میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 20 مارچ، 2014

نیم لفٹین یونٹ میں

ہم گاڑی میں بیٹھے گاڑی کھنکھار کر، سٹارٹ ہوئی اور  پرپیچ کچے راستوں سے گذرتی اپنی منزل کی طرف چل پڑی،  بعض  جگہ تو ایسے لگتا تھا کہ انچوں کے فرق سے ہم، دریائے نیلم کی نذر ہونے سے بچے، راستے میں معلوم ہوا کہ جیپ  کا ترپال اسی لئے اتارا جاتا ہے، کہ جیپ الٹنے کی صورت میں چھلانگ لگا کر بچا جا سکتا ہے۔  راستے میں جیپ کا مزاج کئی دفعہ ٹھنڈا کیا۔
راستے میں میڈیکل کور کا   "پٹیکا " ایم ڈی ایس آیا وہاں، بیریر پر کھڑے ہوئے سنتری نے ہاتھ کا اشارہ دیا، ڈرائیور نے گاڑی روکی ، سلیوٹ مارا ، یہ کسی میڈیکل کور والے کا ہمارا  لئے پہلا سلیوٹ تھا ،
" سر آپ دھنی جا رہے ہیں " سنتری نے پوچھا ۔
" جی ہاں " ہم نے جواب دیا ۔
"سر ایک آفیسر اور دو جوانوں کو بھی ساتھ لے کر جانا ہے " سنتری بولا ۔
ہم نے ڈرائیور   کی طرف دیکھا ، اس نے کہا ،"ٹھیک ہے ، ہم انتظار کرتے ہیں " اور گاڑی سائیڈ پر لگا دی ۔
تھوڑی دیر میں ایک پنجاب کے کپتان صاحب ، اور دو جوان آرہے تھے ۔
ڈرائیور نے کہا ، "سر، کپتان صاحب ، کو ہیں وہ جیپ چلا لیں "
ہم نے کہا ، "ٹھیک ہے "
کپتان صاحب کی شکل جانی پہچانی  لگ رہی تھی،جیپ سے اتر کر کپتان صاحب  سے ہاتھ ملایا ،
"سیکنڈ لیفٹنٹ نعیم ، سر " ہم نے تعارف کروایا ۔
"کیپٹن بشیر " کپتان صاحب نے جواب دیا، ہمارے ذہن میں ایک جھماکا ہوا ۔  دنوں جوانوں سے ہاتھ ملائے ،
" سر آپ جیپ چلائیں گے ؟ " ڈرائیور نے کپتان صاحب سے پوچھا ،
" ضرور اگر لفٹین صاحب اجازت دیں کیوں کہ ان کی یونٹ کی جیپ ہے " کپتان صاحب ہنستے ہوئے بولے ۔
کپتان صاحب ، نے جیپ سٹارٹ کی ، فوجی آفیسر اور چپ بیٹھیں ،  لیکن شرط یہ ہے کہ دو مختلف یونٹ کے ہوں ، ایک یونٹ کے آفیسروں کو شائد خاموش رہنا اچھا لگتا ہے ۔ باتیں شروع ہوئیں ،کافی دیر بعد ،
ہم نے پوچھا ، " سر آپ ایبٹ آباد رہے ہیں ؟"
"ہاں بچپن میں والد کے ساتھ رہا ہوں "کپتان صاحب خوشدلی سے بولے ، " پی ایم اے ، نہیں رہا - کیوں ؟ "
 "سر ، میرا خیال ہے کہ آپ کے والد ، اے ایم سی سنٹر میں رہتے تھے" ہم نے جواب دیا " اور آپ برکی سکول میں پڑھتے تھے "۔
" آپ بھی وہیں پڑھتے تھے " انہوں نے پوچھا ۔
"سر ، میں بھی برکی سکول ، میں پڑھتا تھا اور  18 نمبر گھر میں رہتے تھے "،میں نے جواب دیا ۔
" اوہ ، آپ نظام الدین صاحب کے بیٹے ہیں ، بڑے یا چھوٹے "انہوں نے پوچھا ۔
"بڑے " ہم نے جواب دیا ،
اس کے ساتھ ہی ، انہیں بھی اپنا بچپن یاد آگیا ، بشیر بھائی ہم سے دو سال آگے تھے ،ایک ساتھ کرکٹ ، ہاکی ، فٹ بال ، گلی ڈنڈا ، بنٹے ، پتنگ اڑانا اور سب سے اہم سکول کی پی ٹی اور جمناسٹک ٹیم میں ہم دونوں شامل تھے ۔ ایک دوسرے کے بہن بھائیوں اور والدین کی خیر خیریت معلوم کرتے ، اپنے اساتذہ کے بارے میں باتیں کرتے ،  28 اکتوبر 1976، کو آخر کار دن گیارہ بجے ہم ”دھنّی“  پہنچے  جہاں یونٹ کا ہیڈکوارٹر تھا،  کیپٹن سعادت اللہ خان ، ایجوٹنٹ اور کیپٹن جاوید  اقبال ملک(بعد میں بریگیڈئر )، کورٹر ماسٹر، میجر مسعود جدون سیکنڈ ان کمانڈ اور کرنل محمد اسلم  کمانڈنگ آفیسر تھے۔
 کیپٹن بشیر  کے پیچھے ہم ایجوٹنٹ کے آفس میں داخل ہوئے ، وہ گرم جوشی سے ملے ، ٹی بریک منگوائی گئی ، ہم چونکہ سیکنڈ لفٹین تھے لہذا کسی نے قابل توجہ نہیں سمجھا ،  کوئی آدھے گھنٹے بعد ،  کیپٹن سعادت نے  فیلڈ ٹیلیفون پر ، کسی سے پوچھا -
" صاحب ، جو جیپ مظفر آباد گئی تھی ، کیا  وہ آگئی  ہے ؟ " ۔
انہوں نے پوچھا، " اچھا " کہہ کر انہوں نے فون رکھ دیا ۔
" سر ، میں اسی پر آیا  ہوں " کیپٹن بشیر بولے ۔
" اچھا ، یار ہمار سیکنڈ لفٹین آنا تھا وہ نہیں آیا " ۔ کیپٹن سعادت بولے ۔
اس سے پہلے کہ ہم کوئی جواب دیتے ، کہ کیپٹن بشیر بولے ،" سر ، یہ آپ کا لفٹین ہے " ہا ہا ہا
کیپٹن سعادت ، ہماری طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے بولے، " اچھا میں سمجھا شاید یہ آپ کے ساتھ ہے "۔ 
کیپٹن
جاوید  اقبال ملک  بولے ، " سر یہ تو یونٹ میں ویلکم ہونے سے بچ گیا " ۔


 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون:  نیم لفٹین کو کپتان کا سلام







پچھلا مضمون:نیم لفٹین عازمِ جنتِ روئے زمیں




پہلا مضمون:  رنگروٹ سے آفسر

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔