میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 4 مارچ، 2014

صدیوں کا المیہ



یہ اب کا نہیں صدیوں کا المیہ ہے ۔

جب لوگوں کو خدا نظر آتا تھا اور  جب قرآن کا معاشی نظام اور نظام الصلوٰۃ   ، رائج تھا  ، کیوں کہ ہر طرف "نظام ربوبیت" کے نقارے گونجا کرتے تھے ،   " ہماری مانو،  ہمارے غلام بن کر ہمیں کما کر دو  اور یا پھر  قتل ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ  " سنا ہے کہ چاروں طرف سے دارالخلافہ میں ہن برستا تھا  ، ہر طرف چین و سکون تھا ۔  زیورات میں لدی پھندی عورت اکیلی حج کرنے نکلتی اور کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے والا نہ ہوتا  ۔ شاید ان دنوں  دھینئے  کی فصل کی کاشت بہت ہوتی تھی ، لیکن اس کے باوجود:-
تب بھی میاں بیوی کے پاس صرف ایک تہمد ہوتا تھا ،
تاریخ ِمسلم میں لکھا ہے ، کہ جب شوہر گھر سے باہر جاتا تو ، عورت کو گھر میں کھدے ہوئے  گڑھے میں بند کر کے ڈھکنا رکھ دیتا اور تہمد پہن کر باہر چلا جاتا ۔ اور واپسی پر وہ تہمد بیوی پہن لیتی ۔اور شوہر  ۔ ۔ ۔ ۔ !

مسلم تاریخ میں یہ بھی رقم ہے ، کہ ایک سربراہ کے پاس ایک جوڑا تھا اس نے غلطی سے یا ارادتاً کسی نماز سے پہلے دھو لیا - اور نماز قٖضاء ہوگئی ۔
تاریخ کے اگلے صفحے پر درج ہے کہ ایک طاقتور حکمران کے داماد، کے تجارتی قافلے اتنے بڑے ہوتے ، کہ پہلا اونٹ شام پہنچ چکا ہوتا اور قافلے کا آخری اونٹ ابھی جگالی کر کے چلنے کے لئے تیار ہوتا ۔

سنا ہے کہ اس بستی پر جہاں کے یہ واقعات ہیں ، فرشتے سایہ کرتے اور خد کی اتنی رحمت برستی کہ لوگ اٹھاتے نہ تھکتے ۔
اس باران رحمت کی پھوار میں ، میزبان اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر مہمان سے سامنے خوان نعمت چن کر چراغ گل کر دیتا ، کیوں کہ وہ مہمان کو کھانا پیٹ بھر کر کھلانا چاہتا ۔

لیکن میں سوچتا ہوں ، کہ کیا ، " قلمی طوائف الملوکی " اس دور میں بھی ہوتی تھیں ؟

ارے ہاں ، مہاجروں کی جس بستی کے پاس میرے بچپن اور لڑکپن کا کچھ عرصہ یہی کوئی چالیس پچاس سال پہلے گذرا ہے وہاں کے اتنی عمر کے بچے ایسے ہی لباس میں ہوتے تھے اور اب بھی ہوتے ہیں ، ان مہاجروں کو" کولی اور بھیل" کہتے ہیں ۔ یہ صحراؤں کے باسی ہوتے ہیں ، شہروں میں کام کرنے آجاتے تھے ۔ سنا ہے کہ یہ  اپنے خدا کوماننے والے ہوتے ہیں ۔ ان کا کھانا" ناپاک "، ان کو چھونا "ناپاک"، ان کو گھروں  کام دینا منع ، یہ "پاک " لوگوں گے گھر بنانے میں اپنے مردوں کی مدد کرتیں ۔  

صرف ایک روپے میں عورت ، سنا کے کہ جھاڑیوں کے پیچھے "پاک"  مردوں کو خوش کر دیتی تھیں ۔ اور اپنے بچوں کے لئے کھانے کا سامان خریدتی تھیں۔
پاس ایک متبرک عمارت میں لوگوں کا بے تحاشا جھمگھٹا ہوتا ہے جہاں سنا ہے کہ لوگ باران رحمت سمیٹنے جاتے ہیں ۔ لیکن بعض ، کفران نعمت کے مرتکب ، اپنے نئے جوتے اپنے ساتھ اندر لے جاتے ہیں ۔

اب بھی سنتے ہیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ کیوں کہ وہاں کے رہنے والے ایک 60 سالہ ، ہمہ یاراںِ دوزخ  نے ، یہی خبر ِ غیب (میرے لئے ) ایک چسکے کے ساتھ سنائی ۔

ایسی ہی بستیاں ، میں نے صوبہ سندھی خواہ،  صوبہ پنجابی  خواہ ،  صوبہ کشمیری  خواہ ،  صوبہ پختون خواہ ،  صوبہ بلوچی خواہ ۔
ہاں ، ملک عربی خواہ    میں دیکھی ہیں ، سنا ہے کہ یہ بستیاں اور ، خواہ میں پائی جاتی ہیں ،  جہاں بہی خواہان کی تعداد ، اپنے موٹی گردنوں اور پھولے پیٹوں کے ساتھ ، ان بستیوں کے چکر لگاتی ہے ، کہ ہے کوئی بھوکی اور ننگی، جسے وہ کھلائیں اور  ،
اور اچھے کپڑے پہنائیں  ، اور پھر بھوکوں اور ننگوں کو منتخب کر کے کے جاتے ہیں ،
مزید بھوکے اور ننگے ان بستیوں میں چھوڑنے کے لئے ۔

یہ اب کا نہیں صدیوں کا المیہ ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔