میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 14 مارچ، 2014

ترقی کا سفر اور نااہل ذمہ داران


ہمار ایک فوجی دوست نے فیس بک کی پرانی پوسٹ دیکھ کر ایک تجزیہ کیا جس کا خلاصہ یہ تھا :-
14 -"  اور  آخر میں  ، ہم اپنے ذہن میں یہ توقع رکھتے ہیں جو امید کی صورت میں کسی گوشے میں موجود ہے ، کہ کوئی اور سب اچھا کرے گا ، اور ہمارے دروازے پر چپکے سے آکر ، لوگوںکو بتائے بغیر ہمارے خواب اور خواہشات   ، خزانوں کی صورت میں  رکھ جائے گا ۔
میرا حتمی تجزیہ یہ ہے ہمارے ماضی کے رویوں کے باعث کچھ نہیں بدلے گا ، نہ پاکستان اور نہ ہماری زندگی  "
 کچھ لوگوں نے ، کوششوں کے بل پر اپنی  سوچ اور تصورات میں واضح تبدیلی لائی ہے ۔ ہمیں بھی کوششیں کرنی چاہئیں تا کہ ہم سب مل کر بہتری لا سکیں  ،  آئیں اور کوشش کریں  ۔"


میرا خیال ہے کہ، صدیوں سے ، شاعر ، قصہ گو اور حکومتی کلاکار ، انسانوں کو یہ فریب دیتے آئے ہیں کہ آنے والے دن اچھے ہوں گے ۔ دنیا جہاں کی نعمتیں ہمارے گھر کی چھتوں اور صحن میں ھن کی طرح برسیں گی اور یہ اس وقت ہوگا کہ جب" کوئی  آئے گا " آنے والا ہمارے تمام ، معاشی ، سیاسی، اخلاقی  اور مذہبی دلدر دور کردے گا اور ہم دنیا کے افق پر بحیثیت پاکستانی چھا جائیں گے ۔
میں جب اپنی ماضی کی ساٹھ سالہ زندگی پر نظر ڈالتا ہوں ، مٹی کی اینٹوں سے بنا ہوا گھر ، کچی سڑکیں ، کنویں کا پانی ، لکڑیوں کی آگ، اپلوں اور لکڑیوں سے چلنے والا باورچی خانہ ، گھر سے دو میل کے فاصلے پر چند کمروں پر مشتمل سکول ، جہاں اینٹ رکھ کر یا گھر سے لائی ہوئی ٹاٹ کی بوری ، جو بارش میں اوور کوٹ کا کام دیتی ، سکول کے بعد مغرب سے پہلے ، کھانا کھا کر سونے کی تیاری کرنا ۔ میرے تحت الشعور میں دفن اس غیر ترقی یافتہ قصبے کا ایک خاکہ اپنے سفید و سیاہ رنگوں سے موجود ہے ، جس میں ہم اپنے اپنی خواہشوں کے رنگ بھرتے تھے ۔ میری ماں ، اکثر گنگناتی تھی ،
 " میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن"  نہ معلوم کیوں ؟

وہ بھی کس جنت کے انتظار میں اس دنیا سے رخصت ہو گئی ؟   کیوں کہ اس کا بچپن ، اس کے مطابق جنت نظیر قصبے میں گذرا ، لیکن میں نے اسے یہ بھی کہتے سنا ، کہ یہ ملک ہمارے لئے جنت سے کم نہیں ۔ میری اولاد  نے ہماری محنت کا حق ادا کردیا ۔
 
 وقت گذرنے کے ساتھ ، ہم نے سکول میں ٹاٹ آتے دیکھے ، پھر ہم ڈیسکوں پر بیٹھنے لگے ، ترقی کا یہ سفر ، سنا ہے کہ کام چور ، بددیانت ، رشوت خور ذمہ داران کی موجودگی میں آگے بڑھتا رہا ۔

ہم نے یقین مانیں اس دنیا میں جنت کا مزہ اس وقت چکھا جب والد نے ہمیں اپنے پاس لاہور بلا لیا ، دوکمروں کا مکان ، جس میں صحن کے ساتھ باورچی خانہ ، اور کونے میں پاخانہ تھا ۔ بجلی کا ایک بلب دونوں کمروں میں تھا ۔ جو صرف رات کو روشنی دیتا تھا ۔ تب میری والدہ نے کہا یہ تو جنت ہے ۔ ہمارے گھر کے سامنے ، ہرا بھرا گھاس کا میدان ،   ہمارے گھرکے چھوٹے صحن میں  موجود،  شیشم   کے  درخت پر  والدہ نے  رسی کا جھولا ڈال دیا۔ جہاں ، دیگر خواتین اور بچے آکر جھولا جھولتے  ، ورنہ سارا دن مجھ سے چھوٹا بھائی کپڑے کے پنگھوڑے میں جھولتا رہتا ۔ اور والدہ گھر کے کام کاج میں مصروف رہتیں ۔ اس کو جھلانے کی ذمہ داری بڑی بہن یا چچا پر تھی ۔ دادی چارپائی پر بیٹھتی اونگھتی رہتیں یا مجھے ، اپنے ساتھ لے کر میدان میں  آجاتیں ، جہاں دیگر دادیاں اورنانیاں ، اپنی اپنی جنت کے قصے ایک دوسرے کو سناتیں ۔
 ہاں ہمارے گھر کے سامنے ، کچا راستہ تھا جو اینٹوں کی سڑک سے ملتا تھا  اور اینٹوں کی یہ سڑک تارکول کی سڑک سے ملتی ، تارکول کی یہ سڑک اتنی چوڑی تھی کہ اس پر چلنے والا تانگہ سامنے  سے آنے والے کو راستہ دینے کے لئے ، اڈھا سڑک سے اترتا اور فوجی گاڑی سے اترنے کے لئے اسے پورا اترنا پڑتا ، اور  اگر سامنے کسی فوجی آفیسر کی جیپ آتا دکھائی دیتی تو اسے  نہ صرف اترنا پڑتا بلکہ کھڑا بھی ہونا پڑتا  اور ہاں یہ سول تانگہ نہیں ہوتا تھا بلکہ سرکاری تانگا ہوتا تھا ۔ جو  سپلائی والوں  ملکیت تھا ۔ جنت نظیر یہ علاقہ ، لاہور کینٹ میں سی ایم ایچ کی حدود میں تھا  ۔
ایک جنت نظیر علاقے سے دوسرے جنت نظیر علاقوں (لاہور ، بنو ں، ایبٹ آباد، نوشہرہ ، بہاولپور ،پشاور ،  راولپنڈی ، کوئٹہ)  میں والد کے ساتھ ، گھومتے گھامتے جب  1968 میں ہم اپنے گاؤں آئے تو وہ ایک شہر میں تبدیل ہوچکا تھا ۔   بجلی ، کمیٹی کا پانی ، پکی سڑکیں ، پکی مسجد  ، پکے فرش اور ڈیسکوں والے سکول ، گلیاں صاف کرنے کے لئے آنے والے خاکروب ،  گھر سے سکول جانے کے لئے ، بسیں ، تانگے اور سائیکلیں ۔  تب والدہ بولیں ، " اب ہماری جنت یہ ہے "،
اس کے بعد میرا سفر شروع ہوا ، میرے لئے  ضلع کوہاٹ کا شہر " ٹل" بھی جنت تھا اور اب اسلام آباد بھی جنت ہے ۔

دو تین سال پہلے جب میں ، اسلام آباد کے مقابلے میں ،اپنےشہر گیا تو اپنے ہم زلف سے بات کرتے ہوئے میں نے پوچھا ،
"عزیز بھائی ، ہمارا بچپن اور آپ بچوں کا بچپن ، کیا دونوں ایک سے گزرے ہیں "

وہ بولے ، " کہاں نعیم بھائی ، ہمارا بچپن اگر ان کو گذارنا پڑے تو یہ خوفزدہ ہوجائیں " "

تو بھائیو ! شاید شہروں میں رہنے والوں نے ترقی کے سفر کی اتنی تیز رفتاری نہیں دیکھی جتنی ہم نے دیکھی ہے ۔

جو ترقی کا سفر پاکستان نے ، 1947 سے 2014 تک کیا ہے ۔ ایسی صورت میں جب کہ پاکستان کے ذمہ داران  کام چور ، بددیانت ، رشوت خور اور اقرباء پرور ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں ، جہاں باپ کے بعد بیٹا اس کا ولی عہد بنتا ہے ۔

تو میں سوچتا ہوں کہ کیا ہم میں سے کوئی ، اپنے بیٹے کے بجائے ، اپنے بھائی کے بیٹے کو اپنا ولی عہد قرار دے سکتا ہے ؟



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔