میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 26 مئی، 2014

الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ سے الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى کی جانب أَسْرَ‌ىٰ


اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ  رات کو کئے جانے والے ایک سفر جو  
الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ سے   الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى کی طرف تھا  ۔  الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى  کے ماحول میں  اللہ کی ناقابل تنسیخ اور ردوبدل آیت جو الکتاب کی زینت  ہے کے مطابق آج بھی برکات پھیلی ہوئی ہیں  ، اور آج بھی لاکھوں ایمان والے ان برکات سے مستفید ہوتے ہیں ۔ 

سُبْحَانَ الَّذِي
أَسْرَ‌ىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَ‌كْنَا حَوْلَهُ لِنُرِ‌يَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ‌ ﴿1﴾ الإسراء

 اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ   کو   رات  کے أَسْرَ‌ىٰ کی  تفصیل بتائی  :-
 
 وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنْ أَسْرِ‌ بِعِبَادِي إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ ﴿ 52﴾ الشعراء
 فَأَرْ‌سَلَ فِرْ‌عَوْنُ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِ‌ينَ ﴿٥٣﴾ الشعراء
 إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَشِرْ‌ذِمَةٌ قَلِيلُونَ ﴿٥٤﴾ الشعراء
 وَإِنَّهُمْ لَنَا لَغَائِظُونَ ﴿٥٥﴾ الشعراء
 وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُ‌ونَ ﴿٥٦﴾ الشعراء
 فَأَخْرَ‌جْنَاهُم مِّن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ﴿٥٧ الشعراء
وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِ‌يمٍ ﴿٥٨﴾
الشعراء
كَذَٰلِكَ وَأَوْرَ‌ثْنَاهَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ ﴿٥٩﴾
الشعراء
 فَأَتْبَعُوهُم مُّشْرِ‌قِينَ ﴿٦٠﴾ الشعراء
اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ   کو قومِ موسیٰ کے أَسْرَ‌ىٰ سے قبل قوم ِ لوط کے  رات  کے أَسْرَ‌ىٰ کی  تفصیل بتائی  :-

فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْ‌سَلُونَ ﴿٦١﴾ الحجر
قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنكَرُ‌ونَ ﴿٦٢﴾
الحجر
قَالُوا بَلْ جِئْنَاكَ بِمَا كَانُوا فِيهِ يَمْتَرُ‌ونَ ﴿٦٣﴾
الحجر
 وَأَتَيْنَاكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ﴿٦٤﴾ الحجر
فَأَسْرِ‌ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَ‌هُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُ‌ونَ ﴿٦٥﴾ الحجر


ان دونوں   کا اختتام  ایسی سرزمین پر ہوا ، جس کے گر د اللہ کی ایمان والوں کے لئے برکات ہیں ،ایمان والے صدیوں سے وہاں رہ رہے ہیں اور ان برکات سے مستفید ہو رہے ہیں  ۔
 
  
أَسْرَ‌ىٰ کے قوانین اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ کو فصاحت سے بتائے :-
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَ‌ىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ تُرِ‌يدُونَ عَرَ‌ضَ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ يُرِ‌يدُ الْآخِرَ‌ةَ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿67﴾ الأنفال
لَّوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّـهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿68﴾
الأنفال
فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا 
ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿69﴾ الأنفال
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّمَن فِي أَيْدِيكُم مِّنَ
الْأَسْرَ‌ىٰ إِن يَعْلَمِ اللَّـهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرً‌ا يُؤْتِكُمْ خَيْرً‌ا مِّمَّا أُخِذَ مِنكُمْ وَيَغْفِرْ‌ لَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿70﴾ الأنفال
 وَإِن يُرِ‌يدُوا خِيَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللَّـهَ مِن قَبْلُ فَأَمْكَنَ مِنْهُمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿72﴾ الأنفال
 إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُ‌وا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُ‌وا أُولَـٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُ‌وا مَا لَكُم مِّن وَلَايَتِهِم مِّن شَيْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُ‌وا ۚ وَإِنِ اسْتَنصَرُ‌وكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ‌ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ ۗ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ‌ ﴿73﴾ الأنفال

قارئین :  أَسْرَ‌ىٰ  ، أَسْرِ‌ ، فَأَسْرِ‌ ، الْأَسْرَ‌ىٰ  کو  اللہ ہی  کے مطابق سمجھنے کے لئے  ، ان سب کا ایک ترجمہ ، معنی یا مفہوم لیں  ،   خفیہ سفر لیں یا  جنگی قیدی    اور بالا آیات میں دئیے ہوئے تراجم میں استعمال کریں  تو آپ کو  قوانین   ،   مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَ‌ىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْ‌ضِ سمجھ آجائیں گے  ۔ اور لازما سمجھ آئیں گے اور آپ کے ہاتھ میں    مُّدَّكِرٍ‌ کی قندیل ہو گی ،   ورنہ اللہ کا یہ قانون ناقابل فہم ہی رہے گا ۔

وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ ﴿القمر: 17﴾





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔