میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, اپریل 28, 2014

یہی چراغ نکلیں گے روشنی لے کر ۔



ایک دوست نے یہ تصویر فیس بک پر پوسٹ کی اسے دیکھتے ہی ، میرے ذہن میں ایک " پاپ اَپ " نمودار ہوا ۔ اور مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد آگیا ۔ جب ایبٹ آباد کی سردیوں میں ، استاد محترم ہمیں کلاس روم سے باہر بٹھایا کرتے تھے ۔
'
تو یہ شعر ، یک دم  ادا ہو گیا ۔

'
کیوں کہ ، اس طرح  ہمارے زمانے  میں نیچے بیٹھ کر پڑھنے والے بچوں میں سے ، سیکریٹری ، جنرل اور  لیڈر نکلے ۔
'
اب تو زمانہ اور ہے ، کیوں  یہ تو ہمارے ماہرانِ تعلیم ہی بتا سکتے ہیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔