میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 2 مارچ، 2014

آذان اور ٹی وی


میرے  لڑکپن میں
ٹی وی چل رہا تھا  ۔آذان کی آواز آئی -  میں نے ٹی وی بند کر دیا
میری جوانی میں
ٹی وی چل رہا تھا  ۔آذان کی آواز آئی -  میں نے ٹی وی کی آواز  بند کر دی
میری  ادھیڑ عمری  میں
ٹی وی چل رہا تھا  ۔آذان کی آواز آئی -  میرے بچوں نے ٹی وی کی آواز کم کردی




میرے بڑھاپے   میں
مختلف  علاقوں سے آذان کی آواز آتی رہتی ہے اور ٹی وی چلتا رہتا ہے
کیوں کہ ٹی وی کے پروگراموں  اور مسجدوں کی تعدا دمیں اضافہ ہو گیا ہے
کہتے ہیں کہ شیاطین کی تعداد اور اُن کے قد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
اگر شک ہے تو منیٰ میں شیاطین کے قدوں کودیکھ لو۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔