میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 6 مارچ، 2014

ایک نصیحت !

 
ہم نے اپنی بچت سے ایک ائر گن 1970 میں لی ، زیادہ تر شکار فاختہ کا  ہوتا   اور پھر اسے پکا کر کھایا بھی جاتا  ، ایک دفعہ غلطی سے " مینا " شکار کر لی اسے گھر لایا ،
والدہ نے پوچھا، " اسے کیوں مارا  "۔
ہم نے کہا، " بس ویسے ہی " ۔
انہوں نے ڈانٹا ، " کیا اسے کھاؤ گے ؟"
ہم نے کہا ، "نہیں
"
" جب میں نےکہا تھا کہ جس پرندے کو نہیں کھاتے انہیں نہیں مارنا تو تم نے حکم عدولی کیوں کی ؟ "
والدہ غصے میں بولیں ، " اب اسے پکاؤ اور کھاؤ ورنہ آئیندہ ائر گن لے کر باہر نہ جانا
"
'
خیر ہم نے افسردہ ہوکر ،  مینا کو پکانے کے لئے تیار کرنا شروع کیا ،  کراہت سے اس کی بوٹیاں بنائیں ۔ ہم سمجھ رہے تھے کی کسی موقع پر والدہ منع کر دیں گی ، لیکن ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ۔ "مینا "کوکوئلوں پر روسٹ کرنے کے لئے ہم نے  مصالحہ لگا کر  تیار کیا ۔  کوئلے جلانے سے پہلے ۔ہم نے لجاہت سے پوچھا-
 " امی ، کیا یہ حلال ہوتی ہے ؟  "
" نہیں ، مکروہ  "    امی نے  ہماری معلومات کو کنفرم کیا  ۔
میں اور امی باہر صحن میں تھے اور کمرے کی کھڑکی سے  چھوٹا بھائی اور بہن دانت نکال رہے تھے ۔
لیکن امی ، مکروہ کو تو عام حالت میں کھانا جائز نہیں " میں نے اپنی   حجت کا سہارہ لیا  ۔
" تو کیا مارنا جائز ہے  ؟ " انہوں نے پوچھا ۔
ہمارے پاس جواب نہیں تھا ۔ لہذا چپ ،
" اگر آئیندہ  ایسا شکار کیا تو  پھر سوچ لو ۔ جاؤ اسے چھت پر ڈال دو ، کوئے کھا لیں گے " والدہ بولیں ۔

ہم خوش ہوئے کہ جان چھوٹی ، ورنہ  ۔ ۔ ۔  !
دیوار پر چڑھ کر ،  مینا کو چھت پر ڈالا  ،   نیچے اترے ۔ تو      چھوٹا  بھائی اور بہن امی کے پاس بیٹھے تھے ۔ چھوٹے بھائی نے ، شرارت  کے طور پر مجھے دیکھا اور امی سے معصومیت  میں پوچھا ،
" امی اگر  لالہ نے کوا   مارا ، تو اسے وہ بھی کھانا پڑے گا "۔
امی بولیں ، " ہاں "
اور ہماری   جان  کپکپانے لگی ، اور دل میں کہا اللہ تیرا شکر ہے ، کہ کوا بچ گیا اور اس " مینا " کی شامت آگئی ۔لیکن کوئے کو  پکانے کے لئے تیار کرنے کا ذہن میں لاتے ہی  ہمیں ابکائی سی محسوس ہونے لگی ۔

اس کے بعد کسی بھی  ایسے پرندے کا شکار کرتے ہی ہمارے ذہن میں" کوا " آجاتا ۔ اور ہم یہ یقین کرتے  کہ چھرا    ، حلال پرندے کو ہی لگے ۔

لیکن کیا کیا جائے ، تیرتی ہوئی مرغابیوں کا شکار کرتے وقت ۔ دوسرے پرندے بھی شکار ہوجاتے  ۔  تو ہم تصور میں ، امی سے معافی مانگتے  ۔ کہ ہمارا ارادہ مارنے کا نہیں ، لیکن کیا کیا جائے  گندم میں گھن تو پستا ہی ہے ۔
لیکن  مارا جانے والے پرندے ہمارے کتوں کی خوراک بن جاتے ۔

فوج میں تھے تو  ہم مرغابیوں کا شکار ہی کرتے  ایک دفعہ ایک  فوجی دوست نے کہا آؤ ، دریائے توی کے پاس جاتے ہیں وہاں شاید کوئی نیل گائے ، مل جائے  قسمت خراب نیل گائے نہیں ملی واپسی پر آتے ہوئے سرخ پور کے مقام پر  جنگلی سوروں کا غول ملا  ۔
دوست بولا ، " آؤ ان کا شکار کرتے ہیں "
" کیا انہیں کھاؤ گے ؟ " ہم نے بے اختیار پوچھا ۔ اس کا منہ کھل گیا  ۔
"کیا بکواس ہے " ۔ وہ بولا
"کچھ نہیں "۔ہم نے کہا   ، " لیکن جب کھانا نہیں تو شکار کیوں کرنا  ؟"
" شغل میں " وہ بولا
بہر حال اس نے  شغل میں تین سور مارے  ہر سور کے مرنے پر ہماری  "کوئے " والے تصور  کی وجہ سے  کراہیت بڑھتی جاتی ۔ 
دوست نے اپنا شغل پورا کیا انہیں وہیں چھوڑ کر ہم  لوگ واپس آگئے ۔
خیر مہینے بعد اس نے پھر پوچھا ، " شکار پر چلو گے " 
" ایک شرط پر کہ ، کسی بھی حرام جانور یا پرندے کا شکار ہم نہیں کریں گے " میں شرط پیش کی  ۔
آخر وہ ، کافی جرح کے بعد وہ راضی ہوگیا ۔ راستے میں اسے ہم  نے   ماجرا بتایا  ،
"تم ذہنی بیمار بن چکے ہو " وہ بولا ، "  فوج میں رہتے ہوئے  ایسی سوچ  ؟"
" اگر وہ حرام جانور مجھے پر حملہ کرے گا تو میں اپنے بچاؤ کے لئے اسے ضرور ماروں گا  " میں نے جواب دیا  ،" لیکن اگر  مجھے کچھ نہ کہے ، تو مجھے کیا ضرورت پڑی اس کی زندگی لینے کی ،کیا میں دنیا میں امن سے نہیں رہ سکتا ؟ "
وہ ہنس کر بولا ، " تمھیں توپخانے  کے بجائے  ،  آرڈیننس یا سروس کور میں جانا  چاہئیے  تھا "

میں اب سوچتا ہوں ، کہ انسان کتنی آسانی سے انسانوں کو شغل میں قتل کر دیتے ہیں ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔