میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ, مارچ 21, 2014

ویلکم سیکنڈ لفٹیننٹ - 3

              اُس دن ہم نے یونٹ کی ہاکی ٹیم لے کر، کوہاٹ جانا تھا، اس لئے آرام   سےتیار ہو کر اپناسامان باندھ کر ایڈجو ٹنٹ  ایجوٹنٹ کے آفس پہنچے، کیپٹن محمود نے بتایا کہ،  ارشاد قمر، کیپٹن ضیاء اللہ (قبائلی سردار) کے آفس میں بیٹھا، اپنی سٹیٹ منٹس لکھوا رہا ہے۔  ہم اوپر آفس میں پہنچے کیپٹن ضیاء کو سلیوٹ مارا، انہوں نے ہمدردی ظاہر کی اور بتایا کہ ہمیں جنرل آفیسر کمانڈنگ، جنرل رفاقت کے سامنے پیش ہونا ہے، اس لئے گارڈ کے ساتھ کوہاٹ چلے جاؤ۔ راستے میں کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش نہ کرنا، ارشاد قمر،  نے کپٹن ضیاء سے درخواست کی کہ وہ، لیفٹنٹ نعیم کی مدد لینا چاہتا ہے،
کیپٹن ضیاء نے کہا، ”گو کہ اجازت نہیں لیکن، ٹھیک ہے، میں کمانڈنگ آفیسر کے پاس سے ہو کر آتا ہوں، آپ دونوں  ایک دوسرے سے ضروری باتیں کر لیں، کوئی اور آفس میں آئے تو خاموش ہو جانا ''
  یہ کہہ کر وہ چلے گئے،  ارشاد قمر،  نے اپنی سٹیٹمنٹ ، دی ہم نے پڑھنا شروع کیا، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم پنجابی فلم کے ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر بہادری کے جوہر دکھائے، مگر شومئی قسمت کہ پکڑے گئے، اس کے علاوہ  ارشاد قمر،  کا وہ فقید المثال خط تھا جو اُس نے چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل محمد ضیاء الحق کو لکھا۔جس کا اردو میں متن کچھ یوں تھا۔
جناب چیف آف دی  آرمی سٹاف ،

جنرل محمد ضیاء الحق، ستارہ، امتیا ز، ہلال امتیاز، ستارہ پاکستان۔

حکومت پاکستان۔  راولپنڈی

مضمون:  نئے کمیشنڈ آفیسر کی حادثاتی  بے توجہی کی وجہ سے ہونے والے قومی نقصان پر معافی۔

ڈیر سر،

            میں نہایت دکھ اور شرمندگی کے جذبات کے ساتھ آپ کو یہ اطلاع دے رہا ہوں، کہ مورخہ 29اپریل  1978شام آح بجے میں سرکاری گاڑی میں ایک آفیسر، ایک حوالدار ڈرائیور ، ایک این سی اور دو جوانوں کے ساتھ، ٹل چھاؤنی سے پاڑا چنارچھاونی کی طرف جا رہا تھا، کہ راستے میں قبائلیوں نے گھات لگائی اور ہم سے ایک عدد سرکاری گاڑی چھین لی،  ہم دو آفیسر بڑی مشکل سے جان بچا کر دشمن کے علاقے سے بلا ہتھیار اپنے علاقے میں پہنچے، گاڑی کے باقی عملے کا تا حال کوئی پتہ نہیں، سرکاری گاڑی،  تین بٹا چار ٹن ڈاج ۔ چار سلنڈر ڈ، سنگل سٹرو ک، فور ویل ڈرائیو، میک اینڈ ٹائپ، ڈاج کمپنی  جنرل موٹرز،ماڈل 1945، مالیت مبلغ  تین لاکھ روپے، کا ہمارے ہاتھوں سے پاک افغان  بارڈر ڈیورنڈ لائن  پر چھینا جانا، قوم کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان اور ہمارے لئے باعث شرمندگی ہے۔ جس کا نعم البدل ملنا مشکل ہے۔


جناب میں پوری کوشش کروں گا کہ اپنی کمیشنڈ سروس، کی پہلے دن خود پر لگا یہ داغ اپنی انتھک محنت اور بے لوث لگن سے دھو ڈالوں،


ڈیر سر !  میں ایک ”غریب گھرانے“ سے تعلق رکھتا ہوں، سرکاری گاڑی تین بٹا چار ٹن ڈاج ، کی پوری قیمت ادا کرنا میرے لئے ممکن نہیں، لہذا میں آپ سے دردمندانہ درخواست کرتا ہوں کہ مجھ پر مہربانی کرتے ہوئے سرکاری گاڑی کی آدھی قیمت معاف کی جائے، میں قسطوں میں سرکاری گاڑی، تین بٹا چار ٹن ڈاج  کی نصف قیمت،قسطوں  میں ادا کرنے کے لئے تیار ہوں۔۔۔۔۔۔۔ 
            یہ سطور پڑھ کر ہمارا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا،  ”نصف قیمت، مبلغ ڈیڑھ لاکھ روپے؟ 
ہم نے سیکنڈ لیفٹنٹ، ارشاد قمر سے کہا، ” بھائی ہم ایک متوسط گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، لیکن ہماری جیب میں ڈیڑھ لاکھ تو کجا مبلغ ، ڈیڑھ روپے بھی مشکل سے ہوں گے۔ یہ غریبی میں سرمایہ داری  ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔  اور کیا تم یہ سوچ رہے ہو کہ باقی آدھی رقم کی ادائیگی ہماری جیب سے ہو؟
نہیں سر، مجھے ایڈجوٹنٹ نے بتایا تھا کہ آدھی قیمت سرکاری خزانے سے اداکی جائے گی“  قمر بولا۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم تو پچھتر ہزار بھی ادا نہیں کر سکتے  اور اگر قسطوں میں بات گئی تو کیا ساری عمر ہم، کھیرے کھا کر گذارا کریں گے؟
                     ہم نے ارشاد قمر کو بتایا، کہ تھوڑی دیر بعد ہم کوہاٹ چلے جائیں گے، کیوں کہ کمانڈر نے انکوائری کے لئے بلوایا ہے دیکھو کیا ہوتا ہے۔ ہم وہاں سے ایڈجو ٹنٹ کے کمرے میں بیٹھ  گئے  ایڈجو ٹنٹ نے سیکنڈ لیفٹنٹ  ارشاد قمر کو ایکٹنگ، کمانڈنگ آفیسر، میجر منصور جعفری کے سامنے پیش کیا،  کیوں کہ کمانڈنگ آفیسر لیفٹنٹ کرنل، محمد اسلم جو ہری پور کے رہنے والے تھے چھٹی پر تھے، سوائے ہمارے، باقی تمام آفیسرز جنھوں نے اِس ڈرامے میں حصہ لیا، آفس میں ایک طرف کھڑے تھے،
ایڈجو ٹنٹ کیپٹن  محمود نے،  سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر کو اس کا فوجی نمبر  اور نام بتاتے ہوئے پوچھا کیا یہ درست ہے  اُس کے اقرار کے بعد  ایڈجو ٹنٹ  نے  سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمرکے جرائم گنوانے شروع کئے:۔

جرم نمبر۔ 1:بحیثیت  فوج  کے ایک ذمہ دار آفیسر، ذاتی ہتھیار کا نہ رکھنا۔

  جرم نمبر۔ 2:دشمن سے مقابلہ کئے بغیر، دشمن کے قبضے میں خود کو حوالے کرنا

  جرم نمبر۔ 3:دشمن سے مقابلہ کئے بغیر، دشمن کے قبضے میں،  سرکاری گاڑی ، تین بٹا چار ٹن ڈاج مالیت مبلغ  تین لاکھ روپے، کو دشمن کے حوالے کرنا،

  جرم نمبر۔ 4: پاکستان کے  چار اہم اور یونٹ کے لئے قابل فخر جوانوں کو دشمن کی قید میں دینا، 

  جرم نمبر۔ 5: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں دی جانے والی دو سالہ ملٹری ٹرینگ کا موقع محل کے مطابق استعمال نہ کرتے ہوئے، گڈ آرڈر اور ملٹری ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنا۔

  جرم نمبر۔ 6: کمانڈنگ آفیسر  کے اعتماد کو چکنا چور کرنا،

جناب کمانڈنگ آفیسر ۔ چونکہ یونٹ اس وقت مکمل جنگی ماحول میں ملک کا دفاع کر رہی ہے، ملزم ان تمام جرائم کا میدانِ جنگ میں فیلڈجنرل کورٹ آف انکوائری میں ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے،  فیلڈجنرل کورٹ آف انکوائری نے، سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر کے خلاف، دو سفارشات متعین کی ہیں:۔

پہلی۔    سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر کا کورٹ مارشل کیا جائے،

 دوسری۔    سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر نے اصولی طور پر یونٹ میں باقائدہ رپورٹ نہیں کی تھی، لہذا یہ کمانڈنگ آفیسر کی صوابدید پر چھوڑا جاتا ہے، کہ وہ ، سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر کا کورٹ مارشل  کا حکم جاری کرے یا  سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر کے سمری ڈسپوزل حکم دے ۔


 جناب کمانڈنگ آفیسر،   فیلڈ جنرل کورٹ آف انکوائری  کے صدر جناب کیپٹن ضیاء  اللہ، اور دیگر آفیسران بطور گواہ، موجود ہیں۔

             ایڈجو ٹنٹ کیپٹن  محمود  کے لگائے ہوئے الزامات کے جواب میں ارشاد قمر کا منہ کئی دفعہ کچھ کہنے کے لئے کھلا، لیکن اسے سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ تمام کاروائی کے دوران اسے بولنے کی اجازت نہیں، اُس کے چہرے پر مختلف رنگ گردش کر رہے تھے، وہ بے چارگی میں ہونٹوں پر زبان پھیر تا  اور اسے یہ بھی بتایا گیا کہ  اگر آخر میں کمانڈنگ آفیسر نے پوچھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے، تو صرف ٹو دی پوائینٹ مختصر جواب دینا۔   
ایڈجو ٹنٹ  کے آخری لفظ بولنے کے ساتھ، کیپٹن ضیاء اللہ بولے،
”جناب میں کیپٹن ضیاء اللہ پریزیڈنٹ  فیلڈجنرل کورٹ آف انکوائری ، ایڈجوٹنٹ کی تائید کرتا ہوں“۔
             ایکٹنگ، کمانڈنگ آفیسر، میجر منصور جعفری، نے  سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر  کا نمبر اور نام پڑھا، اور پوچھا،
کیا ملزم نے فیلڈجنرل کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ سن لی ہے؟
 ارشاد قمر نے، مری ہوئی آواز میں کہا،”جی سر“۔ 
ایڈجو ٹنٹ دھاڑا، ” مُردوں کی طرح جواب مت دو“ ۔
ارشاد قمر نے زور سے کہا،”یس سر“،  اس کے بعد میجر جعفری سرد آواز میں  بولے،
 '' سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر  اس جرم میں تم اور لیفٹننٹ محمد نعیم الدین خالد، برابر کے شریک ہو،  لیفٹننٹ نعیم، تم سے ڈیڑھ سال سینئیر ہے اور فوج میں اگر وہ تم سے ایک نمبر بھی سینئیر ہوتا۔ تب بھی بحیثیت سینئیر اس کی ذمہ داری، تم سے زیادہ بنتی ہے، فیلڈجنرل کورٹ آف انکوائری نے دو آپشن دئے ہیں،  سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر کا کورٹ مارشل کیا جائے یا“ 
یہ کہہ کر میجر جعفری نے  سپنس پیدا کرنے کے لئے  میز پر سے پائپ اُٹھایا ، اسے سلگایا اور ایک لمبا کش لے کر گویا  ہوئے،


'' یا،  فیصلہ ابھی میرے ہاتھ میں ہوں، تم فوج میں ابھی نئے آئے ہو اور مجھے امید ہے کہ تم ترقی بھی کرو گے، تو کیوں نہ میں تمھارا سمری ڈسپوزل کرتے ہوئے، تمھیں معمولی سزا دے کر چھوڑ دوں  یا پھر تمھارا کورٹ مارشل ہو، بتاؤ تمھیں کون سی سزا منظور ہے؟ '' 
سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر، یک دم بولا، ”سر مجھے آپ کی سزا منظور ہے۔ ''
 رائٹ“  میجر جعفری  بولے۔ ” اس دفعہ میں تمھیں معمولی سزا دے کر چھوڑ رہا ہوں، آئیندہ کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ 
میجر جعفری ، ایڈجو ٹنٹ کی طرف متوجہ ہوئے، ”محمود تمھاری رائے میں کتنی سزاء ہونا چاھیئے؟ ''
سر جرم کی سنگینی اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے خیال میں تین چکن کافی رہیں گے“   ایڈجو ٹنٹ  نے رائے دی'' 
              لیفٹنٹ اقبال، جن کی تمام خفتہ صلاحیتیں چکن کا نام سن کر بیدار ہوجاتیں تھیں گویا چکن اُن کے لئے عمل انگیز کا کام کرتا ہے، فوراً  باچھیں پھیلاتے بولے ”سر، نہایت مناسب سزا ء ہے“۔ 
 رائٹ،  سیکنڈ لیفٹنٹ ارشاد قمر تمھیں اِن تمام آفیسرز کو تین چکن کھلانے ہوں گے 
میجر جعفری ، نے سزا ء سناتے ہوئے کہا،  اتنی کم سزا  ارشاد قمر کی توقع کے خلاف تھی، کہاں گاڑی کی قیمت اور دوسری سزائیں اور کہاں صرف تین چکن؟  وہ خوشی سے کپکپاتی آواز میں فوراً بولا،
 سر منظور ہے، مجھے  بالکل منظور ہے سر“۔ 

تو پھر میں تمھیں 57فیلڈ رجمنٹ آرٹلری میں خوش آمید کہتا ہوں“ میجر جعفری نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا، ”ان سے ملو یہ قبائلی سردار ہیں، اور یہ جلاد۔ باقی اپنا تعارف خود کر دیں گے '' 
ارشاد قمر کا منہ کھل گیا، وہ کمانڈنٹ کے آفس سے باہر نکلا، ہم ایڈجوٹنٹ کے آفس سے نکل کر باہر کھڑے ہو گئے تھے، اُس کا چہرہ شدت جذبات سے سرخ ہو رہا تھا، آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے، ہمیں دیکھا تو ایک دم آگے بڑھ کر گلے لپٹ گیا۔ ہم نے پیٹھ تھپتھپائی تو، روندھی آواز میں بولا،
''سر، اِس طرح کا استقبال میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا“۔
٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭


٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭ 
اکیڈمیات

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔