میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 2 مارچ، 2014

انسانی زندگی


انسانی زندگی دائروں کی مانند ہے جو  ہم مرکز
( Concentric    نہیں بلکہ  جدامرکز(Eccentric)   ہوتے ہیں، ایک دائرے کا محیط کبھی دوسرے دائرے پر مسلط نہیں ہوتا۔

لیکن ایک بچہ اپنی بیدائش کے وقت، اپنی ماں کے دائرے     (Mother Circle)   کے زیر اثر ضرور ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ اپنی ماں کے مرکز سے اپنا مرکز دور کرتا رہتا ہے، لیکن اس کا مرکز اپنی ماں کے محیط سے باہر نہیں نکلتا۔

اسی طرح اولوالارحام،عشیر، ذی المقرب  کے دائرے     اپنے               Mother Circle    کے محیط کے اندر رہتے ہیں۔ اس  دائرےکا اثر دور تک جاتا ہے۔    اس       Mother Circle       کے محیط کے اندر رہنے والے،  ایک دوسرے کے مددگار اور غم خوار ہوتے ہیں اور اس     سے باہر نکلنے والے، دنیاوی مصیبتوں میں گھر جاتے ہیں۔انہیں اس دنیاوی مصیبتوں سے نکالنے کی ذمہ داری،  د و اداروں پر ہوتی ہے۔
 
  Mother Circle  کا ادارہ  اور اس  "علاقے کے امیر"  کا ادارہ ۔
امیر کے دائرے میں وہ افراد آتے ہیں جو اس امیر کی اطاعت میں ہوں،باغی نہ ہوں، یاہجرت کر کے دوسرے امیر کی اطاعت میں نہ چلے گئے ہوں۔
            دنیاوی مصیبتیں دو خوف کا مجموعہ ہیں۔ بھوک اور امن سے نہ رہ سکنے کا خوف۔

تمام انسانی زندگی اسے خوف سے مقابلہ کرنے میں گذرتی ہے۔آفاقی سچائیوں کے مطابق، پر امن وہ انسانی زندگی ہوتی ہے جو ان دونوں خوف سے آزاد ہوں۔ اور یہ دونوں خوف، انسانی زندگی میں انسان ہی کے پیدا کردہ ہیں۔ چنانچہ انسان کو خوف سے چھٹکارا پانے کے لئے خود قوانین بنانے پڑتے ہیں۔ لیکن ان قوانین میں، دوسرے ، انسان یا قوم کے لئے توازن نہیں ہوتا۔جبکہ آفاقی سچائیوں کے مطابق ان میں توازن ضروری ہونا چاہئیے ورنہ خوف سے چھٹکارا ممکن نہیں۔



يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ‌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿المائدة: ٨﴾
آپ کے خیال میں  ان دو خوف  سے چھٹکارا پانے کے لئے، کیسے انسانی قوانین بنانے چا ہئیں جو اس دنیا میں رہنے والے انسانوں کے لئے برابر ہوں ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔