میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 26 مارچ، 2014

ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ۔


 انگلش کی طرح اردو بھی زبان نہیں ۔ مختلف زبانوں کا سمندر ہے ، جس نے دنیا کو گھیرا ہوا ھے ۔ جس طرح ، ساری دنیا میں گھومیں، آپ کو انگلش بولنے والے اور انگلش سمجھنے والے افراد ملیں گے ۔
اسی طرح آپ کو اردو بولنے والے اور سمجھنے والے افراد بھی ملیں گے خواہ وہ "اردو" کو "ہندی" کے نام سے پکاریں یا اردو کے نام سے ۔
اردو میں اتنی وسعت ہے کہ وہ دوسری زبانوں کے الفاظ اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے ۔
گلاس، کلچ ، بریک ، گئیر ، سٹئیرنگ ، کمپیوٹر ، کی بورڈ ، ماؤس ، انجن ، جیٹ ، آکسیجن ، ہائیڈروجن ، ایٹم ، نیوٹران ، پروٹان ، اوزون اور اس طرح کے کئی سائیسی الفاظ اردو کے ہیں ۔

ضرور ، آپ نے "لاوڈ سپیکر" کو ، "آلہ مکبر الصوت" کہہ کر فالتو الفاظ کا جھمگٹا لگانا ہے ؟

اردو بلاگر ، انسانی مضامین کو لوگوں تک پہنچانے کی ایک بہترین کاوش ہے ۔ جس میں لکھنے والے ، اردو اور انگلش کا امتزاج  کا بہترین انداز اپناتے ہیں لیکن کئی جگہ اتنی مشکل الفاظ جگہ پاتے ہیں کہ جن کا سمجھنا ، نوجوان نسل کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔