میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل, مئی 27, 2014

کتاب اللہ اور تصور ملکیت ۔ 6


موجودہ زمانے میں، مال کو چار قابل ذکر اقسام میں تقسیم کیا  گیاہے۔
  1- اباحت  اور حرمت کے لحاظ سے۔
کسی شے کا استعمال حرام ہو  یا  مباح  اورجائز ہو ۔  لہذا ان صورتوں کے پیش نظر  مال کو دو اقسام میں تقسیم  کیا جا سکتا ہے ۔
 مال متقوم ۔
وہ مال ہے جس کی معاشرے میں کوئی قیمت اور منفعت  ہو۔ جن کی ان کے چوری ہونے کے خدشے کے پیش نظر حفاظت کی جاتی ہو۔
 مال غیر متقوم ۔
وہ مال ہے جس کی معاشرے میں کوئی قیمت نہ ہو۔ جن کی حفاظت نہ  کی جاتی ہو۔  مثلاً کھلے سمندر میں تیرنے والی مچھلیاں،  ہوا  میں اڑنے والے آزاد پرندے،  زیر زمین پائے جانے والے معدنی ذخائر(بشرطیکہ یہ کسی دوسرے ملک کی جغرافیائی حدود کے اندر نہ ہوں)۔
 
2- حرکت و تغیر کے لحاظ سے
 منقولہ ۔
ایسے تمام  متقوم اموال جو ایک جگہ سے دوسری جگہ بآسانی لے جائے جا سکیں۔ چاہے منتقلی  کے عمل میں ان کی ہیت تبدیل ہو جائے یا وہی رہ (مثلاً پھلوں کا ایک جگہ سو دوسری جگہ جاتے ہوئے پک جانا)۔ سودا خوا ہ تحریری طور پر ہو ا ہو یا زبانی  ہر دو صورت میں سودے کے مکمل ہو جانے کے بعد مالک کی مرضی ہے کہ وہ مال منقولہ پہلے مالک کے گودام میں پڑا رہنے دے یا وہاں  سے کہیں اور منتقل کرا لے۔ وہ اس مال کو کہیں اور منتقل کرانے سے پہلے کسی اور کو بیچ بھی سکتا ہے۔
 غیر منقولہ ( عقار ) ۔
ایسے تمام  متقوم اموال جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوسکیں۔  جیسے،کھیت، مکانات، اور کھڑے درخت۔ ان اشیاء کو ”عقار“  بھی کہتے ہیں ۔  شفعہ اور پڑوس کے حق  تصرف ”عقار“ کے ساتھ منسلک ہیں ۔ بیع الوفا کا معاہدہ بھی صرف  ”عقار“  کی صورت میں واقع ہو سکتا ہے۔
3- قدر     (Value) کے لحاظ سے
 مثلی ۔
وہ تمام اشیاء جن کی متماثل اشیاء مارکیٹ میں موجود ہوں۔کسی نقصان کی صورت میں وہی اشیا ء  بلحاظ حجم، وزن،  تعداد  یا پیمائش دی جاسکے۔
 قیمی ۔
وہ تمام اشیاء جن کی متماثل اشیاء مارکیٹ میں موجود نہ  ہوں اور کسی نقصان کی صورت میں وہی اشیا ء  بلحاظ حجم، وزن، تعداد  یا  پیمائش نہ دی جاسکے  البتہ جن کی ادائیگی  سکہ رائج الوقت میں ہو سکے۔  
4-   استعمال کے لحاظ سے
 اشیائے صرف،  دوران استعمال صرف ہو جانے والا مال     
ایسا مال جو استعمال ہو کر ختم ہو جائے  یعنی جس کا منافع اس کا  خرچ ہے ۔ مثلاً غذائی اشیاء، تیل صابن، کاغذ  اور پیٹرول وغیرہ۔
 محض استعمال ہونے والا مال ۔
جو ما ل منفعت حاصل کرنے کے عمل میں صرف نہ ہو بلکہ باقی رہے ۔ البتہ وقت کے لحاظ سے ان کی بوسیدگی (ڈیپریسیشن
میں اضافہ ہو۔ مثلاً کتابیں، کپڑے، مشینیں، گاڑیاں، فرنیچر وغیرہ۔ تجارت اور قرض، کے معاہدات صرف استعمالی مال کے بارے میں کئے جا سکتے ہیں۔



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 







خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔