میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 5 اپریل، 2014

ڈالر کے پیچھے پاکستانی روپیہ کی دوڑ

"  اللہ کا غضب ہو ، ملک کو لوٹ کے کھانے والے سیاست  دانوں  پر  ، ڈالر ہے کہ اُن کی وجہ سے مہنگا ہوتا جا رہا ہے ؟" ایک 70 سالہ بوڑھے بیورو کریٹ نے ایک میٹنگ میں دھائی دی ۔ ایک  وقت  تھا کہ  ڈالر ایک روپے کا تھا ۔
جب بدھ کی  رات میریٹ سے میٹنگ اٹینڈ کر کے اور چائے پی کر واپس آیا ۔ تو میرے ذہن میں یہ بات کُھب گئی۔ اور سوالات کی بھر مار شروع ہوگئی :
٭-  کیا ڈالر سیاست دانوں کی وجہ سے مہنگا ہوا؟
٭-کیا پاکستان کا روپیہ اتنا مضبوط تھا کہ ایک روپیہ ایک ڈالر کے برابر تھا ؟
جی ہاں ، یقیناً تھا لیکن وہ تاج برطانیہ کے چھاپہ خانے سے بننے والا ۔ ایک  روپے کا نوٹ تھا ۔
19451945 برصغیر میں 100 برطانوی پونڈ تنخواہ لینے والا ، 2,44,200 برطانوی ڈالر لیتا تھا ۔
 1946 میں ایک ہندوستانی برطانوی روپیہ ، 12.17 امریکی ڈالر کے برابر تھا ۔
 14 اگست 1947 کے بعد ہندوستانی برطانوی روپیہ ، پاکستان میں بھی استعمال ہونا شروع   ۔ چنانچہ ایک ہندوستانی برطانوی برطانوی روپیہ ، 1 امریکی ڈالر کے برابر ہو گیا تھا ۔ 

   یکم جولائی  1948 میں    ، ہندوستانی برطانوی روپیہ ، پر پاکستان کا لفظ چھاپنے سے ۔ 1 امریکی ڈالر   3.3085 روپے کے برابر ہوگیا۔ کیوں کہ وہ برطانوی میعارِ زر سے تبدیل ہو کر پاکستانی میعار زر میں تبدیل ہوگیا ۔



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔