میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 30 مارچ، 2014

تیرے مُکھڑے کا کالا کالا تِل


 تِل سے متعلق علم کو Moleospy کہتے ہیں۔یہ دیگر پُراسرار علوم کی ایک شاخ ہے،اس کی بنیاد یہ ہے کہ انسان کے بدن پر جو خال یا تِل ہوتے ہیں اُنہیں بھی چھوٹے یا بڑے پیمانے پر پڑھا جاسکتا ہے اور ان کی مدد سے کسی شخص کے کردار اور شخصیت کے بارے میں چند نمایاں باتیں معلوم کی جاسکتی ہیں۔مولوسوفی کے ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس علم کی بدولت ہم لوگوں کے مستقبل کے حوالے سے کچھ احوال بھی جان سکتے ہیں ۔اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ خال یا تِل انسانی جسم کے کس حصے پر موجود ہیں اور پھر اسی کے مطابق تِل کی تشریح کی جاتی ہے۔ اس کے لئے چند باتوں کا جاننا ضروری ہے۔
 1۔وہ تِل جو بالکل گول یا دائرے جیسے ہوتے ہیں وہ آدمی کی خوبیوں اور صفات کے حامل ہوتے ہیں یہ انسان کی اچھی صفات کو ظاہر کرتے ہیں۔
 2۔اگر یہ تِل مستطیل یعنی لمبوترے ہوں تو ان سے پتہ چلتا ہے کہ حامل کے پاس اچھی خاصی دولت ہے یا مستقبل میں آسکتی ہے۔
 3۔تیکھے تِل مثبت اور منفی دونوں کے مظہر ہوتے ہیں۔
 4۔ایسے تِل جو رنگ میں ہلکے ہوں اُنہیں خوش نصیبی کی علامت تصوّر کیا جاتا ہے۔
 5۔اگر تِل کا رنگ سیاہ ہو تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی کامیابی سے پہلے بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 مختلف تِل، انسانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں ۔ ۔
 رخسار کا تِل

 تِل خواہ کسی بھی طرف کے گال پر ہو ،اس سے فطرت میں سنجیدگی ،ذوقِ مطالعہ اور خاموش طبعی کا پتہ چلتا ہے۔ایسے لوگ عام طور پر کسی بھی کام میں انتہا پسند نہیں ہوتے ہمیشہ درمیانہ راستہ اختیار کرتے ہیں ۔مزاج میں ٹھہراؤ ہوتا ہے ،بے صبری ،جلد بازی اور عجلت پسندی انکو پسند نہیں ہوتی ان کی ایک اور اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ خوشیوں کے لئے بےپناہ دولت کے خواہشمند نہیں ہوتے ۔قناعت اور تھوڑے میں‌ خوش رہنا ان لوگوں کی نمایاں خوبی ہوتی ہے۔
 ٹھوڑی کا تِل۔
تِل ٹھوڑی میں کسی جانب بھی ہو۔اُس آدمی میں ایسی صفات ہوتی ہیں جو قابلِ رشک ہو ۔ان کے اندر فیاضی اور محبت کا مادہ ہوتا ہے ۔اچھے اور محنتی کارکن ہوتے ہیں۔انہیں سفر کرنے کا شوق ہوتا ہے دوسرے لفظوں میں آپ ان کو سیاحت پسند کہہ سکتے ہیں۔یہ لوگ بہت ذمہ دار ہوتے ہیں اور ہر قسم کی ذمہ داری اُٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
 کان کا تِل۔ 
بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے کان پر تِل موجود ہو۔جن لوگوں کے کان پر تِل ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُن کو توقعات سے بڑھ کر دولت ملے گی۔ان میں دولت کی خواہش عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ 
آنکھ کا تِل۔ 
 آنکھ کا تِل بتاتا ہے کہ خواہ آدمی میں کتنی ہی صلاحیت ہو غربت اُس کے تعاقب میں رہے گی ۔اگر تِل آنکھ سے متصل گوشوں پر ہو تو یہ ایک ایماندار ،فرض شناس اور قابلِ اعتبار شخصیت کی نشان دہی کرتا ہے اسے بہر حال تعریف اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
بھوؤں کا تِل۔
 اگر تِل دائیں طرف ہو تو وہ ایک سرگرم،متحرک اور فعال زندگی کا مظہر ہوتا ہے۔جبکہ بائیں طرف تِل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ غیر فعال،سست اور بہت حد تک کام چور ہے۔اس سے خود غرضی،مطلب پرستی ،تنگ نظری کے علاوہ اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ شخص زیادہ دولت حاصل نہیں کر پائے گا۔
 پیشانی
اگر تِل پیشانی کے درمیان میں ہو تو اس سے آدمی کو شہرت ملنے کے امکان ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ خوشیاں بھی زندگی میں مستقل رہیں گی۔لیکن اگر تِل پیشانی کے دائیں یا بائیں جانب ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے اسے پریشانیوں کا بھی سامنا ہو سکتا ہے اور زندگی میں اپنی متعین کردہ اہداف کے حصول میں بھی مشکل ہوسکتی ہے۔لیکن یہ غلط بھی ہوسکتا ہے کچھ مثالیں ایسی بھی ہیں کہ پیشانی کے دائیں یا بائیں تل والوں نے ترقّی بھی پائی ہے۔
 ناک کا تِل۔ 
 ناک پر تِل ایک اچّھے دوست ہونے کا پتہ دیتا ہے یہ شخص بہت پیارا اور ملنسار ہوتا ہے ،قدرے شرمیلا بھی ہوسکتا ہے ۔ایسے لوگ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہتے ہیں۔ایسے شخص کی شادی اچھی جگہ ہونے کا امکان ہوتا ہے اسے زندگی میں کافی دولت مل سکتی ہے اور بیشتر خوشیاں خواہش کے بغیر مل جاتی ہیں۔تھوڑی سی اعتماد کی کمی بعض اوقات ایسے افراد کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں یہ لوگ کوشش کریں تو یہ کمی آسانی سے دور ہوجاتی ہے۔ 
بازو کا تِل۔ 
 بازو پر تِل کا مطلب یہ ہے کہ وہ بندہ خوش اخلاق،محنتی اور خوش باش ہے۔ایسے لوگ کھانے پینے کے شوقین ہوتے ہیں اور عموماً اچھی غذا کو ترجیح دیتے ہیں۔
 پیٹ پر تِل۔
 پیٹ پر تِل بسیار خوری کی نشاندہی کرتا ہے۔یہ لوگ آنکھ بند کرکے کھاتے ہیں ۔کسی حد تک فضول خرچ بھی ہوتے ہیں۔اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے کی وجہ سے اکثر پریشان رہتے ہیں۔ان لوگوں کی مالی پوزیشن ٹھیک نہیں رہتی۔
 کُہنی کا تِل۔
 ایسے افراد کو سفر کا بے حد شوق ہوتا ہے۔یہ لوگ بے یقینی میں رہتے ہیں۔آرٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ان میں پیسہ جمع کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
 کلائی کا تِل۔
 ایسے لوگ بہت احتیاط سے خرچ کرتے ہیں،ہوشیار اور ذہین ہوتے ہیں۔حساب کتاب سے چلتے ہیں قابلِ اعتبار بھی ہوتے ہیں۔عورت کی کلائی کا تِل صرف ایک شادی اور مرد کی کلائی کا تِل عموماً دو شادیوں کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔
 گُھٹنے کا تِل۔
دائیں گُھٹنے کا تِل دوستانہ مزاج اور معقول ہونے کا پتہ دیتا ہے۔یہ لوگ گھریلو ہوتے ہیں ۔بائیں گُھٹنے پر تِل بتاتا ہے کہ مزاج میں فضول خرچی کا عنصر زیادہ ہے۔البتہ ایسا آدمی اچھا بزنس مین ہوتا ہے۔
 کندھے کا تِل۔ 
 کندھے پر تِل سفر کی خواہش،بے چینی اور طبیعت کی اضطراری کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔دائیں کندھے پر تِل کا مطلب ہے کہ یہ لوگ محنتی اور رازداری سے کام کرتے ہیں۔جبکہ بائیں جانب تِل کی موجودگی قناعت پسندی کو ظاہر کرتی ہے۔ 
انگلیوں پر تِل۔ 
تِل اگر اُنگلی پر ہوں چاہے کسی بھی اُنگلی پر اس سے بد دیانتی کا پتہ چلتا ہے۔ایسے لوگ عام طور پر بڑ ہانکنے اور لمبی لمبی چھوڑنے کے عادی ہوتے ہیں ان سے محتاط ہی رہنا چاہیئے۔
 ٹخنے کا تِل۔
یہاں تِل کی موجودگی فطرت میں موجود خوف کا پتہ دیتی ہے۔لیکن اگر یہ تِل عورت کے ٹخنے پر ہو تو اس سے عورت کی حسِ مزاح ظاہر ہوتی ہے۔ایسی خواتین مذاق زیادہ کرتی ہیں اور خود بھی مذاق سہنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ایسی خواتین جرات مند ہوتی ہیں۔
 پیر کا تِل۔ 
پیروں کے کسی بھی حصّے کا تِل یہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس شخص کو جو کام بھی کرنا ہے اپنی مدد آپ کے تحت کرنا ہے۔عام طور پر ایسے لوگوں کو ورثے میں کم ہی کچھ ملتا ہے ۔یہ لوگ خود اپنے آپ کو بناتے ہیں انہیں سُستی سے بچنا چاہیئے۔
 جڑواں تِل۔ 
 اکثر تِل جڑواں بھی ہوتے ہیں۔مثلاً اگر ایک کلائی پر تل ہو اور اسی طرح دوسرا تِل دوسری کلائی پر اُسی جگہ ہو تو ایسے افراد میں دہرا پن ہوگا ان کی فطرت دورخی ہوگی۔
اسی اصول کا اطلاق ہر جڑواں تِل پر ہوتا ہے یعنی دونوں پیروں پر،یا دونوں گالوں پر!
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دو عدد تِل ایک ہی جگہ ہوں ۔ تو یہ بہ یک وقت دو معاشقوں کی کہانی  ہے !
(  بشکریہ : ثنا اللہ خان احسن )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔