میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 18 مئی، 2014

سعودی عرب کے لئے ضرورت -1

" یار آپ کو یاد ہے کہ جنرل راحیل سعودی عرب گئے تھے اور اخباروں میں پڑھا تھا کہ ، پاکستان سعودی عرب کو دو ڈویژن فوج دے گا  ؟"ایک دوست نے فون پر پوچھا ۔

" ہاں ایسی خبر تو میں نے بھی پڑھی تھی ، لیکن اس  پر یقین نہیں کیا  ۔" میں نے جواب دیا

" کیوں  ؟  " اس نے پوچھا
 
" بھائی وہ اس لئے کہ اگر پاکستان اپنی دو ڈویژن فوج سعودی عرب کو دے دے ، تو پھر کیا پاکستان  میں امن کی ذمہ داری  کون دے گا  ؟" 

ہم دونوں کے درمیان یہ گفتگو ، جنرل راحیل کے سعودی عرب کے دورے کے دو تین دن بعد ہوئی تھی ۔

آج پھر انہی  دوست کا فون آیا  ، " ہاں جی اب کیا کہتے ہو ، سعودی عرب  لوگوں کے بھیجنے کے بارے میں ؟ "
" کون سے لوگ سر جی  ؟" میں نے پوچھا ۔
" یار پاکستان میں ، بہت حالات خراب ہیں لوگوں کو روزگار نہیں مل رہا ، ہمارے پاس لوگ آتے ہیں ، کہ ہمارے بچوں کو سعودی عرب کا ویزہ لگوا دو   ۔ اب بتاؤ کہ سویلین غریب کیا کریں  ، میرا خیال ہے کہ کسی کی مدد کر دیں ، تو  دعائیں دے گا ۔  " انہوں نے آواز میں درد بھر کر کہا ۔

" خبردار سر ، ایسی ہمدردی ہرگز نہ کرنا ، ورنہ انسانی سمگلنگ کا کیس آپ پر ایف آئی اے بنا دے  " میں نے انتباہ کرتے ہوئے کہا ، " کہیں ہمدردی گلے نہ پڑ جائے ۔ جس کا ویزہ نہ لگا  یا ایجنٹ  پیسے لے کر بھاگ گیا   تو وہ تو ایف آئی اے کو درخواست دے گا اور کہے گا ، کہ انہوں نے ایجنٹ کے پاس بھیجا تھا  اور آپ  ایک موٹی مرغی کی طرح ایف  آئی اے کے پنجوں میں پھڑ پھڑائیں گے  اور پھراپنی عزت کی خاطر انڈے دینے لگ جائیں گے "

"ہاں بات تو آپ ٹھیک کر رہے ہیں ، لیکن آپ فوجی زندہ لاکھ کے اور مرے سوا لاکھ کے ۔  " انہوں نے شکوہ کیا ۔

" ہاں یہ بات تو ہے    ، پرانا چاول مہنگا بکتا ہے ۔" ہم نے ہنستے  ہوئے کہا اور پوچھا، "  لیکن  خیر تو ہے   ۔ آج توپوں کا رخ فوج کی طرف کیوں ؟  "

" یار سنا ہے ، کہ اب سعودی عرب میں حاضر سروس فوجی نہیں جائیں  گے بلکہ ریٹائر لوگوں کو بھیجا جائے  گا  " انہوں نے معلومات فراہم کیں ۔

" چلو اچھا ہے ، فوجی  مہنگی اور بہترین تربیت لیتا ہے اور اپنی سروس کر کے  پینتیس  سے پچاس سال کی عمر میں ریٹائر ہوجاتا ، حالانکہ اسے  ساٹھ سال کی عمر تک ملک کے لئے خدمت لینا چاہئیے ۔  " ہم نے ٹکڑا لگایا  ۔
" ہاں اسی لئے غالباً  جنرل حمید گل صاحب  ، میدان میں اترے ہیں ، سنا ہے کہ ان کا بیٹا  اس پراجیکٹ کا انچارج ہے ، وہ ریٹائر فوجیوں کو بھرتی کر کے  سعودی عرب بھجوا رہا ہے ۔ کیا تم بھی جارہے ہو ؟  انہوں نے پوچھا

" نہیں بھائی ، ہم تو ویسے بھی ساٹھ سال کے ہوگئے ہیں ، لیکن مجھے ایسی خبر نہیں ملی آپ کو کیسا معلوم ہوئی " ہم نے پوچھا

" وہ ایک دوست نے بتایا تھا، کہ اس کے پاس موبائل پر جنرل حمید گل کے بیٹے کا ایس ایم ایس آیا تھا ،  اس کا  موبائل نمبر بھی تھا ، اس نے نمبر ملانے کی کوشش کی تو وہ  بند ملا  "  اس نے کہا

ہمارے یک دم کان کھڑے ہو گئے  ، " وہ ایس ایم ایس  ، ہے آپ کے پاس  ؟ " ہم نے پوچھا ۔
" نہیں میرے پاس تو نہیں اس دوست کے پاس شاید ہو " انہوں نے بتایا

" اچھا ہوسکے تو مجھے بجھوادیں "، یہ تین بجے کی بات تھی ہم حسبِ عادت قیلولہ کرنے لگے ،اٹھے تو ان کا میسج موجود تھا ، جسے پڑھتے  ہی ہم نے فوراً  پوسٹ بنا کر فیس بک پر گھما دیا ، اور خود ماضی کے اسی طرح کے ایک واقع میں کھو گئے ۔
 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔