میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 26 مئی، 2014

نظم- ایک پودا اور گھاس- اسماعیل میرٹھی


  اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس

گھاس کہتی ہے اسے ، میرے رفیق!
کیا انوکھا ہے اس جہاں کا طریق

ہے ہماری اور تمہاری ایک ذات
ایک قدرت سے ہے دونوں کی حیات

مٹی اور پانی ، ہوا اور روشنی
واسطے دونوں کے یکساں ہے بنی

تجھ پہ لیکن ہے عنایت کی نظر
پھینک دیتے ہیں مجھے جڑ کھود کر

سر اُٹھانے کی مجھے فرصت نہیں
اور ہوا کھانے کی بھی رخصت نہیں

کون دیتا ہے مجھے یاں پھیلنے
کھا لیا گھوڑے گدھے یا بیل نے

تجھ پہ منہ ڈالے جو کوئی جانور
اُس کی لی جاتی ہے ڈنڈے سے خبر

اولے پالے سے بچاتے ہیں تجھے
کیا عزت سے بڑھاتے ہیں تجھے

چاہتے ہیں تجھ کو ، سب کرتے ہیں پیار
کچھ پتا اس کا بتا اے دوست دار

اُس سے پودے نے کہا یوں سر ہلا
گھاس! سب بے جا ہے یہ تیرا گِلہ

مجھ میں اور تجھ میں نہیں کچھ بھی تمیز
صرف سایہ اور میوہ ہے عزیز

فائدہ ایک روز مجھ سے پائیں گے
سایہ میں بیٹھیں گے اور پھل کھائیں گے

ہے یہاں عزت کا سہرا اُس کے سر
جس سے پہنچے نفع سب کو بیشتر
اسماعیل میرٹھی

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔