میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

اتوار، 25 مئی، 2014

منکرینِ حدیث کی پہچان !

صاحبان ِ عقل و فہم ، فکر و دانش ! 



2 تبصرے:

  1. الحمد للہ ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے کسی ایک بھی حدیث کا بھی سہارا نہیں لینا پڑا، یہ آپ کی بھول ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. اور جو امام بخاری نے 6 لاکھ میں سے 7563 کا انتخاب کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خود امام بخاری نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    تو سب سے بڑا منکر حدیث تو یہ خود ہوا نا ؟؟؟؟؟

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔