میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 20 مارچ، 2014

آبزرویشن پوسٹ اور آبزرور


   
Predicted Fire  فائر جسے عام فہم زبان میں گنری کا نچوڑ کہتے ہیں ، ہماری رہی سہی عقل بھی نچوڑ گیا، میجر یوسف اس میدان کے شہسوار تھے۔ اور ان کی ثقیل باتیں  بھرے بادل، ہمارے سر پر برسنے کی بجائے اوپر سے گذر جاتے، جب لیکچرز کی گھنگھور گھٹائیں سر پر سے گذرنے لگیں تو ان کی آڑ میں، بندہء بشر، کلاس روم سے نکل جی ٹی روڈ سے ہوتا، راولپنڈی مال روڈ سے ہوتا لاہور انارکلی میں پہنچ جاتا ہے۔ایک دفعہ ایک دیہاتی گھومنے کے شوق میں میرپورخاص سے کراچی آنکلا، تیز رفتار گاڑیاں، فلک بوس عمارتیں دیکھتا ہوا وہ چندریگر روڈ پر پہنچا، تو سامنے حبیب بنک پلازا کی بائیس منزلہ بلڈنگ دیکھ کر حیران و پریشان رہ گیا ، سمجھ نہ آتا تھا کہ، اسے پہلے کنویں میں بنایا تھا اور باہر نکالا یا باہر ہی ایسا بنایا، دانتوں میں انگلی دبائے اسی سوچ میں غلطاں تھا کہ ایک حضرت مانند عمرو عیار وہاں پہنچ گئے، دیہاتی کو دیکھ کر خوش ہوئے کہ یہ شکار پھنس جائے گا، دیہاتی کے پاس آئے اور کرخت آواز میں بولا،
”کیا کر رہے ہو؟“۔
دیہاتی پریشان ہوگیا، گڑبڑا کر بولا، ”وہ، وہ، اس بلڈنگ کی منزلیں گن رہا تھا“۔ 
سوال ہوا، ”کتنی گنی ہیں اب تک؟“ 
دیہاتی ڈرتے ڈرتے بولا، ”جی ابھی تو پانچ ہی گنی ہیں“۔
نوارد نے کہا، ”نکالو پانچ روپے، یہاں ہر منزل گننے کا ایک روپیہ لگتا ہے“۔
دیہاتی نے چپکے سے نیفے میں سے کھسکا کھسکا کر پانچ روپے کا  مڑا تڑا نوٹ نکال کر نوارد کے حوالے کیا، وہ لے کر رفو چکر ہو گیا، دیہاتی دل میں خوش چلو سستے میں جان چھوٹی میں تو سولہ منزلیں گن چکا تھا۔ اور اپنی راہ چل پڑا، یہی ہمارے ساتھ ہوا،  میجر یوسف پڑھا رہے تھے، ہم میرپورخاص اور حیدر آباد  سے کراچی اپنی منگیتر کے ساتھ جارہے تھے، کہ میجر یوسف کی آواز آئی،
”خالد اکوڑہ خٹک سے واپس آجاؤ“۔
ہم نے چونک کر سر اٹھایا اور شرمندگی سے مسکراتے ہوئے  فاتحانہ انداز میں سر جھکالیا، کہ میجر یوسف سمجھے تھے کہ انہوں نے ہمیں آدھے راستے میں پکڑ لیا تھا۔

    کوئی ویک اینڈ ایسا نہ ہوتا کہ جس پر جانے کی اجاز ت ہو اور ہم یا ہمارا گروپ، نوشہرہ ٹہر ا ہو، پشاور سے واپسی پر اتوار کا دن تھا، پشاور سے نوشہرہ کا کرایہ ڈیڑھ روپیہ ہوتا تھا،  غالباً تیسرا ویک اینڈ تھا ، ہم پشاور سے نوشہرہ آرہے تھے ، نوشہرہ کے نزدیک جھگڑے کی آواز سن کر آنکھ کھلی، بس میں کوئی ہم چھ افراد تھے  اور ایک فیملی  کے ساتھ کنڈیکٹر جھگڑرہا تھا کہ بس میں بیٹھنا تھا تو سو روپے لے کر کیوں بیٹھے، میرے پاس چینج نہیں ہے۔  مرد کوئی پیتیس سال کی عمر کا سلجھا ہوا شخص لگ رہا تھا اور کنڈیکٹر اس کو  پشتو میں بری طرح جھاڑ رہا تھا،  ہم نے پشتو میں پوچھا، کتنا کرایہ ہے،  معلوم ہوا کہ تین روپے، تین سالہ اور پانچ سالہ بچے چونکہ میاں بیوی کی گود میں تھے لہذا، ہم نے تین روپے نکال کر، کنڈیکٹر کو دیتے ہوئے کہا،
"یہ لو اور شور مت کرو“۔ 
مرد نے ہمیں احسان مند ہوکر، ہم سے پوچھا ، " آپ نام کیا ہے؟"،
”لیفٹنٹ، نعیم“ ہم نے جواب دیا  اور بتایا کہ سکول میں کورس کرنے آئے ہیں،

 اس کے کوئی تین چار دن کی بات ہے، کہ ہمارے بیٹ میں ” محمد عاشق بیدل“  نے ہمیں بتایا کہ کوئی صاحب ہم سے ملنا چاہتے ہیں، کمرے سے باہر نکلے، تو دیکھا کہ بس والے صاحب کھڑے ہیں، ہم انہیں کمرے میں لائے اور اکلوتی کرسی پر بٹھا دیا، معلوم ہوا کہ وہ سوموار سے، ، ”لیفٹنٹ، نعیم“ کو تلاش کر رہے ہیں اور  جس ، ”لیفٹنٹ، نعیم (ہمارا کورس میٹ)‘‘ کے پاس گئے تو وہ، وہ نہیں تھا جس کی انہیں تلاش تھی، کیوں کہ انہوں نے  ، ”لیفٹنٹ، نعیم“  کا مبلغ  ”تین روپے“ کا قرض لوٹانا تھا، جو ان پر بار گراں بن چکا تھا، انہیں میس کی چائے پلائی جو انہوں نے بادلِ  ناخواستہ  پی جو ہم بے دل خواستہ پیا کرتے تھے اور عادی بن چکے تھے۔  انہوں نے قرض لوٹانا چاہا لیکن ہم نے انکو مقروض رکھا مناسب سمجھا، اور یوں جہانزیب خان سے ہماری دوستی ہوگئی، اور وہ ہمارا احسان چکانے کے لئے،  اپنے ملازم کے ہاتھوں گجریلا  اور کشمیری چائے بھجوا دیا کرتے، ان کے دونوں چھوٹے بچوں، عاطف زیب اور عامر زیب  نے انکل نعیم سے دوستی کر لی۔  دوپہر کوکلاس سے واپس آتے، میس میں کھانا کھاتے اور بیرک کے لان کے سامنے ہم چھ آفیسروں کی بیٹھک جمتی، تاش کی بازی چلتی،  ہم اونچی آواز میں نعرہ  مارتے ۔ " عاشق "
کمرے سے جواب آتا ، " جی سر "
" چائے لاؤ "  ہم حکم چلاتے ۔
" لایا سر " ۔ وہ جواب دیتا ۔
کوئی تین دن  بعدکی بات ہے ، ہم نے حسبِ معمول نعرہ مارا ، " عاشق " ۔ ۔ ۔    " چائے لاؤ " 
اس سے پہلے عاشق بیدل جواب دیتا  ۔ کہ " لایا سر " کی نسوانی آواز آئی اور پھر کھنکتی ہنسی سنائی دی ۔
ہم سمیت باقی  پانچوں نے چونک کر دیکھا اور پوچھا ، "کون ہے ؟   "
 " کو قاف کی پریاں " ہم نے جواب دیا ۔
ہم سے  سو فٹ دور مال روڈ کے ساتھ کچا راستہ جاتا تھا ، جس کے دونوں طرف سنتھے کی اونچی باڑ لگی تھی ، وہاں سے سکول اور کالج سے واپس آنے والے اور والیاں گذرتی تھیں  ۔  یہ روزانہ کا  معمول بن گیا ، جونہی ایک خاص  برقعہ پوش گروپ ، وہاں سے گذرتا ، کوئی نہ کوئی نعرہ مارتا، " عاشق " ۔ ۔ ۔    "چائے لاؤ" 
جواباً کوہ قاف کی پریوں  کی آواز اور جلترنگ میں " لایا سر " کی آواز سنائی دیتی ۔  چونکہ ہم منگنی شدہ تھے ۔ لہذا اس آواز کو سننے کے حق سے ہمیں دستبردار ہونا پڑا ، لیکن ہمارے ایک دوست ، کچھ زیادہ سنجیدہ ہوگئے ۔ اور پھر ایک دن چند  دوستوں کو ان کی مدد کے لئے بھاگنا پڑا ۔

   
Predicted Fire   کی کچھ چیزیں ہمیں سمجھ آئیں آخر کو ہم سیکھنے کو آئے تھے کچھ نہیں آئیں، سٹوڈنٹ جو ہوئے، نہ سمجھ آنے والہ چیزوں میں ایک NRبھی تھی، پورے دو پیریڈ  میجر یوسف نے NR یعنی NON Rigidity  تھی جس کی تصحیح   Correction،  Predicted Fire  فائر میں سب سے اہم سمجھی جاتی تھی، اور جس کے نہ صحیح کرنے سے گولہ صرف دس گز بھٹکتا تھا، جب پیریڈ کے خاتمے پر میجر یوسف نے ہمارا سر بار بار اوپر نیچے ہلتا دیکھ کر  ہمیں گمان ہوا، کہ وہ یقینا ہم سے سوال کریں گے تو ہم نے، ماہران کے بتائے ہوئے دانشمندانہ  چٹکلوں کے مطابق فورا سوال داغا، ”سر یہ NRاندازاً کتنی ہوتی ہے؟“ اس پر انہوں نے شہادت کی انگلی اٹھائی اور انگوٹھے اس کی پور کے چوتھائی حصے کو دبایا اور گویا ہوئے، ”اتنی“۔  اور پھر  Slant Rangeکی گردن پکڑ لی، اور اب بھی کوئی ہم سے پوچھے کہ،” NR کتنی ہوتی ہے؟“ تو ہم ہاتھ کے اشارے سے بتاتے اتنی ہوتی ہے۔

NRاور Long Hand Method   جسے ہم Long Face Method کہتے، کو سمجھنے کی کوشش نے ہمیں ہسپتال پہنچا دیا، چار ہفتے، ہسپتال میں آرام کرنے کے بعد جب ہم، باہر نکلے تو اگلے دن خود کو OPپر اس انداز میں بیٹھا پایا۔ کہ گلے میں دوربین اور  ہاتھ میں رینج کا نقشہ تھا، کیوں کہ ہم لنڈی کوتل میں آبزرور ٹریننگ کر چکے تھے اور بطور کامیاب  فارورڈ آبزرویشن آفیسر  کیڈر پاس بھی کر چکے تھے، لہذا  میجر یوسف نے اس ناچیز پریکٹیکل  آبزرور کو،  پہلی شوٹ دے دی،  بتائے گئے طریقے کے مطابق، ہم  تجربہ کار آبزرور تھے۔ کیوں کہ ہم نے، لنڈی کوتل میں Miniature Rangeپر کامیاب شوٹنگ لے چکے تھے، لہذا ہم اعتماد سے شوٹ لینے لگے،  دائیں بائیں آگے پیچھے کروانے کے باوجود گولے نے ٹارگٹ پر گرنے سے انکار کر دیا ,  ایسی ایسی کریکشن دیں کہ اگر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ  والے سن لیتے تو پھڑک اٹھتے، افسوس کہ دس گولے گرانے کے بعد بھی ٹارگٹ  ہماری حالت زار پر ہنس رہا تھا، ہم نے آموختہ دہرایا تو یاد آیا، کہ ہمارے لنڈی کوتل کے روم میٹ نے، ایسی صورت حال میں جب، رینج کے نیچے کھڑے ہوئے آفیسر نے شرارت میں گولے، کو گھمانا شروع کیا تو اُس نے، چمک کر آرڈر دیا تھا، " Error at the Gun"   یہ سننا تھا کہ میجر یوسف پھڑک اٹھے، وائرلیس پر حکم دیا،”نمبر تھری سٹاپ فائرنگ، نمبر فور ریڈی“  اور ہمیں حکم دیا دوڑ کر گن پوزیشن جاؤ اور اس کا ڈاٹا چیک کرو،  
  ہم   تقریباً دوڑتے، چلتے پانچ کلو میٹر پیچھے گن پوزیشن پر پہنچے، وہاں ڈاٹا چیک کیا،  کوئی غلطی نہ نکلی، آخر GPOکو کہا ،
"صاحب میرا خیال ہے کہ آپ نے
NRنہیں لگائی"-
”خالد صاحب،  یہ 
Predicted Fire   نہیں بیٹری ٹارگٹ تھا“۔ انہوں نے کہا، "آپ پانی پئیں اور اب گاڑی میں واپس OPپہنچیں"
  اُس کے بعد ہم نے کبھی اس آرڈر کو
Miniature Rangeپر  بھی استعمال نہیں کیا۔  کیوں کہ گن کبھی غلط نہیں ہوتی، OPپر بڑے بڑے ماہرین کو غلط ثابت کر دیتی ہے۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔