میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 13 اپریل، 2014

مچھلیوں کے ماہر شکاری


وہ بھی میری عمر کے بچے تھے ، یہ 1968 کی بات ہے ، میرا ماموں زاد بھائی مجھے کیماڑی گھمانےلے گیا تھا ، لیاری ریلوے سٹیشن کے پاس وہ سب مچھلیاں لانچ سے نکالنے پر لگے ہوئے تھے اس وقت لیاری سے لیاری ندی کے درمیان کراچی کاکوڑا  سمندرمیں پھینکنا شروع ہوا تھا ،بعض لانچیں وہاں بھی لنگر اندازہوتیں،مچھلیوں کی بوسے میرا برا حال تھا ، لیکن وہ بچے بڑے آرام سے ،مچھلیاں نکال کر انہیں ، کھجور کی ٹوکریوں میں ڈال رہے تھے ، پانچ سال سے 14 سال کے بچے ، تھے اس سے بڑی عمر کے بچے لانچوں میں مچھلی کے شکار کے لئے جاتے ۔

ماموں کے دوست ،جن کا مچھلی کا کاروبار تھا ، انہوں نے ہمیں ایک  تقریباً  35 فٹ لمبی  بوٹ پر سوار کرا دیا ، ہم نے بھی   لانچ میں پورا دن گذارا ، وہ بچے ہمارے لئے عجوبہ تھے اور ہم ان کے لئے ۔ سمندر سے پکڑی جانے والی ،مچھلی کے کھپڑے اتار کر پیٹ صاف کرنے کے بعد اسے ،سمندر کے پانی سے دھو کر سمندر کے پانی سے بھرے ہوئی ایک کالی سیاہ  دیگچے میں ڈال کر  ،   چولہے پررکھ کر آگ جلادی ، کشتی کے ایک طرف جال پھیلا دیا تھا ، جال آدھا سمندر کے اندر تھا اور آدھا تیر رہا تھا اور کشتی آہستہ آہستہ آہستہ چل رہی تھے ، سامنے سے آنے والی مچھلیاں  جال میں پھنسے جا رہی تھیں  ،جب جال کا وزن زیادہ ہو گیا تو جال کو کھینچ لیا گیا ۔ جوبے تحاشہ مچھلیوںسے بھرا ہوا تھا  ،   یہ سمندر کا وہ علاقہ تھا ۔ جہاں  صرف مچھلیاں ہوتی تھیں ، اکا دکا جھینگے بھی تھے ۔ جال کشتی میں خالی کرنے کے بعد دوبارہ پھینکا گیا ، وہ بچے جو لانچ میں تھے ، انہوں نے مچھلیوں کو علیحدہ کرنا شروع کیا ، بڑی مچھلیاں الگ ٹوکروں میں  ، کچھ مچھلیاں ، واپس سمندر میں ، چھیگا ملتا تو بچے نعرہ لگاتے ،  ہم بھی ان میں شامل تھے ،  شام چار بجے تک پانی کی وجہ سے ہمارے ہاتھ سفید اور بوڑھے ہوگئے ، بلکہ بعض مچھلیوں کے پروں سے زخمی بھی ہوئے ، سمندر کا پانی  زخم کا فوراً احساس دلاتا ، لیکن ویسلین لگانے سے ، زخم کی چرمراہٹ میں کمی ہوجاتی لیکن مچھلیاں ہاتھ سے پھسلنے لگتیں ۔
 
 
جب چولہے پر رکھی ہوئی ، مچھلیاں ابل کر تیار ہوگئیں تو کھانے کا وقفہ ہوا ، ایک چٹائی پرسب بیٹھے ، ایک تھال میں  ابلے ہوئے چاول کے اوپر مچھلیاں  الٹیں اور دوسرے تھال میں   ،  مچھلیاں  اور ایک کپڑا بچھا کر اس پر بند ڈالے ، ہم اپنا کھانا پراٹھے اور اچار لائے تھے  ، کیوں کہ ممانی نے  مچھیروں کے ہاتھوں مچھلیاں پکانے کااتنے دلدوز انداز میں نقشہ کھینچا تھا ، کہ مچھلیوں کی طرف دیکھنے سے ہی ابکائی آنے لگتی ۔  اس پر ظلم یہ کہ انہوں نے ہمارے لئے چٹائی نما دسترخوان پر جگہ بھی بنا دی ۔ ہم مروت اور خلوص کا انکار نہ کرسکے ۔ ایک چالیس پینتالیس سال کی عمر کے مچھیرے نے ، ایک بڑی مچھلی پرات سے اٹھائی ، اسے اخبار سے صاف کیا ، اور ایک تام چینی کی پلیٹ میں ، درمیان سے کھول کر دیا ، کہ یہ کھاؤ ، ہم چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ،  میں نے ہمت کر کے ، مچھلی کا سفید گوشت تھوڑا سا لیا اور چکھا  ۔
ماموں زاد کو کہا ، "مزیدار ہے "۔
اس نے شک کے انداز یں کہا ، "اور کھاؤ "

میں نے ، ایک بڑا ٹکڑا اٹھایا ، اور کھانا شروع کر دیا ، باقی تینوں نے بھی ہماری تقلید کی ، اور یقین مانیئے ، کہ یہ تحریر لکھتے وقت اس مچھلی کی لذت اب بھی میں اپنے منہ میں محسوس کر رہا ہوں ۔ 

 کھانے  کے بعد دوسری دفعہ جال پھینکا گیا ، اس میں کم مچھلیاں ہاتھ لگیں ، پھر واپسی کا سفر شروع ہوا ، اب جال پھینکنا بچوں کی باری تھی ، کل چار جال پھینکے گئے ،جن میں سے دو  میں ہم نے بھی مدد کی اور  سمندر میں مچھیاں پکڑنے کی تعلیم برائے ، باعزت روزگار حاصل کی -

جال کابنانا، اس کی مرمت ،کشتی کا چلانا ، اسے روکنا،لنگر ڈالنا، اور سب سے اہم جیٹی پر لگانا ، یوں سمجھیں،کہ بحری ہنر کے  امین ، باشندوں کی الگ دنیا ہے ۔ جس کا ادراک شہری بچے نہیں کر سکتے ۔ ان کے نزدیک یہ بہت مشکل پیشہ ہے ، انہیں نہیں معلوم ، ہمارے دستر خوانوں کی زینت بننے والی ، سمندری گوشت کی مختلف ڈشیں انہی سمندری تعلیم یافتہ ہنرمندوں کی مہارت سے میسر ہوتی ہیں ۔

ہاتھ تو ہر ہنر مند کے چھلتے ہیں اور زخمی بھی ہوتے ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کا نظام انہیں اپنی حفاظتی طبی  پرت میں رکھتا ہے ۔  یہ محنت کش لوگ ، بچپن سے اس کام کی تربیت  حاصل کرتے ہیں ، میں اکثر  سوچتا ہوں ، کہ یہ بچے اگر سکول جائیں  اور لارڈ میکالے کا بنایا ہوا سلیبس اور نظام کے تحت تعلیم حاصل کریں ، تو کیا ان سب کو ملازمت مل جائے گی ؟





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔