میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 30 مارچ، 2014

بیٹی کو نصیحت ۔



کسی دوست نے بالا تحریر مجھے شئیر کی ۔ میں اسے پڑھ کر سوچتا رہا ، اور پھر جواباً اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ آپ بھی پڑھئیے ۔

کاش ۔بیٹی ، آلو ہوتی یا انڈا !

وہ تو گوشت پوست کی بنی ہوئی اسی انسان کی طرح ایک مخلوق ہوتی ہے ،جسے اس جیسے لوگوں میں اپنا وقت گذارنا ہوتا ہے۔

یا کاش اللہ اسے آلویا انڈے کی طرح دماغ ہی نہ دیتا ۔
تاکہ اس میں کوئی سوچنے ، سمجھنے اور تجزیہ کرنے والا ذہن ہی نہیں بنتا  
 ٭-  تاکہ وہ،ایک صرف ایک جنسی مخلوق ہوتی ۔شوہر کو خوش کرنے کے لئے،  یا
 ٭- ایک ملازمہ ہوتی ، گھر کا کام کرنے کے لئے ، یا
٭ - ایک باندھی ہوتی تاکہ وہ صرف بندھی ہوتی بچوں کو پالنے کے لئے ،  یا
 ٭ -  یاکاش ، باپ اسے زیور تعلیم سے آراستہ ہی نہ کرتا ۔یا
٭-  بارہ سال کی عمر میں شادی کردیتا تا کہ وہ آلوبن جاتی یا انڈا  


جیسے ہماری مائیں تھیں یا آج کل کے بچوں کی دادیاں یا پر دادیاں  


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔