میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 13 مئی، 2014

اہل علم و دانش ! - - - أَفَلَا تَتَفَكَّرُ‌ونَ

اہل علم و دانش !!!!

بصیرت حق کے لئے اپنے تئیں کچھ جواب تیار کیے گئے ہیں ، برائے مہربانی آپ خود ان سوالات کےلئے کوشاں ہوں ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ قرآن کا نعم البدل کوئی کتاب نہیں ہو سکتی ، یہ صرف ایمان ہی نہیں علمیت کی بلند ترین کسوٹی بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئیں ان سوالوں کے جواب دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

جواب نمبر ١ : کتب روایات انسانی کاوشوں کی سطحی مثالیں ہیں جنہیں کلمتہ الناس کہا جائے گا جبکہ آیات قرآنی واضع بلند ترین فراست اور ہدایت کا سرچشمہ ہیں جنہیں کلمتہ اللہ کہا جاتا ہے ۔۔

اور اس کو نازل کرنے والا خود بزرگ و برتر خدائے واحد ہے ۔۔ چنانچہ ارشادباری تعالیٰ ہے

 وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّهِمْ ۙ  ﴿2﴾ محمد
وَإِن كُنتُمْ فِي رَ‌يْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَ‌ةٍ مِّن مِّثْلِهِ
  ﴿23﴾ البقرۃ
[یہاں ۔۔۔َّمَّا نَزَّلْنَا۔۔۔۔ سے کیا مراد ھے؟ قرآن]
تَبَارَ‌كَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْ‌قَانَ عَلَىٰ  ﴿1﴾ الفرقان
ثابت ہوا کہ کلمتہ اللہ اور کلمتہ الناس برابر نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔۔۔

 
جواب نمبر ٢ : کتب راوایات ایک تاریخ مواد ہے اور خارج از قرآن ہے ،، تاریخ کے پنوں پر ایمان لانے کا نہیں کہا گیا ہے ۔ اس تاریخی مواد سے استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن صرف قرآنی اسلوب کے دائرے میں رہتے ہوئے ۔۔۔۔ اور یہ دائرہ خود قرآن تین الفاظ میں متعین کر دیتا ہے
روایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہدایت
اور یہ ہدایت کا سرچشمہ صرف اور صرف قرآن ہے ۔۔۔۔۔ دوسرا رسول عربی نے خود اس ہدایت پر عمل کیا اور اپنے رفقائ کو تلقین بھی کی ۔۔۔۔۔۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا

  وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ   ﴿19﴾ الأنعام
اور میری طرف ۔۔۔۔ھٰذالقرآن۔۔۔ وحی کیا گیا۔۔
نبی خود قرآن کے الفاظ میں کہہ رھے ھیں کہ میری طرف یہ القرآن وحی کیا گیا ۔۔۔
پھر کہا کہ اسی وحی کا اتباع کرو
وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ  ﴿2﴾ الأحزاب
 پھر نبی نے فرمایا ، (قرآن کے الفاظ میں):۔
 إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ مِن رَّ‌بِّي    ﴿203﴾ الأعراف
 إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ  ﴿50﴾ الأنعام
یعنی میری طرف قرآن وحی کیا گی(6.19) اور اسی کی اتباع کرتا ھوں۔۔
گویا ثابت ہوا کہ ایمان لانے کے لئے اور اتباع کےلئے ہدایت ( قرآن ) ہی کافی ہے ۔۔۔۔۔
جس چیز پر ایمان کا نہیں کہا گیا اُسے نہ ماننے سے کفر کس طرح ہو سکتا ہے ؟

مشرک اور کافر وہی ہیں جو اللہ کی کتاب کی روشن آیات کو روایات سے منسوخ و رد کر تےہیں اور ظاہر و باطنی و عملی طور پر قرآن کی آیات پر عمل پیرا ہونے سے گریز کرتے ہیں ۔۔
جواب نمبر ٣ :  اللہ نے مسلمانوں کو واضع فرما دیا کہ “ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ
کلمتہ اللہ کا ہر ہر لفظ بامقصد ہے اس روشن ہدایت میں دانائی ہی دانائی ہے ۔۔ لہذا اس کی ایک آیت کا انکار گویا خدا پر ایمان سے انکار کے مترادف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے قیمتی کمنٹس سے پوسٹ کے مندرجات پر بات کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ثم تتفکرو
سید شاکر حسن رضوی

سبحان اللہ ، بہت خوب ، جزاک اللہ خیر ۔ سید شاکر حسن رضوی ۔ سبحان اللہ ۔

  نے  سوالوں کے جوابات ، الکتاب کی آیات کی روشنی میں دینے کے لئے جن آیات کی ترتیل کی ہے وہ مکمل حالت میں میں نے درج ذیل لکھی ہیں تاکہ دیگر بھائیوں کو بھی " علم الکتاب " ہو جائے ۔ 
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّ‌بِّهِمْ ۙ كَفَّرَ‌ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ﴿2﴾ محمد
وَإِن كُنتُمْ فِي رَ‌يْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَ‌ةٍ مِّن مِّثْلِهِ
وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿23﴾ ﴾ البقرۃ
تَبَارَ‌كَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْ‌قَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرً‌ا ﴿1﴾ الفرقان
قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ‌ شَهَادَةً ۖ قُلِ اللَّـهُ ۖ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْ‌آنُ لِأُنذِرَ‌كُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللَّـهِ آلِهَةً أُخْرَ‌ىٰ ۚ قُل لَّا أَشْهَدُ ۚ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِ‌يءٌ مِّمَّا تُشْرِ‌كُونَ ﴿19﴾ الأنعام
وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ مِن رَّ‌بِّكَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا ﴿2﴾ الأحزاب
 
وَإِذَا لَمْ تَأْتِهِم بِآيَةٍ قَالُوا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۚ قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ مِن رَّ‌بِّي ۚ هَـٰذَا بَصَائِرُ‌ مِن رَّ‌بِّكُمْ وَهُدًى وَرَ‌حْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴿203﴾ الأعراف
قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ‌ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُ‌ونَ ﴿50﴾ الأنعام

- - - - - - - - - - - - - - - - - -- 

تو بھائی  
سید شاکر حسن رضوی پھر ، 

 ۔ ۔ ۔ ۔  خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ - - - - --  ﴿مريم: ١٢﴾

اپنی توانائیاں لَهْوَ الْحَدِيثِ کی طرف لوگوں کی توجہ دلانے پر کیوں ضائع کر رہے ہیں ،
انسانوں کو أَحْسَنَ الْحَدِيثِ کی طرف متوجہ کریں ، تاکہ وہ الْحَدِيثِ کو دیکھنے کے بعد اس پر تَعْجَبُ نہ کریں ، بلکہ وہ اللہ کی حَدِيثٍ اور اس کی آيَات پر ایمان لائیں ۔

آپ کی مساعیِ لا حاصل صرف ایک قسم کا جھولا ہے،  کبھی آپ اوپر اور کبھی وہ ، ان کوششوں میں ، اللہ کی آیات کسی کے بھی پلے نہیں پڑ رہیں ، بلکہ مَّكَانٍ بَعِيدٍ سے نداؤں کا سا سماں ہے ۔ 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔