میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ, مئی 17, 2014

میں حاصل کر رہا ہوں تعلیم برائے روزگار


بھیک مانگنے سے کمانے والے ہاتھ بہتر ہیں ۔
میں پڑھ رہا ہوں ، انجنئیرنگ ، لیکن لکھ نہیں سکتا تو کیا ۔
میں علم حاصل کررہا ہوں ہنر مندی کا ، نہ کہ چپڑاسی کا ۔
جس کو نوکری سفارش سے ملتے ہے یا پیسوں سے ۔
لیکن ، میں خود مالک بنوں گا اپنی تقدیر کا ۔
کسی کے ہاتھ میں اپنے رزق کی قسمت نہیں دوں گا ۔
میں حاصل کر رہا ہوں تعلیم برائے روزگار

نیچے والی تصویر  میں ہارو ن (درمیان میں ) ایک ماہر موٹر مکینک ہے ، یہ ان پڑھ ہے میں فنی تعلیمی لحاظ سے اسے ، پولی ٹیکنک کالج  کے سٹوڈنٹ کے برابر کا درجہ دیتا ہوں ،   میری  ہارون سے ملاقات 2000 میں ہوئی تھی جب میں نے  اٹک سے ریٹائر ہوکر اسلام آباد ہجرت کی ، اس وقت سے اب تک میں اپنی کار اسی سے ٹھیک کرواتا ہوں ۔
گاڑیوں کے بارے میں جتنا میرا ، کتابی علم ہے ہارون کا کہیں اس سے زیادہ تجرباتی علم ہے ۔ ہارون نے دس سال کی عمر میں اپنے گھر والوں کو سہارا دینے کے لئے ہاتھ میں اوزار پکڑے ، اس وقت سے اب تک کا سفر ہارون کے روزگار کا ایک  بہترین سفر ہے ،  اس کے دیگر شاگرد اس سے تربیت لے کر جاچکے ہیں اب اس کا بھائی اور اس کا بھانجہ  اس سے تربیت لے رہے ہیں ۔
ہارون  مفت سرکاری سکول میں تو داخل ہو گیا ، لیکن مفت کے اس سکول میں دیگر لوزمات کے لئے پیسے اس کے باپ کے پاس نہ تھے کیوں کہ وہ ساٹھ فیصد  ان لوگوں میں سے تھا ، جو گھر کا خرچ مشکل سے چلا پاتے ہیں ۔
باپ کے چہرے پر ہارون کے پھیلے ہوئے ہاتھوں سے جو کرب نمودار ہوتا ، ننھا ہارون خون کے آنسوؤں کا گھونٹ پی کر رہ جاتا ۔ پھر استاد  کے مارنے پر کیوں کہ وہ استاد کے کہنے کے مطابق  باقی بچوں کی طرح چیزیں نہ لا سکا اس نے ، گھر آکر اپنا ، بستہ اوپر کارنس پر رکھا اور ایک عزم سے نزدیکی موٹر سائیکلوں کی دکان پر گیا  اور پھر اس کی ترقی کا سفر ، بڑھنے لگا ، چھوٹے سے وہ ماہر ہوا اور پھر وہ خود ایک استاد بن گیا ۔
اس کے نزدیکی سکول میں پڑھنے والے سفید پوشوں کے بچے اس پر رشک کرتے ، کیوں کہ ان میں یا ان کے والدین میں ، روزگار کے اس سمندر میں چھلانگ لگانے کی ہمت نہ تھی ،
وہ  میٹرک پاس کرنے کے بعد تلاش روزگار میں مارے مارے پھرے ، ان میں سے کئی تو ہارون کے شاگرد بھی بنے لیکن سفید پوی کے بھرم نے انہیں ، چپڑاسیوں کی قطار میں جا کھڑا کیا ۔
کتنوں کو نوکری ملی اور کتنے ایسی راہوں پر چلے جس کا انجام  یقینا ً خوشگوار نہ تھا ۔
لیکن کالے کپڑوں اور کالے ہاتھ میں دن بھر اپنے کام میں مگن پر عزم اور ذہین ہارون ، تین گاڑیوں کا مالک ہے جو ٹیکسیوں کی صورت میں پنڈی اسلام آباد کی سڑکوں پر بھاگتی پھرتی ہیں اور شام کو ڈرائیور ، ہارون سیٹھ کے ہاتھ میں  دن بھر کی کمائی سے حاصل ہونے والا ہارون کا حصہ دے کر خوشی خوشی اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں



 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔