میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 20 مئی، 2014

ان کے مطابق اور میرے مطابق

شیخ سعدی اور حافظ شیرازی ، بخاری ، نیشاپوری ، ترمذی ،قزوینی اور سیستانی کی طرح ایرانی ہیں ۔

اور ایرانیوں کا مسلم علم و ادب میں بہت " بڑا     ہاتھ" ہے ۔جو لاکھوں  لکھاریوں کے ہاتھوں ،  الحمد سے لے کر والناس  کی ، درزوں (بریکٹوں) میں بیٹھ چکا ہے  ۔ 
اس پر لوگ  ، پی ایچ ڈی کرکے  ،  عامر لیاقت    اور بابر اعوان جیسے لوگ ڈاکٹر بن رہےہیں ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔