میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 13 مئی، 2014

منغول باشاہت- جنغیز خان -Genghis Khan

منغولیا   کا  تموجن (جنغیز خان،Genghis Khan  )
بوڑھا خاقان بستر مرگ پر تھا. اردگرد بیٹوں, پوتوں، حکومتی زعماء اور مذہبی رہنماؤں کا گھیرا تھا. بوڑھا شامان خان کے سرہانے کھڑا منہ ہی منہ میں بدبدا رہا تھا اور آسمانی روحوں سے خان کی سلامتی مانگ رہا تھا. سب لوگ اس فکر میں غلطاں تھے کہ بوڑھے خاقان کے مرنے کے بعد اس عظیم سلطنت کا کیا بنے گا ؟ جس کی بنیاد خاقان اعظم نے صحرائے غوبی کے وحشی اور خونخوار قبائل کو متحد کر کے رکھی تھی۔ یہ سلطنت اب ایک طرف چین تو دوسری طرف یورپ تک پھیل چکی تھی. کیا ایران اور کیا ہندوستان سب حکومتیں منگولوں کے گھوڑوں کے سموں تلے پامال ہو چکی تھیں۔
معلوم دنیا کا غالب حصہ اس عظیم فاتح کے زیر نگیں آ چکا تھا، اور اگر چند سال مزید مہلت مل جاتی تو باقی دنیا بھی تاتاری سلطنت کا حصہ ہوتی. کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خاقان مر بھی سکتا ہے، یقین تو خود خاقان کو بھی نہیں آ رہا تھا، ساری زندگی دوسروں کی زندگیوں کا فیصلہ کرنے والے نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن موت اس کے یورت میں بھی داخل ہو سکے گی. خان کی نظریں خیمے میں موجود تمام افراد کا فردا فردا جائزہ لے رہی تھی۔
خاقان اعظم کے چاروں بیٹے، گیارہ پوتے، داماد، سرداران سلطنت، شاہان سب خیمے میں دم بخود کھڑے تھے. اچانک خاقان کی نظریں ایک گیارہ سالہ لڑکے پر جم گئیں ، شامان ،خاقان کی نظروں کا اشارہ سمجھ گیا اور لڑکے کو قریب بلایا. خاقان نے انگلی کے اشارے سے بچے کی طرف اشارہ کر کے کہا،
"میرا یہ پوتا مجھ سے بڑی سلطنت کا مالک ہوگا اور میرے سے زیادہ لمبی عمر پائے گا"
پیش گوئی کرنے والا خاقان اعظم جنغیز خان تھا اور جس بچے کے بارے میں یہ الفاظ کہے گئے اسے تاریخ قبلائی خان کے نام سے جانتی ہے
دریائے آنان کے علاقے میں پیدا ہونے والا ، تموجن  (1167-1227)جب پیدا ہونے کے بعد اپنے باپ یوسوخئی  باغتر  کی گود میں آیا تو باپ نے دیکھا کہ بچے کی ایک مٹھی بند ہے اور دوسری کھلی، بند مٹھی کو جب کھولا گیا تو اس میں گوشت کا ایک ٹکڑا سرخ پتھر کی مانند  موجود تھا، بچہ اپنے ساتھ ماں کے جسم کا ایک ٹکڑا بھی نوچ لایا تھا. یوساکائی جھیل بیکال  کے کنارے بسنے والے ایک چھوٹے سے منغول قبیلہ کا سردار تھا اور صحرائے غوبی میں آوارہ گردی کرتے وحشی اور خونخوار قبائل کے ساتھ جھڑپیں روزانہ کا معمول تھا. باپ نے بیٹے کی فطرت کا اندازہ لگاتے ہوئے اس کا نام تموجن  (لوہے کا کام کرنے والا)  رکھا. یہی تموجن باپ کے مرنے بعد صحرائے غوبی کے منغولین قبائل کو جمع کر کے ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوا اور 1206 عیسوی میں اپنی سلطنت کے تمام قابل ذکر سرداروں کو جمع کر ان کے سامنے جنغیز خان کا لقب اختیار کیا-
 جنغیز خان کے چار بیٹے چغتائی خان، اوغدائی خان ، تولوئی خان،جوجی خان، اور پانچ بیٹیاں ، کوچِن بیکی، الغائی بیکی ، اللتُن، چیچئی خان تھیں ۔  اس کی سب سے پیاری اور پہلی بیوی  بورتے خاتون کے بطن سے تھیں.بورت خاتون کے والد کا نام ، گئی سیاچن  اور ماں کا نام تاچوتان تھا ۔   شادی کے کچھ ہی عرصے بعد بورتے خاتون کو ایک مخالف قبیلے کے سردار نے اغوا کر لیا ، تب تک تموچن ابھی جنغیز خان نہیں بنا تھا. تموچن ایک لمبے عرصے اور کئی خونخوار معرکوں کے بعد بورتے خاتون کو واپس لانے میں کامیاب ہو گیا ۔لیکن تب تک بورتے خاتون حاملہ ہو چکی تھی. اس حادثے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کو بورتے خاتون کی محبت میں جنغیز خان نے تو قبول کر لیا لیکن دوسرے منغولوں نے اسے قبول نہیں کیا اور جوجی  یعنی باہر والا کے نام سے پکارتے رہے. اور یوں جوجی خان   اس کا نام پڑ گیا۔  جنغیز خان ، کی فطرت کا یہ ایک عجیب پہلو ہے، ایسا وحشی کہ جب ہرات کو فتح کیا تو اپنے گورنر کی موت کا بدلہ لینے کے لیے 16،00،000 افراد کا ایک ہفتہ میں قتل کروا دیا اور دوسری طرف اپنی بیوی کی محبت میں اپنے دشمن کے خون کو بھی گلے سے لگا کر رکھا اور اپنا نام اور مرتبہ بھی عطا کیا۔جنغیز خان ،نے جتنے علاقے فتح کئے  وہ  اولاد میں تقسیم کرکے اُنہیں اپنا ماتحت حکمران بنایا اور باقی علاقوں کی فتح کی راہ ہموار رکھی ۔ چغتائی خان،  کو ماوراالنہر، قازقستان، کاشغر اور ترکستان کے علاقے دئیے  گئے۔
 اوغدائی خان ، جنغیز خان کا مقرر کردہ جانشین تھا ،
  تولوئی خان،  کو ان کے والد کی طرف سے کوریا، تبت اور منگولیا کا علاقہ دیا گیا۔
جوجی خان، کو  سائریریا،  قپچاق، روس،  ازبکستان اور قازقستان کا علاقہ دیا گیا۔
  جغتائی خان :

جنغیز خان کے مرنے کے بعد جغتائی خان نے حکومت سنبھالی، جغتائی خان کی زندگی میں ماوراالنہر، قازقستان، کاشغر اور ترکستان کے علاقے اس کی تحویل میں تھے۔ اس نے اپنے باپ کی وصیت کے مطابق اُس کے  وزیراعظم قراچار نوئیاں سے اپنی بیٹی توکل خانم کی شادی کر کے رشتہ داری قائم کی اور اپنے علاقوں کا انتظام سپرد کر کے خود اوغدائی خان کے پاس سکونت اختیار کر لی اور امور سلطنت میں اس کا ہاتھ بٹاتا رہا۔ یہ شخص مسلمانوں کا بہت بڑا دشمن تھا۔ المالیق جغتائیوں کا پایہ تخت تھا۔
جغتائی خان کی موت شکارگاہ میں ایک بازگشتہ تیر پھینکنے سے ہوئی۔ یہ تیر اس کی پشت پہ لگا اور مہلک ثابت ہوا۔ یہ واقعہ 1241ء میں اوغدائی  خان کی موت سے 6 ماہ پیشتر پیش آیا۔
 جغتائی خان کی موت کے بعد وہ خود مختار حکمران ہوگیا تھا۔ مگر اس نے جغتائی کے بیٹیوں کو اقتدار میں شریک رکھا اور تربیت کرتا رہا۔ اس کے بیٹے اور پوتے کو خاقان بنایا۔
 قراچار نوئیاں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو مختلف علاقوں سے تلاش کرکے (سمرقند) کش کے علاقے میں آباد کیا۔ مقامی ترک اور ایرانی باشندوں میں رہائش اختیار کرکے اس قبیلے نے اپنی علاحدہ قومیت کھو دی اور ترکی زبان کے غلبے کی وجہ سے ترکی بولنے لگے اور ترک کہلائے ۔

قراچار نوئیاں نے 89 سال عمر پاکر 1254ء میں وفات پائی۔ اس کا بیٹا ایجل نوئیاں جانشین بنا۔ اس کے پوتے امیراینگو نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ قراچار نوئیاں بھی اسلام قبول کر چکا تھا۔
حاجی برلاس اور طراغے،
قراچار نوئیاں کے پڑ پوتے تھے۔ مشہور ایرانی حکمران تیمور لنگ طراغے کا بیٹا اور حاجی برلاس کا بھتیجا تھا ۔ یاد رہے کہ برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے مورث اعلی ظہیر الدین بابر شہنشاہ تیمور  لنگ کی اولاد در اولاد میں سے تھے- 

اوغدائی خان : 
نے 9 سال تک حکومت کی۔ مسلمانوں سے باقی بھائیوںکی نسبت بہتر سلوک کیا۔ مسجدوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دیدی۔ اجڑے ہوئے
شہروں کو بسایا۔ اوغدائی خان نے اپنے عہد حکومت میں عدل قائم کیا۔ عام رعایا کی پرورش کی۔ مسلمانوں کے ساتھ باہمی شادیوں کو رواج دیا۔ فوج کی نگہداشت اور تنظیم کی۔ ۔
اوغدائی  خان کی موت کے بعد مختلف قبائل میں جنگ چھڑ گئی۔ جغتائی  خان کے بیٹوں نے بھی سر کشی کی، مگر اوکتائ خان کی بیوی ترکینہ خاتون چار سال تک حکومت پر قابض رہی۔ آخر امیروں نے اسے اوغدائی  خان کے پاس  دوسری دنیا میں بھیج کر  اس کے بیٹے قیق کو خاقان بنالیا۔ قیق خان  نے چغتائی  خان کے سرکش بیٹوں کو قتل کروا دیا۔ تو بچ کر چین بھاگ گئے ۔ بہت سے سردار بھی جہنم رسید ہو گے۔
قیق خان  کے دربار میں چینی کافروں کا بہت اثر تھا۔ وہ مسلمانوں کو دکھ پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے تھے اور عمل کرواتے  رہے۔ اور بہت حد تک ان کی کامیابی رہی۔قیق خان نے کل ڈیڑھ سال حکومت کی۔ اس کو ایک رات پیٹ میں درد ہوا، اور مسلمانوں کو اس کے مظالم سے نجات ملی۔

جوجی خان :

 جنغز  خان نے جوجی خان کو جغتائی  خان کے ہمراہ خوارزم کے محمد شاہ کے خلاف مہم پر روانہ کیا۔ شاہ تو ان کے ہاتھ نہ لگا مگرانہوں نے اُس کے تمام علاقے زیرنگیں کر لئے ور ان فتو حات کے بعد تمام آبادیوں کو زمین بوس اور مخلوق خدا کا قتال کیا اور بے شمار ظلم کئے ۔  ان مظالم کے بعد جوجی خان نے احکام ظلم کے خلاف اظہار کیا ۔ تو جغتائی خان نے جنگیز خان کو اطلاع دی۔ جنغیز خان نے اسے زہر دلوا کر مروا ڈالا۔ اس کی موت 1228ء میں 30 برس کی عمر میں ہوئی۔
 چنگیز خان نے جوجی خان کے بیٹے باتو خان کو اس کا جانشین بنا کر ترکستان سے روم تک کا علاقہ بخش دیا جبکہ اردو خان جوجی خان کا سب سے بڑا بیٹا تھا۔ 13 صدی میں اس کی اولاد نے اسلام قبول کر لیا۔ 18 صدی تک قپچاق اور روسی علاقوں پر حکمران رہے۔ اس کی اولاد میں شیبانی خان نے 15 صدی میں تاشقند سے سمرقند اور ہرات تک اپنی سلطنت کووسعت دے کر حکومت کی۔ ان کی دو مشہور شہر سرائے اور استراخان بتائے جاتے ہیں۔ ان میں ایک حکمران تفتمش کا نام امیر تیمور سے جنگ کی وجہ سے مشہور ہوا۔
Batuhan.JPGباتو خان،  چنگیز خان کا پوتا۔ 1235ء میں اس فوج کا سپہ سالار مقرر ہوا جس کا مقصد یورپ کو فتح کرنا تھا۔ دریائے والگا کو عبور کرنے کے بعد اس نے فوج کا ایک حصہ بلغاریہ کی طرف روانہ کیا اور باقی حصے نے روس پر حملہ کر دیا۔ 1240ء میں ماسکو اورخیف اور دو سال بعد ہنگری اور پولینڈ پر بھی قبضہ کر لیا۔ پھر جرمنی پر حملہ کر دیا۔ 1242ء میں خان اعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کے  واپس لوٹ آیا اور دوسری مہم کی تیاری میں مصروف تھا کہ انتقال ہوگیا۔ اس کی فوج کے لوگ چونکہ زرق برق مرصع خیموں میں رہتے تھے اس لیے ان کو طلائی اردو (Golden Horde) کہاجاتا ہے۔



تولئی خان :
تولئی خان نے ، اپنے باپ کے حکم پر اس نے نیشاپور، ہرات اور مرو کے علاقے فتح کئے ۔ اس کی موت اپنے والد کی زندگی میں 1230 میں ہوئی۔منغو خان:
 جنغیز خان کے لڑکے تولی خان کے تین بیٹے تھے۔ ان میں ایک منغو خان تھا جو قراقرم میں رہتا تھا اور پوری منغول سلطنت کا خان اعظم تھا، دوسرا بیٹا قبلائی خان تھا جو چین میں منغول سلطنت کا بانی تھا جبکہ تیسرا لڑکا ہلاکو خان (پیدائش 1217ء۔ وفات 8 فروری 1265ء)  تھا۔

 تولئی  خان کی اولاد،  یوان مغل کہلاتی تھی۔ تبت میں جاکر دلائی لامہ مشہور ہوئے ۔ قبلائی بن تولی بن چنگیز کا دارالسلطنت "بائغ" تھا۔ تولی خان کا بیٹا منغو خان  تخت نشین ہوا ،  تو اس نے اپنے بھائی ہلاکو خان کو ایران اور عجم کی طرف ایک بڑی فوج دے کر ان مضبوط حکومتوں کی تسخیر کے لئے بھیجا۔ ہلاکو خان کی اولاد ،  ایران اور عراق پر حکمران رہی مسلمان ہو گئی ۔ محمود خان غازان پہلا مسلمان تھا۔ چین، منگولیا اور کوریا میں اس کی اولاد نے بدھ مت اختیار کیا-

منغو خان کے زمانے میں شمال مغربی ایران میں ایک اسماعیلی گروہ حشاشین نے بڑا ہنگامہ اور خونریزی شروع کردی۔ یہ علاقہ منگولوں کے زیر حکومت تھا اس لیے وہاں کے باشندوں نے منغو خان سے اس ظلم و ستم کے خلاف فریاد کی۔ منغو خان نے اس شکایت پر اپنے بھائی ہلاکو خان کو 1256ء میں ایران کا حاکم بناکر روانہ کیا اور اس کو اسماعیلیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ ہلاکو نے اسی سال اسماعیلیوں کے مرکز قلعہ الموت پر قبضہ کرکے اسماعیلی حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا اور ان کے آخری بادشاہ خور شاہ کو قتل کردیا۔
اسماعیلیوں کا زور توڑنے کے بعد ہلاکو خان نے بغداد کا رخ کیا جو اس زمانے میں شیعہ سنی فساد کا گڑھ بنا ہوا تھا اور جس کی وجہ سے خلیفہ مستعصم باللہ کے شیعہ وزیر ابن علقمی نے ہلاکو خان کو بغداد پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا تھا۔ 1258ء میں بغداد تباہ کرنے کے بعد ہلاکو خان نے پورے عراق پر قبضہ کرلیا اور بصرہ اور کوفہ کے عظیم شہر تباہ و برباد کردیے۔ اس کے بعد منغول فوجوں نے جزیرہ کر راستے شام پر حملہ کیا۔ منغول فوجیں نصیبین، رہا اور حران کے شہروں کو تباہ کرتے ہوئی حلب پہنچ گئیں جہاں 50 ہزار مرد قتل عام میں مارے گئے اور ہزاروں عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا گیا۔ منغول فوجیں اسی طرح قتل و غارت کرتی اور بربادی پھیلاتی ہوئی فلسطین پہنچ گئیں لیکن یہاں ناصرہ کے جنوب میں عین جالوت کے مقام پر 25 رمضان 658ھ بمطابق 1260ء کو ایک خونریز جنگ میں مصر کے مملوکوں نے ان کو شکست دے کر پورے شام سے نکال دیا اور اس طرح مصر منغولوں کے ہاتھوں تباہی سے بچ گیا۔
منغو خان کے بعد قراقرم کی حکومت کا اقتدار کمزور پڑگیا اور ہلاکو خان نے ایران میں اپنی مستقل حکومت قائم کرلی جو ایل خانی حکومت کہلاتی تھی۔ اس نے مراغہ کو جو تبریز سے 70 میل جنوب میں واقع ہے اپنا دارالحکومت بنایا۔ بعد میں دارالحکومت تبریز منتقل کردیا گیا۔
ہلاکو کےبعد اس کا بیٹا اباقا خان تخت نشین ہوا اس نے بھی اپنے باپ کی اسلام دشمن حکمت عملی جاری رکھی۔ اس نے پوپ اور یورپ کے حکمرانوں سے قریبی تعلقات قائم کئے اور عیسائیوں کو بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اس نے یورپ کی تائید اور اپنی مملکت کے آرمینی اور گرجستانی باشندوں کی مدد سے شام پر حملہ بھی کیا لیکن 1250ء میں حمص کے قریب مملوک حکمران قلاؤن سے شکست کھاکر پسپا ہونے پر مجبور ہوا۔
 قبلائی خان :
1259 عیسوی میں ہو چو کے مقام پر ایک جنگ میں منگو خان مارا گیا اور قبلائی خان خاقان اعظم مقرر ہوا. مختلف تہذیبوں کے اختلاط اور علوم و فنون کے نابغہ روزگار افراد کے منگول سلطنت میں جمع ہونے کی وجہ سے منگول بھی اپنی فطرت بدلنے پر مجبور ہوگئے تھے. یہ اثر قبلائی خان نے بھی قبول کیا تھا. حکومت کرنے بارے اس کے نظریات اپنے دادا اور چچا سے مختلف تھے وہ منگولوں کی اس شہرت کو ناپسند کرتا تھا جس کا مطلب صرف خون بہانا اور بستیوں کو اجاڑنا تھا، اپنے بھائی کے دور حکومت میں معاملات کو حل کرنے کے لیے وہ خون بہانے کے بجائے سفارتی ذرائع اختیار کرنا پسند کرتا تھا. یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی بھی منگو خان کے پسندیدہ افراد کی فہرست میں جگہ نہ پا سکا. اکثر اوقات اسے منگو خان کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن جب وہ خود خاقان بنا تو اسے اپنے طریقے سے حکومت کرنے کا پورا موقع ملا اور اپنی امن پسند طبیعت کی بنا پر جلد ہی وہ وسیع منگول سلطنت میں مقبولیت حاصل کر گیا. اس کی شہرت اپنے دادا چچا اور بھائی سے بالکل مختلف تھی۔
قبلائی خان کے طویل دور حکومت نے منگولوں کی وسیع سلطنت کو ایک پرامن اور مضبوط معیشت والے ایسے ملک میں بدل دیا، جس کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے ہزاروں میل کا دشوار گزار سفر کر کے تجار اور کاروباری حضرات چین میں آتے اور چین کے اشیاء سے بھرے بازار، مال تجارت کو ذخیرہ کرنے کے لیے تعمیر وسیع و عریض گوداموں اور دنیا کی مختلف اقوام کے لوگوں کو گلیوں میں چلتے پھرتے دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ جاتے۔
قبلائی خان کے دور میں منگول سلطنت،جسکا مرکز منگولیا سے چین میں منتقل ہو چکا تھا،
کو جو عظمت, امن اور استحکام نصیب ہوا. چین نے اس کا تجربہ پہلے نہیں کیا تھا. اس دور میں چین کے اندر یہ ایک معجزے سے کم نہیں تھا،مغرب سے آنے والے تاجروں کے لیے بھی یہ ایک انوکھا تجربہ تھا. یہاں سے سونا، چاندی اور ریشمی کپڑا خریدنے کے لیے ایشیا کے دوردراز.علاقوں سے تجارتی قافلے چین کا رخ کرتے. مال تجارت سے بھرے گودام نہروں اور دریاؤں کے کنارے واقع تھے تاکہ سامان کی ترسیل میں آسانی ہو. نہروں اور دریاؤں کو مضبوط پلوں کے ذریعے ملایا گیا تھا. سونے اور چاندی کی تاروں سے آراستہ لباس تیار کرنے والے کارخانے تھے. مال تجارت میں ایک بڑا حصہ ریشمی کپڑے کا تھا جو چین کا خاصا سمجھا جاتا تھا. تاجر دوردراز سے یہی کپڑا خریدنے چین کا رخ کرتے.
1340 عیسوی میں تاجروں کی رہنمائی کے لیے اٹلی سے شائع شدہ ایک کتاب کے مطابق چین جانے والے راستے انتہائی محفوظ اور پرامن ہیں جہاں دن رات کے کسی بھی حصہ میں بلا خوف و خطر سفر کیا جا سکتا ہے. اس بات کا یورپ میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا. جس وقت یورپ لٹیروں اور ڈاکوؤں کی آماجگاہ تھی، اس وقت ایشیا تجارت کے لیے ایک پر امن جگہ سمجھی جاتی تھی. پیرس میں آج بھی قبلائی خان کی مہر کےساتھ وہ خطوط محفوظ ہیں جو تبریز سے فرانس بھیجے گئے تھے۔
قبلائی خان یورپی اقوام کے فہم و تدبر کا بہت قائل تھا. وہ چاہتا تھا کہ یورپین آ کر ملکی انتظام و انصرام کا حصہ بنیں، وجہ یہ تھی کہ جنگجو منگول ان صلاحیتوں سے بہرہ مند نہیں تھے جو ایک وسیع و عریض اور جدید سلطنت کے انتظامات کے لیے ضروری تھیں،  چینی لوگوں پر اعتماد کرنے کے لیے وہ تیار نہیں تھا کہ کہیں وہ اس کی سلطنت کو عدم استحکام سے دوچار نہ کر دیں. یہی وجہ تھی کہ وہ ساری دنیا سے جوہر قابل کو اپنے دربار میں دیکھنا چاہتا تھا
. اور اس مقصد کے لیے ہر قسم کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا تھا.
پیکنگ میں قبلائی خان کے دربار میں دنیا کے ہر ملک کا سفیر حاضر ہوتا تھا. وہ علم اور عالموں کا قدردان تھا. قبلائی خان کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ وہ منگولوں کو جدید علوم سیکھنے کی طرف مائل کر سکے. صحرائی علاقوں کے رہنے والوں کی فطرت کے مطابق منگول خود بھی جفاکش اور بہت جلد سیکھنے والے لوگ تھے
.
قبلائی خان کا محل بیک وقت ایک ہزار سواروں کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت رکھتا تھا. اس محل کے گردا گرد ایک دیوار تھی جس کا محیط 16 میل یا 25 کلومیٹر تھا. اس محل کے مین ہال میں سولہ ہزار کرسیوں کی گنجائش تھی. یہ ہال سونے چاندی اور قیمتی کپڑے سے مزین کرسیوں سے سجا تھا. قبلائی خان کی ذاتی رہائش گاہ کے گرداگرد دنیا کے نایاب اور خوبصورت پیڑ، پودوں سے سجے باغات تھے جن کے پھولوں کے منفرد رنگوں اور خوشبوؤں پر جنت کا گماں ہوتا تھا. جب قبلائی خان کھانا کھاتا تھا تو اس کی خدمت پر معمور خادمائیں اپنے منہ کو ریشمی رومال سے ڈھانپ کر رکھتی تھیں کہ کہیں ان کی سانسیں خاقان کے کھانوں کو متاثر نہ کر دیں. خاقان کی موجودگی میں کسی کو بھی بولنے کی اجازت نہ تھی، خواہ وہ کتنے بڑے عہدے کا مالک ہی کیوں نہ ہو. دربار شاہی سے آدھے میل تک کسی بھی قسم کے شور و غل کی اجازت نہ تھی. اس کے دربار میں حاضر ہونے والے ہر شخص کو سفید چمڑے سے بنے جوتے پہننے پڑتے تھے تاکہ سونے اور چاندی کی تاروں سے مزین قیمتی قالین خراب نہ ہوں. ہر شخص داہنے ہاتھ میں ایک اگالدان رکھتا تھا کہ کہیں غلطی سے بھی تھوک قالینوں کو گندہ نہ کر دے.
مارکو پولو کے مطابق خاقان اعظم کی چار بیویاں تھیں لیکن یہ قانونی تھیں. ان کے علاوہ وسیع تعداد میں باندیاں اور لونڈیاں بھی موجود تھیں، جن کے دم قدم سے حرم شاہی آباد تھا. ان باندیوں کا انتخاب ایک قدیم منگول روایت کے تحت کیا جاتا تھا. ہر دو سال بعد خاقان کے آدمی، تاتاری صوبے انگوت جاتے تھے جہاں کی عورتیں اپنی رنگت اور خوبصورتی میں یکتا تھیں
. وہاں سے بڑی چھان پھٹک کے بعد سیکڑوں خواتین کا چناؤ کیا جاتا تھا. ان کی خوبصورتی کو قیمتی پتھروں کی طرح قیراط میں ماپا جاتا تھا. ہر پہلو سے دیکھ بھال کر ان کو رنگت، چہرے کے نقوش، خدوخال، چال ڈھال اور جسمانی نشیب و فراز کے حساب سے نمبر دیے جاتے تھے. جو لڑکی بیس یا اکیس قیراط کی حد کو چھو لیتی تو اسے دارالحکومت میں لایا جاتا. اگلے مرحلے میں ان لڑکیوں کو کسی امیر یا درباری کی بیوی کے حوالے کیا جاتا جو اس لڑکی کی مزید چھان پھٹک کرتی کہ کہیں وہ کسی اندرونی خرابی کا شکار تو نہیں، یہ عورت اس لڑکی کو اپنے ساتھ سلاتی کہ کہیں لڑکی خراٹے تو نہیں لیتی، رات کے مختلف اوقات میں اس کی سانس کی بو کا معائنہ کیا جاتا، یہ بھی دیکھا جاتا کہ کہیں وہ زیادہ کروٹیں تو نہیں بدلتی، یا اس کے جسم سے ناگوار بو تو نہیں آتی. ان تمام مراحل کے بعد کامیاب لڑکیوں کو اس قابل سمجھا جاتا تھا کہ وہ بادشاہ کی خدمت میں حاضری دینے کے قابل ہیں اور ہر طرح سے بادشاہ کی خدمت کر سکتی ہیں. پانچ لڑکیوں کی ایک ٹولی تین دن اور تین راتیں خاقان کی خدمت میں گزارتیں، اس کے بعد نئی ٹولی اس خدمت پر معمور ہو جاتی۔
قبلائی خان کے پورے دور حکومت میں منتخب دوشیزاؤں کی فوج ظفر موج اس انتظار میں رہتی کہ کب ان کی باری آئے اور انہیں خاقان کی خدمت کا موقع مل سکے. خاقان کے بیٹے بیٹیوں کی تعداد 47 بتائی جاتی ہے. اکثر جنگوں میں افواج کی قیادت اس کے اپنے بیٹے کرتے
۔
1265ء میں جب اطالوی تاجر نکولو پولو اور میفیو پولو ،قبلائی خان کے دربار میں حاضر ہوئے تو وہ اس دربار میں پہنچنے والے پہلے یورپین تھے. چونکہ وہ تاتاری زبان سیکھ چکے تھے لہذا فورا ہی قبلائی خان کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے. ان کے پاس خان کو بیچنے کے لیے کچھ نہیں تھا سوائے مذہب کے. تو دونوں بھائیوں کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح خان کو عیسائیت کی طرف مائل کر سکیں.
قبلائی خان کو یسوع مسیح کی کہانی میں بڑی دلچسپی تھی لیکن وہ آخر تک یہ نہ سمجھ سکا کہ آخر یسوع انتہائی کسمپرسی کی حالت میں صلیب پر کیوں لٹک گیا؟
ہاں پوپ کی مجرد زندگی کے ذکر نے اسے بہت متاثر کیا کہ اتنی طاقت اور دولت کا مالک ہونے کے باوجود تجرد کی زندگی گزارتا ہے جس کا خان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
قبلائی خان نے دونوں بھائیوں کو واپس بھیجا کہ کہ پوپ سے درخواست کی جائے اور کم از کم سو آدمی بھیجے جائیں جو منگولوں کو مختلف علوم سکھا سکیں.

جب پولوز واپس آئے تو ان کے ساتھ نکولو پولو کے چھوٹے بیٹے مارکو پولو(پیدائش 15 ستمبر 1254 وفات8 جنوری 1324) کے علاوہ کوئی نہیں تھا. پوپ کے بھیجے باقی آدمی ابتدائے سفر میں ہی راستے کی صعوبتوں سے گھبرا کر واپس چلے گئے تھے. پولوز ،قبلائی خان کو عیسائی تو نہ بنا سکے لیکن عیسائی تاجروں کے لیے بہت سی مراعات حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہوئے. عیسائی دنیا کی بزدلی سے مایوس ہو کر قبلائی خان تبت کے مذہب بدھ مت کی طرف مائل ہو گیا اور تبت کا قدیم مذہب کو اختیار کر لیا. قبلائی خان نے اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کچھ خاص کامیابی حاصل نہ کر سکا. جاپان کو فتح کرنے کی دو کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں، اسی طرح، کوچین چین یعنی ویت نام کو فتح کرنے کی کوشش بھی ناکام ہوئی. البتہ برما میں منگولوں کا یاک کی نو دموں والا پرچم ، لہرانے میں ضرور کامیاب ہوا اور برما اس کی سلطنت کا حصہ بن گیا۔
1294ء میں بیاسی سال کی عمر میں یہ عظیم خاقان اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا. اس کی تمام بیویوں کو زندہ اس کے ساتھ دفن کر دیا گیا. اور کئی خدمتگاروں کو بھی ساتھ ہی دفنا دیا گیا کہ جاؤ اور دوسری دنیا میں اپنے ولی نعمت کی خدمت کرو۔
قبلائی خان نے مشرق اور مغرب کو اس وقت اکٹھا کرنے کی کوشش کی جب وہ ایک دوسرے کے وجود سے بھی بے خبر تھے. قبلائی خان کے بعد اس کی عظیم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور جہالت کے اندھیروں نے ایک بار پھر ایشیاء کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
.
   منغولوں نے لڑ کر اتنی فتح حاصل نہیں کی، جتنا خوف پھیلا کر حاصل کی،  بہت سے شہر منغولوں کا نام سنتے ہی ہتھیار ڈال دیا کرتے تھے. یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ منغول میدان جنگ میں جتنے خونخوار اور وحشی تھے، معاملات حکومت میں اتنے ہی عقل مند اور وسیع الظرف تھے. بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو لوگ جنغیز خان اور اس کے لشکریوں کی تلوار سے بچ گئے. وہ کئی جہتوں سے خوش نصیب کہلائے.
منغول سلطنت میں جو امن اور خوشحالی تھی. وہ اس سے پہلے عوام کو کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی. منغول سلطنت میں مکمل مذہبی آزادی تھی. منغولوں نے نہ تو کسی کو اپنا قدیم مذہب اختیار کرنے کے لیے کہا بلکہ ہر شخص کو مکمل آزادی تھی کہ اپنے مذہب کی عبادت گاہ تعمیر کرے اور مکمل آزادی سے اپنے مذہب پر عمل پیرا ہو. یہ بات اس دور کے لحاظ سے ایک عجیب بات تھی
.
ایشیا کے تمام راستے مکمل طور پر محفوظ اور خطرات سے پاک تھے. جن پر تجارتی قافلے بلا خوف و خطر سفر کر سکتے تھے. جنغیز خان کی سلطنت بحر اسود سے لے کر بحرالکاہل تک پھیلی ہوئی تھی اور جنوب میں ہمالیہ تک کا علاقہ اس کے زیر نگیں تھا
. جنغیز خان کی وفات کے تیس سال بعد اس کی پیش گوئی پوری ہوئی اور منغو خان کے بعد قبلائی خان اس وسیع سلطنت کا حکمران بناـ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔