر ایک چیستان بن گئی۔

          عربی ایک خالص زبان ہے  جس کا ہر لفظ ایک بنیادی مادہ سے بنا ہے  جس طرح درخت کے وجود کے لئے سب سے اہم حصہ اس کی،”جڑ“  ہے  بالکل اسی طرح عربی زبان کا ہر لفظ اپنی ایک جڑ اور اصل رکھتا ہے جس سے اس میں سے دوسرے الفاظ بنتے ہیں  مثلاً۔ ”ع  ل  م“  ایک جڑ  مادہ  ہے جس سے کئی الفاظ بنتے ہیں  جن کی وجہ بناوٹ ایک ہے یعنی ”علم“ !  چنانچہ جن الفاظ میں‘ ع  ل  م! شامل ہو گا ان کی معنوی بنیاد کا تعلق علم سے ہو گا  مثلاً  :-
 
معلوم  معلومات  عالم  علماء  علم  معلم  متعلم  متعلمہ  معلمہ  تعلیم  علوم  علیم  علمی   علمیت ۔ 

وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَ‌حْمَةً ۚ وَهَـٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَ‌بِيًّا لِّيُنذِرَ‌ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَ‌ىٰ لِلْمُحْسِنِينَ ﴿12 سورة الأحقاف -46
 اور  اس سے قبل امام اور رحمت کتابِ موسیٰ (ہوئی)۔ اور یہ کتاب تصدیق کی گئی عربی زبان میں۔ظالموں کی نذیر کے لئے اور محسنین کی بشارت کے لئے۔

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَاهُ حُكْمًا عَرَ‌بِيًّا ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّـهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا وَاقٍ ﴿37  سورة الرعد-13
 اور  اِس طرح ہم نے اُسے نازل کیا  حُكْمًا عَرَ‌بِيًّا ۔ اور اگر اب بھی تو اُن کی اہواء  (حُكْمًا عَجميًّا) کی اتباع کرے گا۔اس کے باوجود کہ تیرے پاس علم آگیا ہے۔تو تیرے لئے اللہ ولی نہیں اور نہ ہی  بچانے والا۔

كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿3    سورة فصلت-41

ایک کتاب (لکھائی) جس کی آیات مفصّل ہیں اور علم والی قوم کے لئے قران (اس کی پڑھائی)  عربی میں ہے۔

                  للہ کے مطابق الکتاب کی آ یات مفصل ہیں۔ یعنی ہر آیت عربی پڑھائی میں تفصیل لئے ہوئے ہے   مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ علم والوں کے لئے      حُكْمًا عَرَ‌بِيًّا  میں مفصل ہے۔ بے علم اسے مجمل ہی سمجھیں گے۔ 
علم والا بننے کی سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ آپ ”کتاب اللہ“ میں لکھی  آیت اور انسانی قرء ت کی ہوئی آیت۔ دونوں کو ملائیں۔ اپنے حافظے سے کام مت لیں آپ کی آنکھیں اور دماغ اس آیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ تو آپ کے پاس جو علم آیا (کہ یہ آیت کتاب اللہ کی ہی ہے) کس نے دیا؟ یعنی عالم کون ہے جو آپ کو علم دے رہا ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ اِس مضمون میں:-:-
  ٭- اگرانسانی لکھی ہوئی آیت کتاب اللہ کی آیت سے نہیں ملتی تو یہ کتاب اللہ کی آیت نہیں۔ تو عالم انسان ہے۔ (آیت سے مراد مکمل آیت ہے نہ کہ اس کے اپنی مرضی سے منتخب حصے۔ جو کتاب اللہ میں لکھی ہوئی آیت کا مفہوم ہی تبدیل کردیں)
 ٭- ٭-       اگرانسانی لکھی آیت کتاب اللہ کی آیت سے ملتی تو یہ کتاب اللہ کی آیت ہے۔ لہٰذا عالم اللہ ہوا۔٭- ٭-
٭-             اگرانسانی لکھی ہوئی آیت کتاب اللہ کی آیت سے نہیں ملتی اور آپ انسانی لکھی ہوئی آیت کو کتاب اللہ کی آیت میں تر میم مان کر چھوڑ دیں ہیں اور کتاب اللہ کی آیت کو صحیح مانتے ہیں تو عالم اللہ ہوا انسان نہیں۔
الرَّ‌حْمَـٰنُ ﴿1 عَلَّمَ الْقُرْ‌آنَ ﴿2  سورة الرحمن-55
الرحمٰن۔ القرآن کا علم دیا۔
اب آپ کو معلوم ہو گیا کہ عالم کون ہے۔ الرحمٰن: اس نے القرآن کا علم دیا۔ کیوں دیا؟

خَلَقَ الْإِنسَانَ ﴿3 عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴿4  سورة الرحمن-55
انسان کو خلق کیا۔ اسے بیان کرنے کا علم دیا۔
          کیوں کہ اس نے انسان کو خلق لہٰذا اس نے انسان کو اسے بیان کرنے کا علم بھی دیا۔اب یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس علم کو اسی طرح بیان کرے جس طرح اللہ نے اسے علم دیا ہے۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکتا! اس کی بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔
فَإِذَا قَرَ‌أْتَ الْقُرْ‌آنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّ‌جِيمِ ﴿98 سورة النحل-16
پس جب تو القران کی قرء ت کرے تو الشیطان الرجیم سے اللہ کی پناہ مانگ۔

          اب غور کریں کے ہم الکتاب سے صرف القرآن کی قرات کرتے ہیں اور ہو بہو کرتے ہیں اس کے باوجود ہمیں الشیطان الرجیم سے اللہ کی پناہ مانگنی ہے کیونکہ اس نے اللہ کی اتھارٹی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ اللہ انسان کی صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے اور وہ صراط مستقیم پر بیٹھا الناس کو گمراہ کر تا ہے۔
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَ‌اطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿16  سورة الأعراف -7
اس نے کہا! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا لہٰذا میں ان کے لئے تیرے صراط ا لمستقیم میں بیٹھ جاؤں گا۔

          آپ نے شیطان کا چیلنج پڑھ لیا اور کتاب اللہ سے اس آیت کی تصدیق بھی کر لی ہو گی۔ اب کون گمراہ ہو جاتا ہے اور کون گمراہ نہیں ہو سکتا! کس پر اس کی اتھارٹی نہیں چل سکتی۔ اور کون اللہ کو چھوڑ کر اس کی اتھارٹی تسلیم کر لیتا ہے۔

إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَ‌بِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿99  سورة النحل-16
بے شک ان پر اس (الشیطان) کی اتھارٹی نہیں چل سکتی جو ایمان والے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔

          جی ہاں! اور یہ توکل القرآن کے علم کے سلسلے میں ہے کہ  الرحمٰن کے علاوہ کوئی القرآن (کلام اللہ) کا علم دینے کا دعوٰی کرے تو اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے علاوہ القرآن کا علم دینے والا الرحمٰن (کا القرآن کا علم دینے)میں شریک ہو گیا۔ لہٰذا جو لوگ یہ سمجھ کر اس سے القرآن کا علم حاصل کریں گے تو وہ اللہ سے شرک کریں گے لہٰذا ایسے لوگوں پر شیطان کی اتھارٹی فوراََ چل جائے گی۔


إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَى الَّذِينَ يَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِينَ هُم بِهِ مُشْرِ‌كُونَ ﴿100  سورة النحل-16

بے شک اس کی اتھارٹی تو ان لو گوں پر چلتی ہے جو اس کو ولی بناتے ہیں۔ اور وہ لوگ اس (اللہ) کے ساتھ شرک کر تے ہیں۔

          اب یہ بات تو ممکن نہیں کہ شیطان آ کر لو گوں سے ولایت کی بیعت لے اور انسانوں کو بھٹکانا شروع کر دے۔ 
اللہ نے اُس کو بتایا کہ انسان کو بھٹکانے کا کون سا طریقہ وہ اختیار کرے گا اور ہمیں بھی بلا واسطہ(   مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ) سنا دیا ۔

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُم بِصَوْتِكَ وَأَجْلِبْ عَلَيْهِم بِخَيْلِكَ وَرَ‌جِلِكَ وَشَارِ‌كْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۚوَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا ﴿64  سورة الإسراء-17

اور تو اپنی استطاعت کے ساتھ انہیں یقینا ”فزز“ ( تباہ،  برباد) کرنے کی کوشش کر!۔ اپنی آواز  (پروپیگنڈہ) کے ساتھ، اور اُنہیں ”جلب“ (ڈھانپ، قابو) کر! اپنے ”خَيْلِ“ اور ”رَ‌جِلِ“ کے ساتھ۔ اور اُن کے الْأَمْوَالِ اور الْأَوْلَادِ میں شراکت کر!۔ اور اُنہیں   عِدْ ( وعید)  کر۔   اور  الشَّيْطَانُ کی  عِدْ ( وعید)  سوائے  غُرُ‌ورً‌ کے کچھ نہیں !

           بنیادی طور پر شیطان اُن لو گو ں کے خیالات پر محیّر العقول وعدوں کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے۔جو لوگ کتاب اللہ کا علم دیتے ہیں۔ وہ جوش تبلیغ میں دوران خطابت کلام اللہ میں اپنے خیالات بھی شامل کر دیتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔

وَمَا أَرْ‌سَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّ‌سُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّىٰ أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّـهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّـهُ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿52  سورة الحج- 22  
اور نہیں ارسال کیا ہم نے تجھ سے قبل، کوئی رسول میں سے اور نہ نبی۔ مگر جب اس نے تمنا کی اور شیطان نے اس کی تمنا میں القاء کیا۔  پس اللہ وہ منسوخ کرتا ہے جو شیطان القاء کر تا ہے۔ پھر اللہ اپنے آیات کا حکم دیتا ہے۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے۔
          شیطان کی القاء کی ہوئی تمام فلاسفی اسی وقت منسوخ ہوتی ہیں جب آپ کسی بھی آیت کو کتاب اللہ سے پڑھتے ہیں اور اسے خود سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رکھئے! آپ نے کسی بھی صورت میں شیطان سے مس گائیڈ نہیں ہونا وہ اللہ کے صراط المستقیم پر بیٹھا ہے اور لو گو ں کو بھٹکا رہا ہے۔ کہ کتا ب اللہ مفصل نہیں، مجمل ہے۔ اللہ نے کوئی بات تفصیل سے نہیں بتائی۔ کئی باتیں ایسی جن کے متعلق اللہ نے کتاب اللہ میں کوئی مثال نہیں دی۔ فلاں ابن فلاں نے بہترین تفسیر لکھی اس نے ہر بات وضاحت سے مثالیں دے کر لکھی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب لوگ اس بات کا یقین کر لیتے ہیں اور وہ اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا ولی بنا لیتے ہیں۔ کیونکہ ان کا اللہ پر توکل نہیں رہتا اور وہ اللہ کی آیات سے منکر ہو کر من دون اللہ آیات پر عمل کرتے ہیں۔
أَفَغَيْرَ‌ اللَّـهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّ‌بِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِ‌ينَ ﴿114  سورة الأنعام-6
کیا میں غَيْرَ‌ اللَّـهِ  کو حَكَمًا بناؤں؟  حالانکہ (اللہ)  وہ ہے جس نے تم پرالْكِتَابَ مُفَصَّلً ! نازل کی۔اور وہ لوگ جنھیں‘  االْكِتَابَ (مُفَصَّلً) !  عطا کی گئی۔جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کی طرف سے   الْحَقِّ نازل کی ہوئی ہے۔ پس   مُمْتَرِ‌ينَ میں سے مت ہو جانا ۔

وَلَقَدْ ضَرَ‌بْنَا لِلنَّاسِ فِي هَـٰذَا الْقُرْ‌آنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ ﴿27سورة الزمر-39
اور بے شک ہم نے انسانوں کے لئے اس القرآن میں ہر قسم کی مثال سے ضرب (ذہنی جھٹکا) لگائی ہے۔ تا کہ وہ  ذاکروں میں ہو جائیں  ۔
 کس کے ذکر کے ذاکر ہوں  ؟إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ‌ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ﴿الحجر: ٩﴾
بے شک یقیناً ہم نے    الذِّكْرَ‌ نازل کیا  اور بے شک ہم   ہی ،اس کے لئے   الحَافِظُونَ ہیں ۔

          الذِّكْرَ‌کی حفاظت کرتے ہوئے ہم بھی اس کے ذاکر بنیں  اوروہ ایسے   کہ ،    ہم اللہ کی آیات کو مستحکم کرتے رہیں اور شیطان کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کرتے رہیں۔
اگرہم نے ایسا نہیں کیا تو شیطان کے چیلنج کا جو ، جواب اللہ نے دیا ہو ہماری آ نکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔
قَالَ اخْرُ‌جْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَّدْحُورً‌ا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿18  سورة الأعراف
اس (اللہ)نے کہا! نکل جا یہاں سے  مذموم و مدحور ہو کر، البتہ اگر ان میں سے کسی نے تیری اتباع کی تو میں تم سب کو جہنم سے بھر دوں گا۔

          یہ تو بہت خوفناک سزا ہے جو اللہ شیطان کی اتباع کرنے والوں کو دے گا۔ لیکن ٹھرئیے۔ گھبرائیے نہیں۔ سورۃ الزمر کی مندرجہ ذیل آیت پڑھتے ہیں۔ ان آیت میں ہمیں بتایا جا رہا ہے۔

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّ‌حْمَةِ اللَّـهِ ۚإِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ‌ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ‌ الرَّ‌حِيمُ ﴿53﴾ سورة الزمر-39  
کہہ! اے میرے بندو!وہ لوگ جنہوں نے اپنے نفسوں پر اسراف کیا وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
 بے شک اللہ تو سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے۔ بے شک وہ غفور اور رحیم ہے۔

          گناہوں کی معافی کا کیا طریقہ ہے؟
وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَ‌بِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُ‌ونَ ﴿54﴾ سورة الزمر-39    
اور اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور اس کے لئے اسلام لاؤ! اس سے قبل کہ تم پر عذاب آ جائے اس وقت تمھاری کوئی مدد نہیں ہو سکے گی۔
          اللہ کے بندے جنہوں نے اپنے نفسوں پر اسراف کیا۔ انہیں دوبارہ ان کے رب کی طرف رجوع کرنے کا اور اسلام لانے کا کہا جا رہا ہے۔ اور یہ کس طرح ہو گا۔

وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّ‌بِّكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ ﴿55﴾ سورة الزمر-39
اور اس بہتر چیز کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے ”تمہاری طرف نازل کی گئی ہے“۔
 اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو اس کا شعور نہ ہو۔

          آیات کو غور سے پڑھیئے۔ اللہ کہہ رہا ہے کہ اگر میرے عذاب سے بچنا چاہتے ہو شیطان  کی اتباع کر کے تم نے اپنے نفسوں پر اسلام سے نکل جو اسراف کر لیا ہے۔ اس کوختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میری طرف دوبارہ رجوع کر لو اور اسلام لے آؤ اور اس بہتر چیز کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے ”تم پر نازل ہوئی ہے“۔(کیا کتاب اللہ سے بہتر کوئی اور چیز ہم پر نازل ہوئی ہے؟) تو اس صورت میں اللہ سارے گناہ معاف کرے گا ۔ ورنہ حسرت آہ بن کر نکلے گی۔
 کاش اگر میں نے کتاب من دون اللہ سے ہدایت  نہ لی ہوتی تو آج کے دن میں بھی متقین کی صف میں کھڑا ہو تا۔
أَن تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَ‌تَىٰ عَلَىٰ مَا فَرَّ‌طتُ فِي جَنبِ اللَّـهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السَّاخِرِ‌ينَ ﴿56﴾ سورة الزمر-39
کوئی نفس یہ کہے! وائے حسرت! اس پر جو کو تاہی میں نے اللہ کی جانب کی اور میں تو مسخر اڑانے والوں میں ہوا۔

 أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿57﴾ سورة الزمر-39 
یا کہے! اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو میں اللہ سے ڈرنے والوں میں سے ہوتا۔

          اللہ علم سکھاتا ہے اور اللہ ہی ہدایت دیتا ہے۔ کیا آپ کو یہ بات پہلے معلوم تھی؟
اگر ہاں تو کیا آپ نے اللہ سے علم سیکھا اور اللہ ہی سے ہدایت لی یا من دون اللہ سے علم سیکھا اور انہیں سے ہدایت لی!! 
اگر آپ نے اللہ ہی سے علم سیکھا اور اللہ ہی سے ہدایت لی تو پھر آپ سورۃ الزمر کی آیت (39/56) میں اللہ جو حکم دے رہا ہے،پر نہیں چو نکے ہوں گے۔
" اور اس بہتر چیز کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے "

          کہ یہ بہتر چیز (الکتاب) ہماری طرف نازل ہوئی ہے۔ کتاب اللہ ہم پر اس وقت نازل ہو گی جب ہم اللہ کا حکم ہو بہو مانیں گے۔
قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا غَيْرَ‌ ذِي عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿28﴾ سورة الزمر-39  
عربی میں پڑھائی کسی عیب (یا نقص) کے بغیر ہے تا کہ وہ متقی بن جائیں۔

          نقص کتاب اللہ کو "عربی "میں پڑھنے پر نہیں بلکہ "عجمی " میں پڑھنے پر ہے کیونکہ "عربی " میں ہونے کی وجہ سے اس کی آیات مفصل ہیں۔ جب ہم اسے"عجمی " میں پڑھتے ہیں تو اس میں ہمیں دوسروں کا ذکر ملتا ہے۔ با ئیبل کے اساطیر ( کہانیاں)  ملتی ہیں۔ جبکہ "عربی " میں پڑھنے سے ہمیں اس میں ہمارا اپنا ذکر ملتا ہے اور با ئیبل کے نہیں بلکہ خود اللہ کے بتائے ہوئے ”احسن القصص“ ملتے ہیں۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ ﴿2  سورة يوسف-12
ہم تجھے ان قصوں میں سے بہترین قصہ بتاتے ہیں جو ہم نے وحی کئے تجھ پر اس القرآن میں  اور اس سے پہلے تو اس سے بے خبر تھا

گو یا کتاب اللہ نے خود بہترین قصے بتائے ہیں۔ بہترین اس لئے کہ:-
 
اول۔ یہ اللہ نے خود بتائے ہیں۔   
دوئم۔ ان تمام قصوں پر”ختم ِالنبوت“ہے۔
          ان کے علاوہ وہ قصے جو قرانی مماثلت کے مطابق پائے جاتے ہیں۔ خواہ کتنے ہی مفصل کیوں نہ ہوں، یا ان کی تصدیق کے لئے کتنے ہی مصدقہ حوالے کیوں نہ دئے گئے ہوں، بائیبل میں ہوں یا انسانی بیان کردہ یا تحریری تاریخی قصے ہوں۔ جن کی اللہ نے کوئی سند نہیں دی۔ کسی بھی صورت میں ”احسن القصص“ نہیں ہو سکتے۔

 کیونکہ ان کی سچائی کے بارے میں" الکتاب کا قاری"  بے خبر ہے۔ اِن میں اتنی ملاوٹ کر دی گئی ہے کہ الامان الحفیظ۔ الکتاب کے قاری کو صرف اسِ میں ”احسن القصص“ ملتے ہیں۔ جن کے پر  ”ختمِ النبوت“ ہے۔
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُ‌كُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿10  سورة الأنبياء
حقیقت میں ہم نے تمہاری طرف جو کتاب نازل کی ہے اس میں تمہارا ذکر ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے
          اِس کتاب میں ہمارا ذکر ہے جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے۔ کسی اور کا نہیں!

صرف ہم نے خود کو پہچاننا ہے کہ ہم کتاب اللہ کے مطابق کن لوگو ں کی صف میں کھڑے ہیں۔ ہم اپنے تئیں خود کو جو مرضی کہیں۔ یہ فیصلہ تو اللہ نے پہلے سے کر دیا ہے اور ہمارے کردار کے بارے میں اپنے "کتاب " میں لکھ دیا ہے۔ وہ "کتاب "  جو متقین کے لئے ہدایت ہے کیونکہ اس میں ان کے لئے بلند پایہ پڑھائی ہے اور یہ بلند پایہ پڑھائی  "کتاب " کی لکھائی میں پوشیدہ ہے۔ اگر یہ لکھائی ہم پر آشکار ہو جائے تو تب ہم طاہر ہیں ورنہ نہیں۔خواہ ہم وضو کرتے کرتے دجلہ اور فرات کو خشک کر دیں۔
إِنَّهُ لَقُرْ‌آنٌ كَرِ‌يمٌ ﴿77 فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ﴿78 سورة الواقعة 
البتہ بے شک یہ پڑھائی بلند پایہ ہے۔ (جو) لکھائی میں پو شیدہ ہے۔

لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُ‌ونَ ﴿79 تَنزِيلٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿80 سورة الواقعة-56  
اس کو سوائے مطاہرین کے کوئی نہیں چھو سکتا۔ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے۔

أَفَبِهَـٰذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ ﴿81 وَتَجْعَلُونَ رِ‌زْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ﴿82 سورة الواقعة-56
کیا تم اس ”الحدیث“ کو  سرسری سمجھتے ہو۔ اور اس کے جھٹلانے کو تم اپنا ذریعہ معاش بناتے ہو۔

          ”الکتاب “ کو سمجھنے کے لئے آپ نے خود کو طاہر بنانا ہے۔ وہ اس طرح کہ تمام من دون اللہ خیالات کو اپنے ذہن کی سلیٹ سے بالکل صاف کر دیں۔  ”الکتاب “ میں جو کلام اللہ لکھا ہوا ہے اس کی ایک ایک آیت پر خود غورکریں اس کا لفظی ترجمہ کریں تو آپ کو اپنے نفس سے پیغام مبعوث ہوتامحسوس ہوگا۔آپ کو الکتاب کا علم آئے گا۔آپ میں الحکمت پیدا ہوگی۔(کہ اللہ کی کس آیات کا کس موقع پر استعمال کیا جائے)  اور (اس طرح) آپ کا تزکیہ ہوگا۔
رَ‌بَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿ 129 سورة البقرة
ہمارے رب! تو بعث کر اِن میں رسول، اُن میں سے۔ وہ اُن پر تیری آیات تلاوت کرے اور اُن کو الکتاب اور الحکمت کا علم دے اور اُن کا تزکیہ کرے۔بے شک تو العزیز اور الحکیم ہے۔

          آپ نے خطہء عرب میں بولی جانے والی زبان اور ”الکتاب “ کی زبان میں کچھ فرق ضرور محسوس کیا ہوگا۔ خطہء عرب میں بولی جانے والی زبان  ”الکتاب “ کی زبان  کے لئے عجمی ہے۔ تو آئیے من دون اللہ کی زبان، قواعد اور گرامر بھول جا ئیں اور اللہ کی زبان قواعد اور گرامر پڑھیں اور سمجھیں۔ جس میں آج بھی اللہ کے احکامات اور اس کے رسولوں کی بشارت اور تنذیر، ماضی۔ حال اور مستقبل کے بارے میں موجود ہیں اور آج سے دس ہزار سال بعد کے لوگوں کو بھی انہی صیغوں میں یہ احکامات اور تنذیرات ملیں گی۔ اگر آج اللہ کہہ رہا ہے ”وہ کہتے ہیں“  تو اپنے اردگرد نظر ڈالیے آپ کو اکثر لوگ مل جائیں گے جو ”کہتے ہیں یا کہیں گے“۔  مجھے امید ہے کہ اگر آپ نے سورۃ البقرہ بالفاظ ترجمہ پڑھ لی تو پھر آپ کے لئے باقی الکتاب نہایت آسان ہو جائے گی۔  ”الکتاب “ ہماری ٹیکسٹ بک ہے ہمارا امتحان اس میں سے ہو گا۔
          اللہ ہمیں قلب ِ محمدﷺ پر نازل کی جانے والی وحی، بذبانِ محمدﷺ بتا رہا ہے۔ کیا اس الحدیث کی تبدیلی ممکن ہے؟ کبھی آپ نے غور کیا؟
وَأَشْرَ‌قَتِ الْأَرْ‌ضُ بِنُورِ‌ رَ‌بِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿69 وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا يَفْعَلُونَ ﴿70  سورة الزمر
اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔ اور ”الکتاب“ رکھ دی جائے گی۔ انبیا اور گواہ لائے جائیں گے اور ان لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ ہو گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائیگا۔ اور ہر نفس کو اس کا عمل پورا دیا جائے گا۔ اور وہ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ‌ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ‌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿16 سورة الحديد
کیا ایمان والوں کے لئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل عاجزی کے ساتھ اللہ کی یاد  اور اس کے نازل کردہ حق کی جانب جھک جائیں؟  اور وہ ان لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں جنھیں اس سے قبل‘  الکتاب! دی گئی اور ایک عرصہ دراز گزرنے کے بعد ان کے دل سخت ہو گئے  اور ان کی اکثریت فاسق ہے

          آئیے پھر کتاب اللہ کی عربی سمجھتے ہیں۔ خود کو اِس سے پہچانتے ہیں۔ اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ کے رسولوں کے بشارت اور تنذیر پر غور کرتے ہیں۔

مگر ٹھہرئیے!

اس سے پہلے ہم اللہ کے احکام میں سے ایک حکم مانتے ہیں۔

فَإِذَا قَرَ‌أْتَ الْقُرْ‌آنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّ‌جِيمِ ﴿98 سورة النحل   
پس جب تو القران کی قرات کرے تو الشیطان الرجیم سے اللہ کی پناہ مانگ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔