میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 26 مئی، 2014

مولوی اسمٰعیل میرٹھی

مولوی اسمٰعیل میرٹھی
                          

             مولانا  ا سمٰعیل  ۱۲ نومبر ۱۸۴۴ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ میرٹھ کا وہ محلہ جس میں مولانا کا آبائی گھر تھا اب اسمٰعیل نگر کہلاتا ہے۔ مولانا کے خاندان کے ایک بزرگ قاضی حمید الدین، بابر کے ساتھ اس وقت ہندوستان آئے تھے جب بابر نے اپنے تیسرے حملہ میں اس ملک کو فتح کیا تھا۔ بعد میں ان کا خاندان میرٹھ میں آباد ہو گیا۔ اس خاندان کے افراد اپنے علم و فضل کی بنا پر ممتاز رہے اور ان میں اکثر مغل بادشاہوں کے ہاں اعلیٰ عہدوں پر مقرر ہوئے۔
 فارسی زبان کی ایک  لُغت ’بُرہانِ قاطع‘ ہے۔ مرزا غالب نے اس کتاب کی غلطیاں اپنی ایک تصنیف ’قاطعِ  بُرہان‘ میں بیان کی تھیں۔ مولانا اسمٰعیل کے استاد رحیم بیگ صاحب نے غالب کی اس کتاب پر تنقید لکھنی شروع کی تو اپنے شاگرد کو اس کام میں شریک رکھا۔ مولانا اسمٰعیل اپنے استاد کی مدد کرنے کے لئے لغت کی مختلف کتابوں سے الفاظ کے معنیٰ اور مفہوم تلاش کر کے انہیں دیتے اور کتاب کا مسودہ صاف کرنے میں ان کا ہاتھ بٹاتے۔ اس طرح مولانا کو شروع ہی سے علمی کاموں میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
جس روز میرٹھ میں جنگِ آزادی شروع ہوئی، مولانا اپنے ایک پڑوسی کے گھر افطار کی دعوت میں شریک تھے   کہ اچانک شور سنائی دیا۔ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ فوج کے ہندوستانی سپاہیوں نے انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی ہے۔ فوج کا اسلحہ خانہ لوٹ لیا اور جیل کے دروازے کھول دئیے ہیں۔ یہ جنگِ آزادی کی ابتدا تھی۔ یہ واقعہ ۱۰؍ مئی ۱۸۵۷ ء   کا  تھا۔ اور اس روز رمضان (۱۲۷۴ھ) کی ۱۴؍ تاریخ تھی۔
جنگِ آزادی کے ہمارے یہ بزرگ ہمارے شکرئیے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ان حالات میں بھی جو کچھ کرنے کا ارادہ کیا اور جو کچھ کر دیا اس کا نتیجہ ہے کہ ہم آج ایک آزاد اسلامی ملک کے باوقار شہری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کے بزرگوں کی ان کوششوں  کو ہم تحریکِ پاکستان کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔

مولانا سمٰعیل میرٹھی بھی  ہمارے محسنوں کی اس جماعت میں شامل ہیں۔ انہوں نے دینی علوم کی تکمیل کے بعد جدید علوم سیکھنے پر توجہ کی، انگریزی زبان میں مہارت حاصل کی، انجنیرنگ کا کورس پاس کیا۔ مگر ان علوم سے فراغت کے بعد  اعلیٰ ملازمت حاصل کرنےکے بجائے  تدریس کا معزز پیشہ اختیار کیا تاکہ اس راہ سے  قوم کو اپنے کھوئے مقام تک واپس لے جانے کی کوشش کریں اور اپنے شاگردوں اور ساری قوم کے نو نہالوں کی ذہنی تربیت کی خدمت انجام دیں۔
۱۸۵۷ سے پہلے اردو زبان کے شاعروں  نے خیالی میدانوں میں گھوڑے دوڑانے کے سوا  کوئی مفید خدمت کم ہی انجام دی تھی۔ اپنے دوسرے ہم عصروں مثلاً حالی، اور شبلی کی طرح مولانا  میرٹھی نے اپنی شاعری کو بڑوں اور بچوں کے لئے تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے خاص کر نو نہالوں کی ذہنی تربیت کے لئے درسی کتابیں مرتّب کیں۔ ان کتابوں کے نثری مضامین اور اُنکی نظموں نے یہ کام بڑی خوبی سے انجام دیا۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی نے سادہ زبان میں اردو سکھانے کے ساتھ ساتھ ان کتابوں میں اخلاقی مضامین کو اس خوبی سے سمویا ہے کہ پڑھنے والے تعلیم کے ساتھ تربیت کے زیور سے بھی آراستہ ہوتے جاتے ہیں۔
 دہلی کے ایک مشہور ادیب منشی ذکا اللہ نے بھی سرکاری اسکولوں کے لئے اردو ریڈروں کا ایک سلسلہ مرتب کیا تھا۔ اُن کی کتابوں میں مولوی اسمٰعیل میرٹھی کی نظمیں بھی شامل تھیں۔
مولانا کے ایک صاحبزادہ نے اُن کی زندگی کے حالات اور اُنکی شاعری کا ایک مجموعہ ’حیات و کلّیاتِ اسمٰعیل‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے لکھا ہے کہ مولانا  غالب کو شاعری میں اپنا  اُستاد بتاتے تھے۔
 میرٹھ شہر میں لڑکیوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہ تھا۔ مولانا نے ’مدرسۃ البنات‘ کے نام سے ۱۹۰۹ میں لڑکیوں کا ایک اسکول قائم کیا۔ یہ درسگاہ آج تک قائم ہے اور اسکا نام  اسماعیلیہ ڈگری  گرلز کالج ہے۔ ان تمام تعلیمی اور علمی مصروفیات کے ساتھ مولانا نے مسلمانوں کی سیاسی تربیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ اِن سیاسی خدمات کے پیشِ نظر انہیں ۱۹۱۱ء میں میرٹھ شہر کی مسلم لیگ کا نائب صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اس طرح وہ انجمن ترقی اردو کی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔
مسلمانوں کے اس خدمت گذار مُصلِح نے ۷۳ سال کی عمر میں یکم نومبر ۱۹۱۷ء کو وفات پائی۔  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔