میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, مئی 18, 2014

ارتقاء ِعلم، کی تلاش میں سرگرداں ۔ ۔ ۔

ارتقاء ِعلم، کی تلاش میں  سرگرداں ،  ایک نوجوان  مسلمان بھائی  جناب شاہد رائے نے یہ سوال پوچھا :- 

کیا رسول کے قول فعل میں تضاد ہوسکتا ہے ؟؟
اور پھر اپنی ارتقائی فکر و تدبر ، عقل و دانش کی بنیاد پر جواب بھی دیا ۔ 

نبوی زندگی میں رسول کا ایک ہی کام تھا ۔ حق کا ساتھ دینا اور باطل کو مٹانا ۔۔۔  (ھیڈلائن)

  اس حدیث میں اسلام دشمن فارسی محدث، رسول سے اپنے عمل کے خلاف بیان بازی کر وا رہے ہیں ۔ خود ہی نوٹ کرلیں کہ قرآں کا حکم کیا ہے حق کے لیے اور رسول کے نام سے کیسی خلاف قرآں تعلیم سکھائ جا رہی ہے ۔۔ جب اس طرح کی حدیثیں معاشرے میں موجود رہیں گی تو کیا خاک کوئی قران کی تعلیمات کو سمجھ سکے گا کیا خاک کوئی حق کا ساتھ دیگا ۔۔۔ ؟؟
(جواب شاہد رائے )
--------
                                                                                                 
 سوال اور جواب دونوں ، عقل و فہم کو ضرب لگانے والے ہیں ،  لیکن فکر و تدبر   کی کمی ہے ۔

نوجوانوں کے اس گروپ ، میں ماشاء اللہ غور و فکر کرنے والے لوگ ہیں  جن کی تعلیم کی دونوں جہتیں  خوب ہیں یعنی ،
تعلیم برائے روزگار اور تعلیم برائے  خوشگوار اخلاقی زندگی  جس  کے ثمرات انہیں یہاں بھی حاصل ہو رہے ہیں اور یہاں کے بعد بھی یقینا وہ ناکام نہ ہوں گے
-

نوجوانوں کا یہ گروپ ، طرزکہن سے ہٹ کر چلنے والا ہے اور کیوں نہ ہو ہماری تاریخ اسیے نوجوانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے ، طرز کہن سے ہٹ کر اپنے افکار سے ارتقائی   فکر و تدبر ، کو ایک  نئی راہ دی  ، خواہ یہ راہ بعد میں تجرباتی طور پر غلط ثابت ہوئی ہو لیکن بہتوں کے لئے اب بھی یہ مشعل راہ ہے    ۔

ان نوجوانوں میں ، ارسطو ، افلاطون  ، کنفیوشس ،  اور کئی ناموں کے ساتھ ، محمد بن عبداللہ بھی تھے ، جن کے افکار  انسانی  دنیا میں  قول فیصل کی حیثیت رکھتے ہیں  ۔   ہر نیا گروپ ان کے افکار کی روشنی میں اپنے افکار  کو سنوارتا ہے ،  ادبی و دیگر کتابیں لکھتا ہے ، جو لوگ خریدتے ہیں اور اپنی اخلاقی زندگی کو نیا رنگ دیتے ہیں ،  اگر انسانی افکار کی کوئی حیثیت نہ ہوتی تو آج لائبریریوں کا وجود نہ ہوتا  ۔ کئی نوجوانوں نے  اپنی اپنی پسندیدہ شخصیتوں کے افکار کو ہوبہو  کتابوں کی زینت بنایا تو کچھ نے اپنی علمی قابلیت کے بل بوتے پر ، انہیں سمجھانے کے لئے اور آسان کر دیا  ، اس کی مثال میں نسیم حجازی کے ناولوں سے دیتا ہوں ، کہ جس نے  نوجوانوں  کو  راغب کرنے کے لئے تاریخی ناول لکھے ، یہ اور بات کہ ہمارے جیسے  تاریخ سے دلچسپی نہ رکھنے والے ، ان ناولوں کی داستان محبت کے اسیر ہوئے ،    اور دوستوں پر علمی دھاک بٹھانے کے لئے ، تاریخی کرداروں کی محبوباؤں کے واقعات  بیان کرتے ،  کیوں انسانی ادبی  علم  کی ابتداء مرد اور عورت سے شروع ہو کر مرد اور عورت پر ہی ختم ہوتی ہے ،  سراؤں ،قصہ خوانی بازاروں میں ، وہ قصہ خواں زیادہ مشہور ہو کر کماتا تھا ،  جو اپنی کہانی میں ،  ایک عام عورت کو  الپسراء کا روپ دیتا ، اور ا س کے عاشق  ، کا انجام نامرادی پر ختم کرتا  یا  انہیں ایک دوسر ے سے ملوادیتا ۔

ادبی سلسلے کے ساتھ ، کئی قصہ خوانوں  نے   ، انسانی تربیت کا بیڑا اٹھاتا اور مذہبی رنگوں میں بھگو کر  قصے سنانے شروع کئے کئی قصوں کے رنگ پختہ ہوگئے اور کئی قصوں کے رنگ پختہ ہوگئے ، جن کے رنگ پختہ ہوئے وہ محئیرالعقول واقعات کے ساتھ  ، خوشگوار انجام کی نوید دلاتے ، ان قصوں میں خوفزدہ انجام  کو اتنا ماضی میں اور نہ آج کسی نے پسند کیا ۔  لیکن ان قصوں کی بدولت ،  حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف وجود میں آئے ، جن کی زبانوں سے دیپک تو کم نکلے لیکن شعلوں نے بے تحاشا لپک دی ۔

یہی آج کے نوجوانوں کا بھی طرہء امتیاز ہے ۔  کہ وہ  شکر  کو ریت میں ڈال کر اسے چھان کر دودھ میں ڈالنے کے قابل بنا رہے ہیں ،  
 یہ اوپر دی گئی بریکنگ نیوز ایک ایسے ہی نوجوان ابن ماجہ کی ہے :-

قصہ یوں ہے کہ ماضی بعید میں آج کل کے کسی اخباری نمائندے یا میڈیا کے فرد کی کی طرح سےاس  نوجوان کی طرح کئی نوجوانوں نے  (جنھیں چھ کا گروپ بھی کہتے ہیں ) صرف ہیڈ لائین اچک لی ، نفس مضمون  بتانے کی زحمت نہیں کی تاکہ  ریٹنگ کی دوڑ میں سبقت لی جاسکے ۔ اور ھیڈ لائن کو ہی مقبول بنا دیا جائے اور ایساہی ہوا  ۔
 
تو نوجوان شاہد رائے : 
یہ پوری نباء الغیب کچھ اس طرح ابلاغ ہوناچاہیئے تھی :-
مصدقہ ذرائع کے مطابق ، محمد بن عبداللہ ، جنھوں نے مکہ اور مدینہ کے جھگڑالو  لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ،

" اے میری افکار پر چلنے والے  لوگو تمھیں معلوم ہے کہ میں تمھیں امن پسندی کا درس دیتا ہوں ، تاکہ تم شر پسند لوگوں سے محفوظ رہو
اگر تم حق کے باوجود  جھگڑا نہ کرو تو میں تمھیں اس امن پسندی کے نتیجے کے طور پر جنت میں اعلیٰ مقام کی ضمانت دیتا ہوں ۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تم پر غلبا پا لیں ۔ ہمارے ہاں  جرم کے نتیجے کے طور پر ، آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان  اور دانت کے بدلے دانت  نکالنے کا رواج ہے  او رانصاف کا  پر اتنا شدت سے عمل ہوتا ہے ، جتنا زخم لگا ہے اتنا ہی زخم لگایا جائے ، نہ بال کی موٹائی  سے زیادہ  ، اور قتل کے برابر قتل ۔ لہذا امن پسندی کا تقاضا یہی ہے  کہ :-

وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ﴿190﴾ البقرۃ
 
جو(شر پسند ) لوگ تمھیں قتل کرتے ہیں تو (اے امن پسند لوگو ) تم بھی انہیں قتل کرو ۔ لیکن زیادتی مت کرو ، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا –
نوجوان شاہد رائے :   ہاں صدیوں کے سفر میں کتابت کا رواج نہ ہونے ، کی وجہ سے ان کی کاپیاں کرتے وقت ، ترتیب کچھ الٹ پلٹ ہوگئی ، کچھ الفاظ اگے ے پیچھے  ہوگئے  ، کچھ بغدادیوں اور کوفیوں کے ذھین حافظے کی نظر ہوگئے ، کچھ داستا ن زیب داستان طوطیوں نے کی اور کچھ قمریوں نے  ، لہذا کیوں نہ ایسا کیا جائے ، کہ ماضی کے نوجوانوں کے کام کو ذرا الماریوں میں رکھ دیا جائے ،  اور

محمد بن عبداللہ کے دھان سے نکلے ہوئے وہ الفاظ جنھیں انہوں نے ، بحیثیت  رَّ‌سُولَ اللَّـهِ  اور خَاتَمَ النَّبِيِّين  ، کلَامَ اللَّـه کہا ہے ، اس میں تدبر کیا جائے ، تو میرا خیال ہے ، کہ ماضی کے نوجوانوں ( مثلاً، ارسطو ، افلاطون  ، کنفیوشس ، ایرانی ، خراسانی ، مصری ، شامی ، یمنی ، افریقی ، ہندی ، طورانی اور کاشغری )  کےافکار کی ضرورت کم سے کم ہوتی جائے گی ۔
 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔