میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 20 مارچ، 2014

رنگروٹ سے آفسر

یہ 1970 کی بات ہے، کہ  تقریباً دس بجے، ہمیں کراچی سے میرپور خاص گھر کے پتے پر  ایک رجسٹرڈ  خط ملا  جو ڈاکیئے نے ہمارے دستخط   لینے کہ بعد دیا     ،
"  محمد نعیم الدین خالد، آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کو مورخہ یکم جولائی کو ملیر کنٹونمنٹ  میں سٹیشن ہیڈکواٹر ر  رپورٹ کرنی ہے کیوں کہ آپ، ”نیشنل سروس کور“ کی ٹریننگ کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے۔ اگر آپ نے مقررہ  وقت پر رپورٹ نہ کی تو آپ  کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی،  جس میں آپ کو دو سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے،

نوٹ:آپ کے نام  یہ دوسرا نوٹس ہے،

منجانب : سٹیشن کمانڈر ملیر کینٹ کراچی ۔
 قارئین! یہ خط ملتے ہی ہمارے حواس نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا، پہلا نوٹس کب آیا ہمیں معلوم نہیں  ، ہمیں یوں لگا  کہ بس اب ہماری گرفتاری کے لئے ، ہمارے گھر کا دروازہ   ٹوٹ گا اور اس کے بعد   ،   ہم گرفتاری کے خوف سے،  گھر سے بیگ لے کر ریلوے سٹیشن بھاگے وہاں مال گاڑی کھڑی تھی جس نے حیدرآباد جانا تھا، اس کا گارڈ ہمارے، کلاس فیلو کے والد نکلے، انہیں اپنی بپتا سنائی انہوں نے  ہمیں اپنے ساتھ مال گاڑی کے، آخری ڈبے میں بٹھا لیا،  ڈھائی گھنٹے میں ہم   حیدر آباد پہنچے کویٹہ جانے والی گاڑیوں کا معلوم کیا، ایک ہمدرد نے بتایا، روہڑی چلے جاؤ،  وہاں سے تین ٹرین کوئٹہ جاتی ہیں کوئی نہ کوئی مل جائے گی،

تین بجے تیز رو آئی ہم اْس میں بیٹھ گئے، رات نوبجے وہ روہڑی پہنچی، گیارہ  بجے کوئٹہ ایکپریس آئی، اور یوں ہم دوسرے دن گیارہ بجے کویٹہ پہنچے اور بارہ بجے ہم کویٹہ سٹیشن سے پیدل چل کر ،  اپنے گھر پہنچ گئے، سب سے چھوٹا ایک سالہ بھا ئی اور والدہ صاحبہ گھر پر تھیں باقی، باقی دو بہنیں اور دو بھائی،  میفکنگ روڈ (جناح روڈ) کے   پار گھر کے سامنے سکول گئے تھے، وہ حیرانی اور خوشی کے جذبات میں ملیں اور پوچھا،
” آپا (میری خالہ) ، ان کے بچے کیسے ہیں؟
پھوپی کیسی ہیں ؟
اچھا کالج میں داخلہ مل گیا، کیوں آیا ہے؟ 
 نومبر میں ہم سب نے آنا تھا۔ وغیرہ وغیرہ ڈھیروں سوالات کر دئے۔
  میں نے انہیں نہیں بتایا کہ کیا پریشانی ہے؟
ایک بجے بہن بھائی آگئے، سب خوشی سے ملے، ڈھائی بجے والد صاحب بھی آگئے،  وہ بھی حیران ہوئے، ہم سب نے مل کر کھانا کھایا ،
والد نے پوچھا، ”ہاں  برخوردا کیسے آنا ہوا َ“۔
میں نے کراچی سے آیاہوا لیٹر نکال کر انہیں دیا، والد نے  پڑھا  اور ہنسے،
”ابھی تو ایک مہینہ باقی ہے،  پریشانی کس بات کی ہے؟  یہ تو حکومت کی پالیسی ہے کہ تمام طلباء نیشنل سروس ٹریننگ کریں گے"۔
والد ان دنوں، فوج  کے صوبیدار تھے، میڈیکل کور میں تھے اور کوئٹہ ریکروٹنگ آفس کے انچارج تھے، انہوں نے  1967میں آکر ریڈیو پاکستان کوئٹہ کے سامنے ایک، پرانی ہٹ میں یہ آفس قائم کیا تھا،  نرسری لائن میں، چار کمروں کی ایک ہٹ رہنے کے لئے ملی، آفس قائم ہونے کے چھہ ماہ بعد ایک کیپٹن ڈاکٹر صاحب آگئے، ہم نے  اور چھوٹے بھائی نے، والد کے ساتھ بھرتی کے سلسلے میں پورے بلوچستان کی سیر کی۔
نیشنل سروس ٹریننگ کا لیٹر ان کے ریکروٹنگ آفس کو بھی ملا تھا، پہلے مرحلے میں پنجاب اور سندھ کے میٹرک پاس سٹوڈنٹ کی شمولیت تھی اس کے بعد بلوچستان کی باری تھی، والد صاحب اور ان کے سٹاف نے، تمام سکولوں سے میٹرک کرنے والے تمام طالب علموں کی فہرست جمع کر کے سٹیشن ہیڈ کوارٹر بھجوا دی تھی، لہذا انہیں انتظار تھا کہ ہمارا بھی نام آئے گا، والد سے پوچھا کہ کیا کوئی راہ فرار ممکن ہے انہوں نے، انکار کردیا  اور ہم پریشان ہوگئے۔
  کوئیٹہ سے کراچی، ملیر کینٹ، رنگروٹی ،   وہاں سے تنگ آکر فرار  اور پھر ہمارا یہ سفر  جرمنی جانے کے لئے زاہدان تک پہنچنا ،  وہاں سے واپسی، پاکستان ائرفور س سے ہوتا   ہوا پاکستان ملٹری اکیڈمی کے گیٹ پر ختم ہوا- 

اْس کے بعد کا  تئیس سالہ سفر ،    کچھ ہماری کچھ دوسروں کی  کارکردگی کے بعد   1999  میں   12اکتوبر کے بعد ،ریٹائرمنٹ پر ختم ہوا۔

 
  1993میں ہم نے اپنے فوجی سروس کے دوران مختلف  فوجی رسالوں میں چھپے ہوئے مضمون کے علاوہ اپنی زندگی کے حالات سیاچین میں قلم بند کرنے شروع کئے جو تین رجسٹروں پر مشتمل تھے، پھر وہ رجسٹر سیاچین سے واپسی پر راستے میں پڑنے والی بارش کی نذر ہوگئے، ایک کورس میٹ نے دوبارہ حوصلہ دیا اور دوبارہ لکھنا شروع کیا، کل رات  (آٹھ جنوری  2014)     ہمیں اچانک خیال آیا کہ، کیوں نہ جو کچھ لکھا ہے وہ  دوستوں کے لئے وہ بلاگر کے حوالے کرد یا جائے۔
تو دوستو ، یہ واقعات چونکہ فوج سے متعلق ہیں  کچھ باتیں آپ کو سمجھ نہیں آئیں گی، تو پوچھ لینا، آپ کی رائے میرا حوصلہ بڑھائے گی تو مزید لکھوں گا۔ شکریہ
ٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰٰ
٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭ 
آئی ایس ایس بی یاترا

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔