میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, مئی 25, 2014

24- قرض ، سود ، منافع اور الرِّبَا -1


   ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 تَدَبَّرْ الْقُرْآن، قارئین ، درج ذیل ، مضمون ہم نے 1999میں لکھا تھا اور اسلامی شریعہ یونیورسٹی کو بھجوایا بھی تھا۔ (خالد نعیم الدین)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 ۔۔۔۔۔ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُواْ إِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔۔۔۔۔۔ (275) البقرۃ

 وہ اس لئے کہ! وہ کہتے ہیں۔ کہ بے شک ”البیع“ مثل ”الربٰو“ہے۔ اور اللہ نے” البیع“ کو حلال اور ”الربٰو“ کو حرام کیا۔۔۔۔۔۔ 

مئی 1999 میں شریعت اپیلٹ بنچ کے روبرو  رباء  کے خلاف  اپیلوں کی سماعت   ہو رہی تھی۔ 
علما اور جج صاحبان اپنے اپنے انداز فکر پیش کر رہے تھے۔ فاضل جج نے مورخہ  4مئی  1999 کو ریمارکس دیتے ہوئے کہا ۔
              بعض علماء کے انداز فکر کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ہم  لوگ اسلامی مسائل  بیان کرتے ہوئے یہ فرض  کر لیتے ہیں کہ ہم درست کہہ رہے ہیں  جبکہ کسی چیز کے صحیح ہونے کے بارے میں ہمارے پاس دلیل نہیں ہوتی۔ ایسی کتابوں پر تکیہ کیا جاتا ہے۔ جن کا آگے پیچھے کوئی پتہ نہیں ہوتا (شاہ مراکش کی طباعت شدہ رباء کے اجتہاد پر کتاب  پر  ریمارکس) ۔ اس سے لادینی عناصر کو تقویت ملتی ہے۔ لادین کہتے ہیں کہ سود سے متعلق  آیات پر  نبیﷺ کو عمل درآمد کا موقع نہیں ملا  اور یہ کہ سود کا معاملہ بعد کا ہے۔ جبکہ رباء کے بارے میں آیت آئی تو اس کے بعد نبی کریم ﷺ سات سال زندہ رہے۔ اس دوران وہ  احکامات دیتے رہے اور حجتہ الودع پر رباء کو مکمل طور پر منع کر دیا۔ آپ (عبدالرحمن مدنی)  کا استدلال  درست نہیں۔اب ہمیں دیکھنا ہے کہ موجودہ مسئلہ رباء پر اجتہاد ہو سکتا ہے یا نہیں
اس پر عبدالرحمان مدنی  نے کہا۔
 ”کہ سود لینے والوں سے جنگ کرنے بلکہ انہیں قتل کرنے تک کے احکامات آئے اور یہ احکامات بتدریج نازل ہوئے ۔ جس کے اقدام کے بارے میں واضح احکامات نہ ہوں تو ملک کے مروج قانون کے مطابق عمل کرنا چاھیئے
              الرِّبَا   اور  ”سود“  عربی اور اردو  کے دو الفاظ ۔ جو ہم معنی  کہے جاتے ہیں ۔اگر ہم  ”سود“  کو عربی زبان کا ہی لفظ سمجھیں تو اس کا مادہ  ”س۔و۔د “ہے   جس  سے  ”اسود“    لفظ  بنتا ہے  جس کا استعمال  ہمارے ہاں حجر  اسود  میں دیکھا جا سکتا ہے۔یعنی کالا  (کالی رقم تو ویسے ہی جائز نہیں)۔ اب مدنی صاحب  کے استدلال کے مطابق  ” الرِّبَا“  کے  بارے میں واضح احکام نہیں  ہیں!  کیا    عبد الرحمان مدنی   کا استدلال درست ہے  یا پھر   محمد رسول اللہ کا ، جنہوں نےیہ کہہ کر ہماری زبان بند کردی ہے :

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ہَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِن کُلِّ مَثَلٍ وَکَانَ الْإِنسَانُ أَکْثَرَ شَیْْء ٍ جَدَلاً(18/54 ) 
اور حقیقت میں ہم نے (اللہ)  اس القرآن میں انسانوں کے لئے  ہر مثال کو دھرایا ہے اور 
انسان اکثر  (مثا ل دی جانے والی)   شئے  پر جھگڑا کرتا ہے۔

أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا (47/24 
تو کیا وہ لوگ  (تیری قوم)  قرآن میں تدبر نہیں کرتے؟  یا  ان کے دلوں پر قفل پڑے ہیں
وَقَالَ الرَّسُولُ یَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوا ہَذَا الْقُرْآنَ مَہْجُوراً (25/30 
 اور (جواباً)  الرَّسُول کہتا ہے ،  ” اے میرے ربّ بے شک  میری قوم  اِس  الْقُرْآ ن کو    مَہْجُوراً اَخذ کرتے ہیں۔  (اسی لئے تدّبر نہیں کرتے)

قرض
             آج سے 1500 سو سال پہلے تاریخ کے مطابق قرض پر دی جانے والی رقم پر لئے گئے سود کی متعدد صورتیں مختلف تاریخی کتب میں درج ہیں:-
  ٭  -     مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت(اسلام سے پہلے) کا ربا  یہ تھا کہ ایک شخص کسی سے قرض لیتا اور کہتا کہ اگر مجھے اتنے مہلت دے  تو میں اتنا ہی زیادہ (مثلاً پانچ سال میں دُگنادوں گا) -

 ٭ -  ابو بکر جصاص کی تحقیق یہ ہے کہ اہل جاہلیت میں لوگ ایک دوسرے سے قرض لیتے تو باہم طے ہو جاتاکہ اتنی مدت میں اتنی رقم اصل زر (پانچ،دس یا سو فیصد)سے زیاد ہ ادا کی جائے گی

  ٭-    قتادہؓ   کہتے ھیں جاہلیت (اسلام سے پہلے) کا ربٰو یہ تھا کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کے ہاتھ کوئی چیز (قرض پر) فروخت کرتا اور ادائے قیمت کے لئے ایک مقررہ وقت تک (ادائے قرض) کی مہلت دیتا۔ اگر وہ مدت گزر جاتی اور اگر وہ قیمت ادا نہ ہوتی تو وہ پھر مزید مہلت دیتا اور قیمت میں (مروجہ طریقے پر)اضافہ کر دیتا(مثلاً اشیاء کوقسطوں پر لینا)۔

4٭-   رازیؒ کی تحقیق میں اہل جا ہلیت کا یہ دستور تھا کہ وہ ایک شخص کو معین مدت تک رقم دیتے اس سے ماہ بہ ماہ ایک مقرر رقم سود کے طور پر وصول کرتے رہتے جب وہ مدت ختم ہو جاتی تو  مقروض سے اصل زر کا مطالبہ کیا جاتا۔ اگر وہ ادا نہ کر سکتا تو پھر ایک مزید مدت کے لئے مہلت دی جاتی۔ اورسود میں اضافہ کر دیا جاتا (صرف منافع لینا او ر اصل رقم میعادِ مدت گذرنے کے بعد لینا)۔

٭-  قرض ، پر دی جانے والی رقم کے بدلے میں اسی کی مالیت کی کوئی، شئے رہن بھی رکھی جاتی تھی ۔  کاروبار کی یہ صورتیں عرب میں رائج تھیں۔(تفسیر ابن کبیر)

            اگرہم مندرجہ بالا مثالوں کو غور سے دیکھیں تو ان چاروں اقسام کا تعلق قرض سے ہے۔ اگر ایک شخص دوسرے شخص کو قرض دیتا ہے۔دوسرا شخص اس قرض کے اوپر ایک معین مدت کے لیئے معین رقم لیتا ہے اور مدت ختم ہونے پر مقروض  اصل زر و اپس کر دیتا ہے ۔ یا مزید نئی شرائط پر معاہدہ دوبارہ ہوتا ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ مقروض نے کس مقصد کے لئے قرض لیا ہے؟ 
 غیر پیداواری یا پیداواری مقاصد کے لئے۔

            یہاں ایک مثال سے وضاحت،کہ ایک شخص نے دوسرے شخص سے1985ء میں کوئیٹہ میں ایک چارسو گز کا پلاٹ لینے کے لئے 80ہزار روپے قرض لئے،کہ تین مہینے کے  اندر واپس کر دوں گا،   وہ تین ماہ کی مدت آج کل کرتے کرتے  2004ء تک آ پہنچی۔  قرض لینے والے شخص کا انتقال ہو گا، لیکن اس شخص نے مرنے سے کافی پہلے، آدھا پلاٹ    7لاکھ کا بیچ کر، اس کی رقم سے آدھے پلاٹ (دو سوگز)  پر مکان بنا لیا ،  اس کے مرنے کے بعد جب جائداد کا تنازع اٹھا، تو اس کے وارثین نے فتویٰ لایا کہ، قرض دینے والے کو اْس کے 80ہزار ادا کر کے باقی رقم، وارثین میں تقسیم کر دی جائے۔ قرض دینے والے کا دعویٰ تھا:۔

  ٭-  وہ پورے مکان کا حقدار ہے، کیوں کہ، مقروض نے جو اسی ہزار روپے ،   1985ء میں لئے تھے، ان کی مالیت آج   2004ء  کے  15لاکھ کے برابر ہے، کیوں کہ  چارسو گز کے پلاٹ کی یہی قیمت ہے۔  اگر وہ، مقروض کو رقم نہ دیتا اور خود  اسی کے ساتھ  ایک چارسو گز کا پلاٹ، خرید لیتا تو، اس کے 80ہزار روپے کی قیمت آج 15لاکھ کے برابر ہوتی  یا دوسری 
صورت  یہ ہے۔

٭- مقروض نے  جب قرض لیا تھا تو اس وقت سونا 5,500 روپے تولہ تھا ۔ 80ہزار روپے جو  15تولے بنتا ہے ،  لہذا آپ مجھے اصل زر  15تولے سونا دے دیں۔  بصورت دیگر وہ اپنا قرض معاف نہیں کرے گا، آپ بے شک میت کو مقروض دفنا دیں ۔

            وارثینِ مقروض کو مفتی نے فتویٰ دیا کہ وہ  یہ رقم، مسجد میں  قرض خواہ کی امانت کے طور پر جمع کروا کر رسید لے لیں اور میت کو دفنا دیں، یوں مفتی نے قرض دینے والے اور مقروض کے درمیان، پل بن کر مبلغ  80ہزار روپے روپے وصول کر کے میت کو گناہ سے پاک ہونے کا زبانی سرٹیفکیٹ جاری کر دیا،  امانت کے طور پر رکھی گئی رقم  بقول مفتی  مسجد کی توسیع میں، چار سال بعد استعمال کر لی کیوں کہ، قرض مانگنے والا  مفقود الخبر تھا ۔  جبکہ  مفقود الخبر شخص  ہر سال کوئٹہ جاتا  اور کم از کم  دو الصلوٰۃ الجمعہ اس مسجد میں پڑھتا  اور مفتی سے احوال بھی دریافت کرتا ۔ بہرحا ل۔

قارئین!  اس سے پہلے کہ ہم  آگے چلیں آپ کی کیا رائے ہے۔  مقروض کے وارثین کو کیا کرنا 
چاہئیے تھا  اور کیا مفتی کا فیصلہ صحیح تھا ؟
  یاد رہے کہ اللہ کے الدین اسلام کی اساس -
   لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُون،   نہ تم ظلم کرو نہ تمھارے ساتھ ظلم ہو - پر قائم ہے۔       فساد اور خون بہانے پر نہیں  

(حال میں ایک اور فتویٰ جو  ”سوشل میڈیا“ پر گردش کر رہا ہے۔ جس کی وجہ ء تسمیہ ، حکومت کا وہ پروگرام ہے جس میں وہ  طلباء کو آسان اقساط اور  معمولی ”مارک اپ“ پر قرضے دے رہی ہے۔  جس کو  ”سود“ کا نام دے کر اللہ اور رسول سے جنگ کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔  اس کے علاوہ ، ”مضاربہ یا مشارکہ“  کے نام سے  لوگوں کی رقم  لینے پر ،  ”لعل  مسجد  یا  لال مسجد“  کے مفتیان کا نام بھی ، مقامی و غیر ملکی اخباروں میں گونج رہا ہے جنہوں نے اپنی ، پنشن (مشقت)  یا  میسر (آسان) کمائی  ان کے حوالے ، کر دی اور اب   ”مضاربہ یا مشارکہ“  کے نام  پر سینہ کوبی کر رہے ہیں  اور سوچ رہے ہیں کہ کاش، یہ رقم قومی بچت ہی میں جمع کروادیتے  تو،بھلے کم منافع ملتا  لیکن، ”اصل زر“ سے تو ہاتھ دھونا نہیں پڑتے)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   آپ کی کیا رائے ہے؟  
  ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

قرض ، سود ، منافع اور الرِّبَا -2



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔