میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 2 مارچ، 2014

والدین کہاں پیداہوئے ؟




بھائی منیف ملک : مجھے متحدہ قومی محاذ سے لگاؤ ہے اور نہ ہی الطاف حسین سے ، کوئی محبت یا انس ہے ۔

میں تو
 تمام " مہاجرزادوں" کی بات کر رہا ہوں ۔ جو پاکستان میں پیدا ہونے کے بعد بھی پاکستان میں اجنبی سمجھے جاتے ہیں ۔
 
ان کی ثقافت ، ان کے لباس اور ان کی زبان کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ سندھ میں 60 سالوں سے آباد مہاجر اور مہاجر زادے ، وہاں اجنبی پودے کی طرح پنپ رہے ہیں ۔
 
"میڈیا اور  لسانیت" نے اتنی نفرت بھر دی ہے ، کہ اردو بولنے والے کا نام آتے ہی آپ لوگوں کے ذہن میں " ایم۔کیو۔ایم" سے نفرت ابھر کر سامنے آجاتی ہے ۔ کیوں ؟ ذرا اس پر غور کریں !  
 
 میں اردو بولنے والا پاکستانی مسلمان ہوں
 میری ماضی کی شناخت میرے والد نے کبھی استعمال نہیں کی تو میں کیسے کر سکتا ہوں ۔ ہاں ہم سے مجبوراً لکھوائی جاتی رہی ،
" والدین کہاں پیدا ہوئے " ۔     

اچھا  " مکڑ  (ٹڈی) "   ہو ،  آباد کار  ہو  ،  مہاجر ہو   !
 
محمد رسول اللہ ، مکہ سے ہجرت کر کے گئے ، انہوں نے ماضی کے تمام رشتے کاٹ دئے اور ساری عمر" مہاجر "بن کر مدینہ میں گذاری ۔ بس یہی سبق ہمیں بھی دیا گیا ۔ کہ ہم  " اردو بولنے والے پاکستانی مسلمان " ہیں ۔

میں نے اپنے بچوں کو بھی یہی سبق سکھایا  ۔  لیکن  1989 میں ،میں نے اِس سبق میں دراڑیں پڑتی دیکھیں ،  ہو ایوں کہ میں لاہور سے پوسٹ ہو کر حیدر آباد آیا ،بچوں کو آرمی پبلک سکول میں داخل کر دیا ، دوسرا ہفتہ تھا کہ  میرا چھوٹا بیٹا اس وقت غالباً کلاس ون میں تھا ، گھر آیا اور ماں سے پوچھا ،
" ماما ، کیاہم مہاجر ہیں ؟"
میری بیوی نے کہا ، " نہیں ہم پاکستانی ہیں ، لیکن تم نے یہ کیوں پوچھا  ؟ "۔
ارمغان بولا ، " ماما ، ٹیچر نے پوچھا تھا ۔ کہ تم مہاجر ہو ؟  میں نے کہا نہیں تو ، انہوں نے کہا تم اردو بالکل مہاجروں کی طرح بولتے ہو "۔
وہ ٹیچر ایک ، پنجاب کے رہنے والے ، آرمی آفیسر کی بیگم تھیں ۔ بہرحال میری بیگم نے  اسے سمجھایا کہ ہم پاکستانی ہیں  اور سب پاکستانی  اردو بولتے ہیں ۔

منیف ملک اور نعیم صادق سر!
 
میں 1970 میں میٹرک کے بعد پہلی بار کراچی گیا تھا۔ بچپن میں تو آنا جانا لگا رہتا تھا ، لیکن یہ محلہ اور وہ بھی کیماڑی ہسپتال کا علاقہ اور گھومنے کی جگہیں ، تھیں جہا ں بس گھر کے اندر ہی ہماری دنیا آباد ہوتی تھی۔
لیکن بلوغت کے بعد میں نے کراچی 1970 کے بعد ہی دیکھا اور اب تک دیکھ رہا ہوں ۔

جہاں تک کراچی کے سکون کا تعلق ہے ۔ اس کی بیڑا غرق ممتاز بھٹو نے کیا تھا ۔ جب طلباء کے ہنگامے ، جمیعت طلباء اردو سندھی ایشو پر کالج اور یونیورسٹی سے نکال کر سڑکوں پر لے آئی تھی ۔ گو کہ سندھی 1970 میں سندھ یونیورسٹی جامشورو نے اپنی آفیشل زبان بنائی جس کی وجہ سے "متحد ہ اردومحاذ" بنا تھا لیکن یہ کالجوں اور اخباروں میں شور غوغا کی حد تک رہا ۔ 1973 میں سندھی کو سندھ کی سرکاری زبان قرار دینے پر پورے سندھ میں اور خاص طور پر ، سانگھڑ میں یادگار پیپلز پارٹی بنانے پر ، جو ہنگامے شروع ہوئے ان سے شاید آپ لوگ واقف نہیں ، لیکن ان میں مارے جانے والے لوگ میرے ذہن پر نقش ہیں

آپ لوگ شاید نتائج پر فیصلہ کرنے کے عادی ہیں ۔لیکن میں اس بات پر زیادہ توجہ دیتا ہوں ، کہ ،" شیرا لگانے والے کون تھے "۔
اس کے بعد جو جھگڑے شروع ہوئے تو اس کے ذمہ دار ، جرم میں حصہ دار ضرور ہیں لیکن کلی مجرم نہیں۔مجرم  " شیرا لگانے والے لوگ " تھے  ۔

مہاجر 1947 سے 1973 تک پر سکون زندگی گذار رہے تھے ، سندھیوں کی زیادتیوں کے باوجود ، انہوں نے لسانی تعصب کو ہوا نہیں دی ۔ 1977 میں انہوں "نو ستاروں" کا اس لئے ساتھ دیا ، کہ شائد" لسانی تعصب" کے بجائے "اسلامی تعصب" ابھر کر آئے ۔ ہاں یہی تو درس ہم لوگوں کو دیا جاتا تھا ، کوئٹہ میں ، جماعت اسلامی کے ایک سکول میں، کہ مسلمان میں "اسلامی تعصب"  ہونا چاہئیے ،اس وقت ہم اس تعصب کو قابل فخر گردانتے تھے ۔ لیکن  " تعصب " تو تعصب ہوتا   چاہے اسلامی ہو یا غیر اسلامی ، اور جماعت اسلامی کے ،" اسلامی تعصب" کی فصل تو ہم کاٹ رہے ہیں ۔

لیکن افسوس کی جماعت اسلامی ، سیٹوں کے نام پر بک گئی ۔ 1977 کے بعد ، مہاجر ہندوستان سے درآمد نہیں ہوئے ۔ بلکہ جماعت اسلامی میں شامل افراد کے بچے ، والدین  کے خود ساختہ " اسلامی تعصب" کے اصولوں  کو چھوڑ کر،  وہ  اردو کو کراچی میں سہارا دینے والے بن گئے ، اور "متعصب" کہلائے ،  اردو تو مہاجروں کی پیشانی پر بدنما داغ بن کر پاکستاں میں زبوں حال ہے ۔
پاکستان کی قومی زبان اردو ہے نا ؟ یہی  "آئینِ پاکستان  "  میں لکھا ہے ۔
لیکن چونکہ یہ مہاجروں کی زبان ہے ۔ لہذا  60 سال سے ،اب تک  یہ یتیم ہے ۔
" جاگ پنجابی جاگ  تیری پگ نو لگ گیا داغ "   تو صرف  ، سیاسی نعرہ تھا ، جو الیکشن کے لئے لگایا گیا تھا ۔ لیکن جسےکے رسِ زہر   سے   اب بھی سڑاند اٹھ رہی ہے ۔
"پٹھان ، پٹھان کے خلاف گواہی دے تو کافر ہوجاتا ہے اور کافر ہوتے کے ساتھ ہی اس کی بیوی اس پر طلاق  ہو جاتی ہے" ۔   تو جاہلیت کا فتویٰ ہے جو آج بھی مارکیٹ میں بک رہا ہے ۔
مجھے زبان سے بھی محبت ، نہیں اور نہ ہی مہاجروں سے کوئی رغبت ہے ، کیوں کہ پاک و ہند ہجرت کے بارے میں، میں نے اپنی والدہ ، ماموں ، خالہ ، سے ضرور سنا ہے اور کتابوں میں بھی پڑھا ہے ۔  کہ کس طرح وہ لوگ "خون کے دریا " عبور کر کے پاکستان آئے ۔لیکن میں تو پاکستانی ہوں ، پاکستانی فوج میں رہا ۔

مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ میرے تجزئیے سے متفق نہ ہوں  گے ۔ کوئی بات نہیں  یہ میرا تجزیہ ہے ۔ جس سے قارئین کا متفق ہونا لازم نہیں ۔ لیکن میرا تجزیہ میرے ذاتی تجربات کا نچوڑ ہے ۔

میں اپنے بیٹے ، جو فوج میں کیپٹن ہے اس کے رشتے کی تلاش میں، ایک فیملی کے ہاں گیا ۔ شوہر امرتسر اور بیگم کشمیر ، خیر جب باتیں کافی ہوگئیں تو ، خاتون خانہ نے پوچھا ،
" آپ لوگ ہندوستانی ہیں "
یہ لفظ  میرے تحت الشعور میں دفن تھا اچانک ، پھدک کر باہر نکل آیا ۔
میں نے خاتوں سے پوچھا ،"  کیا ، "امرتسر اور سرینگر" پاکستان میں ہیں نا "
کہنے لگیں "نہیں "
 تو میں نے کہا " آپ بھی ہندوستانی ہیں " ۔
بہر حال ، پاکستان میں پیدا ہونے ، 60 سال گذارنے کے باوجود، آج تک ، "ہندوستانی" سمجھا جاتا ہوں اور ، امرتسر ، کشمیر سے آنے والے پاکستانی ہیں ۔ اگر یہ "الاعلیٰ کا ابو " کہے کہ:-
٭-  پاکستان  کا قیام اور اس کی پیدائش ایک درندے  کے برابر ہے   ( جلد 31 صفحہ 59،ترجمان القرآن 1948)      
٭-  مہاجر وہ  بھگوڑے اور بزدل ہیں  جنہوں نے قومیت کی جنگ لڑی  اور جب سزا بھگتنے کی باری آئی تو راہ فرار اختیار کی  (نوائے وقت 29 اگست 1948)
 ٭-  محمد علی جناح جنت الحمقاء کا بانی اور اجلِ فاجر ہے ۔ (صفحہ 153، ترجمان القرآن فروری 1946)
اور جب ھجرت کے گناہ کی سزا بھگتنے والے ، دہائی دیں ، تو غدار  !  بس یہ امتیاز آپ ختم کر دیں ، ایم کیو ایم مٹ جائے گی ۔
لیکن ایم کیو ایم کو زندہ رکھنے کے جرم میں پاکستانی شریک ہیں ، پاکستانی ۔

ذرا ٹھنڈے دل سے غور کریں اور یہ امتیاز ختم کرنے کے لئے ۔ پاکستانیوں کو " ڈومیسائل سسٹم ختم کرنا ہوگا " ۔ جس میں آج بھی لکھا جاتا ہے کہ
 والدین کہاں پیدا ہوئے ؟

7 تبصرے:

  1. نعمان یونس3 فروری، 2015 7:20 AM

    کسی حد تک آپ کی بات سے اتفاق ہے لیکن میری سمجھ سے باہر ہے کہ اردو زبان والے خود کو مہاجر مہاجر کیوں کہتے ہیں , یہاں تک کہ ایم کیو ایم بھی۔۔۔
    میرے کئی رشتے دار ہجرت کر کے پنجاب میں آئے اور کئی سندھ،،،
    اب اتنے سالوں بعد جب دونوں کا مواازنہ کرتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ شمالی پنجاب میں آنے والے اکثر پنجابی ثقافت میں میں مل کر ویسے ہی ہوگئے۔۔ جنوبی پنجاب والے اردو سے جڑے ہیں اور سندھ میں آنے والے اردو بولنے والے نہیں بلکہ مہاجر ہی ہیں اور وہ خود کو ہنودستانی یا مہاجر کہلانے میں فخر کرتے ہیں۔۔
    سندھ میں جتنی زیادتی پیپلزپارٹی نے اردو بولنے والوں کے ساتھ کی ، ایم کیو ایم نے اس کم نہیں تو زیادہ بھی نہیں کی۔۔۔
    اردو بولنے والے سندھ بھر میں اس اکثریت کی حکومتی نظام (جمہوریت) کے مرہون ملت اس مقام پر ہیں کہ کراچی میں رہنے والا اردو بولنے والا لاہور میں اردو بولنے والے کے آگے ایم کیو ایم کا ووٹر سمجھا جاتا ہے اور کراچی میں لسانیت کے خلاف بات کرے تو اسے قپنی قوم کا غدار کہا جاتا ہے یا پھر اسے سالوں سے جاری کوٹہ سسٹم ہونے والی زیادتی یاد دلائی جاتی ہے۔
    بات بہت آگے تک جاسکتی ہے لیکن اس سب کے ذمے دار جہاں تک سیاست دان اور اسٹبلشمنٹ ، اس سے کچھ کم ہم بھی ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. اگر آپ نے یہ پوسٹ دھیان سے پڑھی ہوتی تو یہ سوالات نہ کرتے اس میں صاف صاف لکھا ہے کہ یہ لفظ مہاجر آپ جیسے سو کالڈ سن آف دی سوائل نے ہم پر گالی کی صورت میں تھوپا تھا جسے ہم نے ماتھے کا جھومر بنالیا تب بھی آگ لگی ہوئی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
      پنجاب میں آنے والے مہاجروں کی اکثریت کا تعلق مشرقی پنجاب سے ہی تھا،زبان ایک تھی آپس میں رشتہ داریاں بھی تھیں اس لیئے گھل مل گئے ورنہ اردو بولنے والے مہاجروں کوتو آج بھی پنجابی ہندوستانی کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      اور ہم سے سندھیوں نے اتنی زیادتیاں نہیں کیں جتنے وفاق میں بیٹھے پنجابیوں نے کی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی کی ہر پوسٹ پر پنجاب کے ڈومیسائل کا قبضہ ہے اور کراچی کے پڑھے لکھے لوگ دربدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      ایم کیو ایم نے اردو بولنے والوں کو اکھٹا کیا ہے تب ہی تو غاصبوں کی آنکھوں میں ناسور کی طرح کھٹکتی ہے۔
      اردو بولنے والوں کو اس نام نہاد جمہوریت سے کچھ نہیں ملا سوائے کوٹا سسٹم کے جس میں چالیس ماہجروں کا ووٹ ایک اندرون سندھ کے سندھی کے برابر گنا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      ہمارا تعلیمی نظام نااہل پنجابیوں اور سندھیوں کو گورنمینٹ اسکولوں مین بھر بھر کر جان بوجھ کر تباہ کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس مری گری حالت میں بھی آج میرٹ پر سلیکشن شروع ہوجائے تو اردو بولنے والے ہی آگے کھڑے نظر آئیں گے انشائ اللہ جس کے خوف سے سندھی پنجابی میرٹ سسٹم سے خوف کھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      لسانیت کی بات تم لوگوں کے منہ سے اثھی نہیں لگتی۔ جو خود سب سے بڑے تعصبی ہوں جہاں پنجابی پٹھان بلوچی سندھی کو قابل فخر سمجھا جائے ،اس بھری کشتی میں صرف اردو بولنے والے ہی تم لوگوں پر بھاری ہیں حالانکہ پورا پنجاب اور سندھ ہمارے دیئے ٹیکسوں پر پلتا ہے ہم اس ملک میں جمع ہوانے والے ٹیکس کا ستر فیصد جنریٹ کرتے ہیں جو سب کا سب اٹھا کر پنجاب چلا جاتا ہے وہاں سے حکومت سندھ کو ملتا ہے اور پھر اونٹ کے منہ کا زیرہ اس مین سے کراچی کو ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی کی جابز پر پنجاب کا ڈومیسائل عشروں تک قابض رہا اب رہی سہی کثر اندرون سندھ کا ڈومیسائل پوری کررہا ہے اور کراچی کے پڑھے لکھے لوگ در بدر ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

      حذف کریں
    2. نعمان یونس صاحب اس تحریر کو پڑھ لیں آپ کو شافی جواب مل جائے گا
      http://iammohajir.blogspot.com

      حذف کریں
  2. پہلے تو جناب ہر کسی کو اپنے اصل پر فخر کرنے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیئے۔ اگر آپکے والدین ہجرت کر کے آئے تھے تو یہ انکا جگرا تھا۔ رہ گئی اردو تو جو چیز زبردستی تھوپی جائے اسکے سائیڈ افیکٹس تو پھر ہوتے ہیں۔ اردو زبان کو فیڈریشن کے نام پر لاگو کیا گیا، بنگلہ زبان کا سانس بند ہونے لگا تو شور اٹھا اور آخر بنگلہ دیش علیحدہ ہو گیا۔ پنجابی البتہ اپنی ہزار سال پرانی زبان کے ساتھ زیادتی پر چپ رہے اور آج انکی لاشیں کراچی اور کوئٹہ سے واپس آ رہی ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جب اردو کو بظور قومی زبان نافذکیا گیا تو یہ فیصلہ ہم نے نہیں کیا تھا اس مین پنجابیوں کی اکثریت شامل تھی
      اور بنگلہ دیش زبان کے مسئلے کی وجہ سے الگ نہیں ہوا بلکہ پنجابی وفاق کی زیادتیوں کی وجہ سے ان کے جائز حقوق غصب کر لینے کی وجہ سے الگ ہوا تھا تاریخ کو مسخ کروگے تو خود بھی مسخ ہوجائو گے
      پنجابیوں کی لاشیں کراچی اور کوئٹہ سے آرہی ہیں تو یقین کرلو کہ یہ سب ایجینسیوں کا کیا دھرا ہے جو خود پنجابیوں پر مشتمل ہیں مگر بالکل امریکا کی طرح اپنے لوگوں کو مار کر مسلما نوں کے خلاف پروپگینڈہ کرنے والا کردار نبھا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      اور کتنے بلوچی اور اردو بولنے والے انہوں نے مار دیئے پچھلے ساٹھ سالوں میں اس کا کوئی گنتی حساب ہے تمھارے پاس؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

      حذف کریں
  3. پنجاب میں بھی بہوت لوگ ہجرت کر کے آے میرے دادا نانا اور والد بھی مگر یہاں نا تو کوئی تعصب ہے اور نا کوئی الطاف بھائی جیسی کوئی چیز اور نا ہی مہاجر ہونے کا کونسیپٹ ہے بچپن سے ہی ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا وطن ہے پڑھایا جاتا ہے میں پاکستان میں پیدا ہوا مگر مہاجر زدہ ہوں نا مہاجر زادہ علاقائی خرافات ہیں یہ سب -

    جواب دیںحذف کریں
  4. شاہد جٹ : چونکہ آپ کے نام کے ساتھ جٹ لگا ہوا ہے تو آپ کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ آپ وہاں بھی پنجابی بولتے تھے اور یہاں بھی ۔

    فرق پڑا تو مشرقی پنجاب کے علاوہ باقی سب سٹیٹ میں مختلف زبان بولنے والوں کو !

    یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ مہاجر یا مہاجر زادوں کا کوئی کانسیپٹ نہیں ۔

    جب تک ، سارے پاکستانی اپنے دماغوں سے ، ذاتوں اور زبانوں کا خناس نہیں نکال دیتے ۔ مہاجر اور مہاجر زادے رہیں گے ۔

    دیکھو نا ، کراچی سے صرف 600 کلومیٹر دور احمد آباد سے آنے والے مہاجر ہیں اور کراچی ہی سے 1200 کلومیٹر دور پشاور سے آنے والے مہاجر نہیں ؟

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔