میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 20 مارچ، 2014

ہم سکول گئے

            نوشہرہ کے  بس اڈے پر اترے۔ دائیں بائیں دیکھ ، کچھ بھی نہیں بدلہ تھا ، جو منظر 1966 میں ہم نے دیکھا تھا وہی 1977 میں معمولی تبدیلی کے ساتھ  تھا ، چوک سے آگے ، دریائے کابل پر  کشتیوں کا پل نظر آرہا تھا ، پشاور کی طرف جانے والی سڑک کے دائیں طرف، گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 کی سرخ پتھروں کی انگریزں کی بنائی یوئی بلڈنگ درختوں کی اوٹ سے نظر آرہی تھی ، اور پنڈی جانے والی سڑک کے بائیں طرف ، گورنمنٹ کالج کی سفید دیوار نظر آرہی تھی اور اس کے بعد "کسسی " پر پل نظر آرہا تھا ، پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے بعد ، اڈے کی طرف دیکھا ،   تو ایک فوجی بس اور ایک ڈھائی ٹن  ٹرک کھڑا نظر آیا ۔ جس کے ساتھ   پانچ چھ BHMاور ایک صوبیدار صاحب ایک فوجی ٹینٹ کو شامیانہ بنائے اسقبالیہ سجائے بیٹھے تھے، وہاں پہنچے انہوں نے نمبر پوچھا، لسٹ سے دیکھ کر بیر ک نمبر  19اور کمرہ  4نمبر بتایا،ایک خاکی رنگ کا لفافہ ہاتھ میں پکڑا دیا۔ بیٹ مین کو چٹ پر لکھ کر دیا، بیٹ مین سامان کو لے کر ڈھائی ٹن کی طرف گیا اور ہم بس کی طرف  چل دئے، بس آدھی سے زیادہ کورس میٹس سے بھری ہوئی تھی سب سے گلے ملے، جب گپ شپ ختم ہوئی تو سیٹ پر بیٹھ گئے، ایک اور بس آگئی تو ہماری بس سٹارٹ ہوئی، بس چلی تو لفافہ کھول کر کاغذات نکالے،  کورس کی جائننگ انسٹرکشن تھیں، پہلے چار ہفتوں کا ٹرینگ پروگرام، دوپہر کے کھانے کے بعد لائبریری جاکر لئے جانے والے پمفلٹ کی لسٹ، آرٹلری سیمنا میں لگنے والی فلموں کے نام، نوشہرہ کلب میں فلم کا دن اور ہفتے کوتمبولا کھیلنے کی خوشخبری، میس میں ڈنر نائیٹ، گیسٹ نائیٹ کے دن اور لباس، میس میں بلئیرڈ کھیلنے کے اوقات، غرضیکہ ہمیں کسی چیز کی تفصیل پوچھنے کی ضرورت نہ تھی، بس میس کے سامنے رکی۔ لان میں کورس میٹسں کا جم غفیر نظر آرہا تھا، زور زور ہے قہقہے لگاتے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنستے ہوئے، 

میس کے گیٹ میں داخل ہوتے ہی بائیں طرف ایک بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا، جس میں پورا سکیچ بنا تھا، وہاں بیٹھے ہوئے سٹاف نے  بیرک نمبر پوچھا ہم نے بتایا، تو اس نے وہیں سے سامنے والی بیرک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتا یا، اِس جیسی، اس کے پیچھے والی بیر ک میں ہے او ر  سکیچ پر مزید  گائیڈ کیا، ایک چٹ دی کہ یہ اپنے بیٹ مین کو دے دیں وہ لائبریری سے پمفلٹ لا کر دے دے گا، ہم شکریہ ادا کر کے، لان میں کھڑے ہجوم میں کھو گئے۔ میس میں دوپہر کا کھانا کھایا  اور  اپنے کمرے کی جانب روانہ ہو گئے،  کمرے کے دروازے پر ہمارے نام کی بڑی نفاست سے ٹائپ شدہ چٹ لگی تھی، کمرے میں داخل ہوئے، تو کوئی بیس فٹ اونچی چھت اور ایک لمبی پائپ سے لٹکتا ہوا نوکدار، پنکھا  جس کے عین نیچے ہمارا پلنگ لگا ہوا تھا، ہم نے پنکھا گرنے سے شہید ہونے سے بہتر سمجھا، کہ پنکھے کی مار سے دورہٹ کر پلنگ لگایا جائے۔ سولہ ضرب سولہ فٹ کمرے کے ہم مکین تھے، اس بڑے کمرے کے پیچھے  ایک چھوٹا کمرہ ساتھ ایک جہازی سائز باتھ روم، پچھلے کھلنے والے دورازے سے باہر نکلے تو پانچ فٹ دور مزید دو کمرے، معلوم ہوا، کہ ایک کچن ہے اور دوسرے  سٹور، ایک کمرے میں ہمارا بیٹ میں اور دوسرے کمرے میں سر کبیر کا بیٹ مین تھا،  پوری بیرک میں آٹھ کمرے تھے، کمرہ تین میں سر کبیر، چار میں ہم اور پانچویں میں وجاہت  علی مفتی ( بعد میں جنرل)،

دوپہر کا وقت تھا، بیٹ مین کو کتابوں کی لسٹ   دستخط کر کے دی۔ ہمارا بیٹ میں گنر تھااور اس کا نام عاشق تھا،  ایک اونچا سنتا اور دوسرے کئی دفعہ سمجھانا پڑتا، کام بھر بھی غلط ہوتا،  ہم نے لسٹ پر آخری نمبر دکھایا اور پوچھا یہ کیا لکھا ہے، کہنے لگا ” تریئی  (تیئیس) ، ہم نے کہا شاباش اب یہ لسٹ لے کر لائبریری جاؤ اور وہاں سے کتابیں لے آؤ، وہ  چلا گیا ہم سو گئے، گھنٹے بعد دروازے  کے کھلنے اور بند ہونے کی آوازسنائی دی، دیکھا تو، عاشق میاں کتابوں کا ایک بنڈل اٹھائے داخل ہورہے ہیں ان کا منہ کتابوں کے پیچھے چھپا ہے،  اندر داخل ہوتے ہی فریادی انداز میں بولے،
”سر، جی میں تے آخیاسی کہ تریئی نمبر کتاب ساب منگی اے،  پر میجر صاب،  اے ساریان دے کے، مینو ٹور دتا، وت تسی  تریئی نمبر کتاب کڈ گھنو تے میں مڑ اے ساریاں  واپس کری گھناں“۔
  ہم سمجھ گئے، کہا ٹھیک ہے  میز پر رکھ دو اورجاکر، ہمارے لئے  میس سے چائے لے آؤ، وہ کتابیں رکھ کر واپس باہر جانے کے لئے گھوما،
پوچھا ، " کہاں جا رہے ہو؟ "
کہنے لگا ، " ساب جی چاء گھننے " ۔
  پوچھا، " کیسے لاؤ گے ؟"
کہنے لگا، "کوپ میں"۔
ہم آہ بھر کر رہ گئے، اور اسے تھرموس دے کر بولے یہ لے جاؤ اور اس میں لاؤ، نیند تو خراب ہو گئی تھی،  کرسی پر بیٹھ کر کافی دیر کتابوں کو گھورتے رہے ہمت کر کے  کتابوں پر لپٹی ستلی کھولی،ا یک کتاب اٹھاتے دیکھ کر رکھ دیتے، دوسری کتاب اٹھاتے اسے بھی رکھ دیتے، ان تیس کتابوں کے علاوہ، چار سائیکلوسٹائل رجسٹر، یہ سب کتابیں صرف ایک گن کو فائر کرنے کے لئے تھیں، آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، اس سے تو اچھا تھا پی۔ ایچ۔ ڈی کر لیتے کم از کم اہل علم تو کہلاتے، یہاں سے جانے کے بعد تو سکول سے واپس آنے والے ہیں کہلائیں گے۔

              اگلے دن کلاس روم گئے کوئی گیارہ بجے اچانک ہمارے ہاتھوں میں پرچے تھما دئیے گئے، کہا کہ حل کرو۔ پرچہ سامنے رکھ کر بیٹھ گئے، بازؤ میں اٹکا  پائپ نکالا، کیپٹن یوسف سے، اجازت مانگی انہوں نے گھور کر دیکتے ہوئے اجازت دے دی، ہم نے پائپ میں خوشبودار تمباکو ”ایمفورا“ بھرا، اسے سلگایا لمبا کش لیا، ہم نے پہلے ہی دن حسب دستور، کلاس کی سب سے آخری سیٹوں پر قبضہ کر لیا تھا، میرے دائیں طرف احمد خان بلوچ ، بائیں طرف، سر نیازی  (52
nd L/C) اور ان کے ساتھ  سے حبیب (53rd L/C)اور دائیں والی میز پر،  احمد یار جنگ اور وسیم الرحمٰن قریشی ،  ہماری دیکھا دیکھی، باقی  پانچوں نے بھی سگریٹ اور پائپ نکال لئے،  ہم تو پیپر کو دیکھتے اور ایک دھواں دھار کش لگاتے،  جو سوال سمجھ میں آئے اُن کے جواب، اپنی بساط،  ماہرانہ رائے،گیارہ ماہ اور تین دن کی فوج میں نوکری  کے مطابق دئیے۔  جس کا نتیجہ اتنا شاندار نہ تھا،  چنانچہ میجر یوسف نے اپنے آفس میں سرزنش کے لئے بلالیا، پندرہ منٹ لیکچر کے بعد کہا،
”خالد،پری کورس ٹریننگ کے بعد بھی آپ کار زلٹ  بہت برا ہے، کیوں؟“
ہم نے بتایا ، " سر ،  ہم تو پری کورس ٹریننگ کے پاس سے بھی نہیں گذرے-"
اس پر انہوں نے ہمیں ہمارے مومنٹ آرڈر کی کاپی دکھائی، جس پر یہ الفاظ، ہمارا منہ چڑا رہے تھے
The Officer was given extensive & deliberate Pre-Course Training۔
 ہم نے کہا، ”سر اگر بستر پر لیٹے ہوئے آفیسر کو ایمنگ سرکل سکھانا اور لنڈی کوتل میں آبزرور کیڈر پر بھجوانا، پری کورس ٹریننگ میں شمار ہوتا ہے تو ہم واقعی مجرم ہیں“۔ 

              حساب نے ہمیں بے حساب رُلایا، گو ہم حساب میں اتنے برے نہیں  مگر حساب روپے پیسوں کا ہونا چاھئیے اور وہ بھی جمع کا۔ لاگ اور اینٹی لاگ  کے چکر نے ہمیں گوشہ نشین کردیا، لاکھ سر پیٹنے کے باوجود ہم ماسٹر آف لاگ نہیں بن سکے۔ دو کو اگر دو  سے ضرب دیں تو حاصل ضرب چار آتا ہے، لیکن اگر آپ دو کا لاگ نکالیں، پھر اُس میں دو کے لاگ کو جمع کریں اور حاصل جمع کا اینٹی لاگ نکالیں تو حضرت چار یوں غائب ہوں گے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

سارا دن کلاس میں جمع و تفرق کرنے کے بعد ہمیں ہوم ورک کا لوڈ تھما دیا جاتا شروع میں تو سیکھنے کے جذبے نے  ہمیں کسی اوور  لوڈ سواری کی طرح برتا سورج غروب ہونے کے وقت بیٹھتے، تو سورج نکلنے پر معلوم ہوتا کہ صبح ہو گئی ہے، پھرکلاس میں بیمار مرغی کی طرح ہماری گردن دائیں بائیں گھومنے کے بعد ڈیسک پر جا لگتی۔ مگر آہستہ آہستہ ہم نے ہوم ورک جلد ختم کرنے کے نت نئے  سائینٹیفک طریقے دریافت کر لئے۔ فائر ڈسپلن پڑھتے پڑھتے خود ہمارا ڈسپلن خطرے میں پڑ گیا۔ کیوں کہ سپاٹ ٹیسٹ میں ہم، نو۔اے۔سی۔ڈی۔ سی کی ٹریننگ میں سائیٹ کی جگہ”شیلا“ لکھ بیٹھے، وہ تو شکر ادا کیا کہ گن کریکشن اور فیوز کریکشن کا کلیدی لفظ نہیں لکھا ورنہ مارے جاتے،

ڈیوٹیز ایٹ دی رجمنٹ گن پوزیشن (ڈی۔آر۔جی)،  بھی سمجھنے کی لاکھ کوشش کی مگر گنری  (Gunnery) ہماری سمجھ سے بالا تر تھی، اس سے اچھی تو رائفل کی گنری تھی، گولی ڈالی اور ٹھاہ، بس صرف ہوا کا خیال رکھ کر فائر رکھنا پڑتا تھا، ہوا رک جائے تو  ہمار قصور نہیں۔  جو تھوڑی بہت فیلڈ گنری یاد ہوتی وہ اگلا سبق پڑھنے کے بعد بھول جاتی، بالآخر مجبو ر ہو کے گنری کی تعریف ہم نے اپنے الفاظ میں یوں کی، 
  Gunnery means to confuse Young Officer  
کیپٹن افضل  (بعد میں بریگیڈئر اور کمانڈنٹ ایم سی جے ) نے ہمیں کریسٹ کلئیرینس (Crest Clearance) سمجھانے کی بڑی کوشش کی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات  رہا۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔