میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 31 مارچ، 2014

کتاب اللہ!



  " کتاب اللہ " یوم خلق السماوات اور الارض سے قبل موجود تھی  ، جس میں اللہ نے ایک سال کو 12 مہینوں میں تقسیم کردیا تھا ۔ اللہ کے علاوہ کائینات میں پھیلی ہوئی ۔ اللہ  کا  کلمہ ، " کُن  "  جس سے السماوات اور الارض    اور اُن میں موجود ہر شئے  تخلیق ہوئی  " کتاب اللہ "  میں درج ہے ! کہ ڈے ون سے  ، سال  کے مہینوں  تعداد  12 اللہ نے قرار دی ہے  انسانوں نے نہیں ، جن میں سے   چار    حُرُمٌ ہیں !
  
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ 
مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ 
فَلاَ تَظْلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَآفَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ﴿9:36


  "کُن" جو اللہ کا  کلمہ ہے ۔  "کُن" جو اللہ حکم کوابتداء  سے لے کر  "یُکن" کی انتہا تک پہنچاتے ہوئے ، اللہ کی آیت اللہ تخلیق کرتا ہے ۔

"اللہ کی آیات " جو انسان کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں، جو حاضر بھی ہیں اور ہماری نظروں سے غائب بھی ۔  وہ انتہائی چھوٹا جاندار ، جس کو ہم دیکھ نہیں سکتے ، اللہ کی ایک مکمل آیت ہے ، جس پر کتابوں کی کتابیں لکھی جارہی ہے تحقیق ہے کی جاری ہے سب سر جوڑے یہ سوچ رہے ہیں کہ اس ننھے وائریس کی، حشر سامانیوں سے کیسے بچا جائے ، جو ایک موج ظفر موج کی طرح ، انسان پر حملہ آور ہورہا ہے ۔ جانے کہاں غیب میں تھا اور کیسے آزاد ہوا کس نے آزاد کرایا ؟ ایک تاریخی حقیقت ہے ، ان قصص کا حصہ ہیں ، جن سے پہلے ہم بے خبر تھے ۔

سب خالق کائینات کے "کن" سے اس کے "امر" کی ابتداء اور پھر آیات کا سلسلہ اتنا طویل ہے ۔ کہ اللہ کے "کلمات" کا شمار نہیں ۔ ناممکنات میں سے ہے ۔
   


 


قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا ﴿18:109



 کہہ ! اگر میرے ربّ کے کلمات کے لئے البحر    ، مِدَادً ہو جائے تو  البحر کے لئے  نَفِدَ ہے  قبل اِس کے کہ میرے ربّ کے کلمات(کُن)      تَنفَدَ  ہو جائیں ! اور اگر ہم ( میں اور تم)  اِس  مثل کے ساتھ   مَدَدً لے کر آجائیں !


وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴿31:27


  اور اگر    الْأَرْضِ  میں جو کچھ ہے  شَجَرَةٍ میں   أَقْلَامٌ   ہوں   اور   الْبَحْرُ  اُس کی  مُدُّ  (مدد)  کرتا   ہو سات سمندروں کے بعد  ،كَلِمَاتُ اللَّهِ  کا اختتام نہیں ہوتا  ، بے شک اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ہے ۔ 


تو پھر فانی انسان ، نا ممکن کو ممکن کیسے بنا سکتا ہے ؟
ہمارے جسم کا ایک ایک خلیہ اللہ کے "کن" کا مرھون منت ہے ، انسانی جسم ، ایک مکمل کتاب ہے ، اسی طرح کائینات کی ہرشئے ایک قیم کتاب ہے  اور کتاب اللہ " کا حصہ ہے  ۔ انسانی حواس خمسہ، کائینات میں موجود  ، " کتاب اللہ " کے ہر ظاہر مکین  کے متعقل معلومات  اپنے ذہن میں  محفوظ کرتے ہیں  ۔ اور بعد میں اِنہی کے سامنے آنے پر، ان کی تصدیق کرتے ہیں اور اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں ۔ جس سے انسان کو بصیرت آتی ہے اور وہ " کتاب اللہ " کی مدد سے اپنے لئے نئی راہیں دریافت کرتا ہے ۔
قیم کتب " ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔ یہ سب وحی (کلام اللہ ) کی کرشمہ سازیاں ہیں ، ان سب کے لئے فلاحی ریاست قائم ہے ۔ جس میں یہ رہ رہے ہیں ۔ اور فلاح پارہے ہیں ۔ ہر جاندار اپنی ذات میں ایک مکمل ، حیات ہے اپنے کام سے آگاہ ہے ۔ اور "کتاب اللہ" سے راہنمائی حاصل کر رہا ہے ۔ اور اپنی فلاحی ریاست کو خوب سے خوب تر بنا رہا ہے ۔ جو رزق مل جائے ، کھا لیتا ہے ، پیٹ بھر جائے تو بچا ہوا چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔ اپنی فلاحی ریاست کی چہار دیواری جو اس نے بنائی ہے ۔ اس کی حفاظت کرتا ہے ، ہمت نہیں پاتا تو ھجرت کر جاتا ہے ۔ کیوں کہ اس کے لئے اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ۔

 ہمارے پیروں تلے کچلی جانے والی جیونٹی یا تالی کی زد میں مسلا جانے والا مچھر ، اللہ کی فلاحی ریاست کے مقیم ہیں-

  جن کی مکمل آبادیاں ، شوشیالوجی ، کے اصولوں پر قائم ہے ، جن میں سیاست نہیں سیادت ہے ۔ جن کی بستیاں ، انجئیرنگ کے بہترین پیمانوں پر قائم ہیں ، ان فلاحی ریاستوں  ، کے ذمہ داران ، ہر نفس کو اس کی خوراک ، اس کی نشونما کے مطابق دیتے ہیں اور ان آبادیوں کا ہر نفس اس کے خالق کی طرف سے تفویض کئے ہوئے اپنے کام میں مگن ہے ۔ اپنی تمام تر مہارت اور جانفشانی کے ساتھ ۔ کیوں کہ یہ سب ان کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس کو یہ تبدیل نہیں کرسکتے ۔اور یہ سب کرہ ارض پر انسان کے ھبوط سے پہلے موجود تھیں ، کب سے ؟
اُس وقت سے جب اللہ نے کرہ ارض کو انسان کے لئے مکمل تیار کر دیا تھا ۔  


وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ ﴿41:10


  اور ہم نے اِس (الارض)  میں   اُس کےفَوْقِ  میں سے رَوَاسِيَ بنائے ، اور اُس میں   بَارَكَ دی  اور اُسأَقْوَاتَ  میں قَدَّرَ السَّائِلِينَ کے لئے چار ایام میں  دی  ۔
تمام جانداروں کی یہ فلاحی ریاستیں اس وحی کی مرہون منت ہیں جس کا آغاز ہر جاندار کے لئے "کُن" سے ہوتا ہے ، اور اس "کُن" کے حکم میں نہ کوئی ، تبدیلی ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی ڈھیل ہو سکتی ہے ۔ تمام کام وحی کے ایک خود کار نظام کے تحت ہیں ، جو وقت کے ہر قدم کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور   قصص   رقم ہو رہے ہیں  ، جن کا ہر لفظ سو فیصد درست ہے ، نہ لفظ تبدیل ہو سکتا ہے اور نہ اس کا مکان یا مقام اور نہ ہی ترتیب ۔
تاریخ انسانی تبدیل ہوتی رہتی ہے ، کبھی قصیدہ بن کر کبھی ہجّو بن کر !

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 مزید مضامین!
1- کتاب اللہ !
4- الحدیث !
5- کتابت ِوحی!
6-کتابتِ سنت !
7- قول منسوب الرسول !
ا- قیاسِ  ( ظن)    !
ب-اجماع ِ  !
ج- اجتحاد  !
د- فقہ !

٭  -   عربی و عجمی،

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔