میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 20 مارچ، 2014

سیکنڈ لفٹین اور شاہ ولی ایکسپریس


 دوسرے دن اتوار کو گیارہ بجے، کوہاٹ سے آئی ہوئی جیپ میں ہم تینوں کوہاٹ پہنچے، ہم  نے میس میں قیام کیا ، یونٹ فون کیا پوچھا کوئی گاڑی ، کوہاٹ سے ٹل کے لئے ؟   تو بتایا گیا کہ صبح ٹرین سے آجائیں ،میس حوالدار کو بازار بھیج کر ایک کلو برفی  اور ایک کلو گلاب جامن منگوائے ، برفی چھٹی سے واپسی کی اور گلاب جامن منگنی کے ۔ اگر نہ لے جاتے تو چار عدد چکن غریب سیکنڈ لفٹین کے میس بل میں پڑ جاتے ، اور چکن کی ہڈیاں ، چباتے ہوئے سینئیر آفیسر کے ریمارکس ،
" یہ مرغی  تھی یا شتر مرغ "،
" آئیندہ مٹھائی نہ بھولنا ، انڈے دے کر بوڑھی ہونے والی مرغی کا وہ مزہ نہیں جو ، مٹھائی کا ہوتا ہے "
" سنا ہے کہ شکار پور کی مٹھائی  بہت اچھی ہوتی ہے  ، آئیندہ وہ لانا "

 رات کو کلب میں بیٹھ کر چپس کھائی اور دوسری صبح ، " شاہ ولی ایکسپریس"  پر بیٹھ کر کوہاٹ ریلوے سٹیشن سے ٹل کی جانب روانہ ہوئے ، پورے فرسٹ کلاس ڈبے میں ہم تھے  ، آرام سے ٹانگیں پسارے لیٹ گئے  اور  سسپنس ڈائجسٹ پڑھنے لگے جو ہم نے چار روپے کا ریلوے سٹیشن کے سٹال سے جاسوسی ڈائجسٹ کے ساتھ خریدا تھا ،  جس کی لَت ہمیں ، 1969 سے پڑی تھی جب یہ ڈیڑھ روپے کا ملتا تھا ۔
 ٹل اور کوہاٹ کے درمیان ، چھوٹی لائن پر چلنے والی یہ ٹرین انگریزوں نے ، کوہاٹ سے ٹل کے درمیان بنائی تھی جو ہنگو اور  دوسرے چھوٹے سٹیشن سے گذرتی تھی اور پانچ گھنٹے میں  صبح ساڑھے چھ بجے روانہ ہو کر ساڑھے گیارہ بجے ٹل پہنچتی ، اور ایک گھنٹہ  انتظار کے بعد واپس کوہاٹ کے لئے روانہ ہوتی ۔

  ٹل کینٹ  میں ہمارا کمرہ مزید مخدوش ہونے کے بعد اسے سٹور بنا لیا گیا تھا، ہمیں کمال مہربانی سے لیفٹنٹ اقبال  (جو ہم  سے ڈیڑھ سال سینئیر تھے) نے اپنا روم میٹ مجبوراً بنایا اور ساتھ ہی قواعد ضوابط بھی سمجھا دیئے کہ ہم نے کمرے میں کس طرح رہنا ہے۔ دل سے یہی دعا نکلتی،کہ  کاش   آبزرور کیڈر  دو مہینے کا ہوجاتا۔
 دوسرے دن آفس میں ہمیں گھر سے آئے ہوئے خط ملے۔ 
چھوٹی بہن نے لکھا، بھائی 8اگست کو بھابی کی سالگرہ ہے، ان کے گھر ٹیلفون کر کے ضرور مبارک باد دینا۔ اب بہن بے چاری کو کیا معلوم کہ ٹل سے میرپورخاص فون کرنے سے بہتر ہے کہ آدمی خود جاکر مبارکباد دے آئے۔ خیر 8اگست آئی اور سیکنڈ لفٹین اپنی مصروفیت کی بنا پر بھول گیا۔ دوسرے دن دیکھا کیلنڈر پر 8اگست پر نیلا دائرہ لگا ہے۔ کچھ سمجھ نہ آئے کہ آج کیا خاص بات تھی؟  
 ڈائری تلاش کی، نہ ملی پھر یاد آیا کہ آفس میں بھول گیا آیا ہوں۔ 10اگست کو ڈائری  اٹھائی تو  معلوم ہوا کہ کیا بھیانکر غلطی کر بیٹھا ہوں۔
 بہن کو خط لکھا، آخر میں ٹیلفون لائنوں کی مجبوری بتائی اور آخر میں سمجھ نہ آئے کہ ساگرہ کی مبارک باد کیسے دوں؟   اور کونسی سالگرہ ہے ؟ 
کیوں کہ سال پیدائش تو میں نے پوچھا ہی نہیں تھا، بس اتنا معلوم تھا کہ بہن نے گیارہویں کا امتحان دیا تھا اور انہوں نے بارہوں کا یا تیر ہویں کا پھر سوچ کر لکھا، 
”محلے والوں کو جاکر میری طرف سے سالگرہ کی مبارکباد دے دینا“ 
اور اس کے بعد ہر خط میں ”محلے والوں“  کو سلام بھجواتے رہے۔ 
لیکن ”محلے والوں“ کی طرف سے کبھی سلام کا جواب نہ آیا۔
  شروع میں تو، لیفٹنٹ اقبال نے کوئی لفٹ نہیں کرائی ہم بھی کمرے میں رات کو سونے کے لئے آتے کیوں کہ اگلی بیرک میں ہمارا پلٹون میٹ سہیل  احمد رہتا تھا یہ 25کیولری کا میس تھا۔ زیادہ تر وقت سہیل کے ساتھ گذرتا۔ دراصل لیفٹنٹ اقبال نے، کمرے کی کچھ SOPs ہمارے لئے بنادیں، جن پر عمل کرنا دشوار تر ہوتا جا رہا تھا ،  مثلاً، 
ہمیں حکم تھا کہ لیفٹنٹ اقبال جب کمرے میں داخل ہوں ہمیں کھڑے ہو کر تعظیم دینی ہے، خواہ وہ باہر سے آئیں یا باتھ روم سے آئیں، یوں لگتا تھا کہ باتھ روم جانا اُن کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اِس اٹھک  بیٹھک نے ہمیں بغاوت پر آمادہ کر دیا تھا اور ہم بغیر اجازت اپنے کمرے سے غیر حاضر رہنے لگے۔
 سہیل، مہینے کی چھٹی چلا گیا اور اپنے کمرے کی چابی ہمیں دے دی، یوں اب کمرے سے ہماری غیر حاضری طویل ہونے لگیں۔
  ایک دن لیفٹنٹ اقبال نے ، ایجوٹنٹ سے ہماری شکایت کر دی، کہ سیکنڈ لفٹین، کی حرکتیں مشکوک  ہیں ،  اُن سے آؤٹ پاس لئے  بغیرکمرے سے غیر حاضر رہتا ہے۔اور رات کو 11:59 بجے آتا ہے ، شاید  دیگر آفیسروں کے ساتھ تاش کھیلنے کی  غلط صحبت میں پڑ گیا ہے ۔
دوسری صبح  ہمیں ایڈجوٹنٹ نے اپنے آفس میں بلا لیا اور   Explaination مانگی۔
 ہم نے پورا ماجرا بتایا،  انہوں نے لیفٹنٹ اقبال کی SOPs میں نرمی کروائی، یوں ہماری اٹھک بیٹھک سے گلو خلاصی ہوئی۔
    11اگست کی صبح ہم ہاکی ٹیم لے کر کوہاٹ پہنچے، جہاں  ڈویژنل آرٹلری  ہاکی چمپئین شپ 22تا 24اگست کو ہونی تھی، اس کے بعد ڈویژنل  ہاکی چمپئین شپ 5تا 10ستمبر ہونا تھی، ڈویژنل آرٹلری  ہاکی چمپئین شپ میں ہماری یونٹ کی دوسری پوزیشن آئی۔

میں، حوالدارسرفراز، حوالدار  نورا محمد عرف نورا اور نائک یعقوب  ڈویژنل آرٹلری  ٹیم کے لئے رک گئے باقی ٹیم واپس ٹل چلی گئی۔
بنّوں کی کیا بات ہے ، بارش ہوتے ہے تو سڑکوں پر بڑے بڑے مینڈک نکل آتے ہیں  اور دھوپ نکلتی ہے تو ہاکیاں لے کر بچے ،  سچ ہے کہ بنوں کھلاڑیوں کا شہر ہے ۔
اُنہی دنو ں ایک آرڈر آیا کہ  ہر ٹیم میں  18 سال سے کم عمر کا ایک کھلاڑی لازمی ہونا چاھئیے  ، ورنہ ٹیم 10 کھلاڑیوں سے کھیلے گی ۔ باقی میچ تو ہم  نے کھیلے  ،کسی نے یہ پوائینٹ نہیں اُٹھایا  لیکن جب ہم فائینل میں پہنچے تو  بنّوں بریگیڈ نے  اعتراض  کر دیا  اور  آرڈر دکھا دیا ۔ اب ہم پریشان ۔ کہ دودن بعد میچ ہے  ، کھلاڑی کہاں سے لایا جائے ۔ 
میں  کمرے میں لیٹا تھا ، میرا بیٹ مین کمرے میں کھانا پوچھنے کے لئے آیا ،
" اصغر ، تمھاری کتنی عمر ہے ؟ " میں نے پوچھا ۔
" سر 17 سال" و ہ بولا 

" ہاکی کھیلنا آتی ہے " میں نے پوچھا ۔
" جی یہ والی تو نہیں آتی ، گاؤں والی آتی ہے " وہ شرماتےہوئے بولا ۔
میں یک دم بستر سے کھڑا ہوا ،دو  ہاکیاں  اور بال اُٹھائی اور بولا باہر آؤ ،باہر آکر میں ایک ہاکی اُس کو دی  اور جناب اُس کے گاؤں والی ہاکی کھیلنا شروع کی   پہلے تو وہ گھبرایا لیکن  پھر بال روکنے لگا ، اُس کے بال چھیننے کا سٹائل کلاسک تھا، وہ میری ٹانگوں میں اپنی ٹانگ پھنسا کر بلاک کرتا اور بال چھیننے کی کوشش کرتا ، بال اُس کے پاس تو نہ آتی لیکن میرا توازن خراب ہوجاتا ۔
خیر اُسے لگاتار پریکٹس کروا کر اگلے دن شام کو گنر اصغر   ، ہمارے ساتھ کھڑا مہمانِ خصوصی سے ہاتھ ملا رہا رتھا ۔

کیپٹن مدثر اصغر (مونٹریال اولمپک فیم )  رائیٹ اِن کی پوزیشن پر کھیل رہے تھے  ، میں لیفٹ اِن کی پوزیشن پر کھیلتا تھا ،  میں نے گنر اصغر کو اپنی جگہ پر ڈالا اور خود سینٹر فارورڈ ہو گیا ۔ 
گنر اصغر کو ہدایت کی  کہ کیپٹن مدثر  کو بال نہ روکنے دینا ، اگر اُس نے بال لے لی تو پھر گول کرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ 
بنّوں بریگیڈ  کی ٹیم میں پاکستان آرمی ہاکی ٹیم کے تین کھلاڑی، کیپٹن مدثر  اور کیپٹن چنگیزی   شامل تھے اور ہم سب ماجھے اور ساجھے ۔ٹیم کیپٹن میں ۔  میچ شروع ہوا ۔
پہلا ہاف ختم ہوا ، دونوں ٹیموں نے کوئی گول نہیں کیا ۔ 
دوسرا ہاف ختم ہوا ، نتیجہ صفر ۔ 
ایکسٹرا ٹائم ملا ، ٹیمیں برابر ۔
اب فیصلہ  پانچ ، پانچ  پنلٹی سٹروک پر ہونا تھا ۔ہمارا ایک پنلٹی سٹرو  ک ،گول کیپر نور محمد عرف نورا  سے باہر چلا گیا ۔ یوں  ڈویژنل  ہاکی چمپئین شپ 1977میں بنو ں بریگیڈ کی ٹیم چمپئین بنی۔  اور ہم رنزر اَپ رہے۔

لیکن  ہم پر گول نہ ہونے دینے کا سہرا   ،گنر اصغر کے سر سجا ، گنر اصغر ہماری یونٹ ٹیم کا رُکن بنا ، 1978 میں اُسے  انڈر 20 کی کیمپ میں بھجوایا ۔ یوں ایک گاؤں  میں لکڑی کی ہاکی سے کھیلنے والا حادثاتی طور پر ہاکی کا ایک بہترین کھلاڑی بن کر ابھرا۔
  میں اور سرفراز  ڈویژنل ٹیم میں سلیکٹ ہوئے لیکن کیوں کہ  ہم نے17ستمبر کو  آرٹلری کورس کے لئے نو شہرہ جانا تھا،  لہذا ہم10ستمبر کو واپس یونٹ پہنچے،  اتوار کی رات مجھے سخت ڈائریا ہو گیا، صبح  تک حالت پتلی، ڈاکٹر نے سی ایم ایچ ٹَل میں داخل کر لیا، ڈرپ لگائی۔ شام تک کچھ حالت بہتر ہوئی تو تین دن کی سک ان کوارٹر دے دی۔
 جمعرات کو یونٹ آیا، لیکن کمزوری کی وجہ سے  بیٹری کمانڈرمیجر ارسل نواز کو بتا کر کمرے میں آگیا۔ ابھی کمرے میں آکر لیٹا تھا کہ  گنر اصغر نے بتایا کہ ٹی اے نائک غلام رسول آیا ہے، وجہ پوچھی تو بتایا کہ کرنل صاحب نے، ایمنگ سرکل پڑھانےبھیجا ہے، میں بستر پر لیٹا رہا اُس نے ایمنگ سرکل سیٹ کرنا اور گنوں کو ریکارڈ کرنا بتایا، دوسرے دن جمعہ تھا، نوشہرہ کے لئے مومنٹ آرڈر  ملا، جس پر درج تھا ،
" آفیسر کو ایکسٹنسو  بیسک کورس کی ٹریننگ کروائی گئی ہے "
ہم اپنے بیٹ مین
گنر اصغر  کے ساتھ نوشہرہ کے لئے روانہ ہوئے،  رات کوہاٹ ٹہرے  دوسرے دن بارہ بجے، نوشہرہ  بس اڈے پہنچے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔