میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 26 مئی، 2014

نظم - ایک جُگنو اور بچّہ - مولوی اسمٰعیل میرٹھی

  ایک جُگنو اور بچّہ

سناؤں تمہیں بات اک رات کی                   
کہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی
چمکنے سے جگنو کے تھا ایک سماں
                    ہوا پر اُڑیں جیسے چنگاریاں
پڑی ایک بچے کی ان پر نظر                        
پکڑ ہی لیا  ایک کو دوڑ کر
چمک دار کیڑا جو بھایا اسے                           
تو ٹوپی میں جھٹ پٹ چھپا یا  اُسے
وہ جھم جھم چمکتا ادھر سے اُدھر
                    پِھرا کوئی رستہ نہ پایا مگر
تو غمگین قیدی نے کی التجا
                کہ چھوٹے شکاری!  مجھے کر رِہا
جُگنو
خدا کے لئے چھوڑ دے چھوڑ دے!                        
مِری قید کے جال کو توڑ دے
بچّہ
کروں گا نہ آزاد اُس وقت تک
کہ میں دیکھ لوں دِن میں تیری چمک
جُگنو
چمک میری دن میں نہ دیکھو گے تُم               
اُجالے میں ہو جائیگی وہ تو گُم
بچّہ
ارے چھوٹے کیڑے نہ دے دم مجھے
             کہ ہے واقفیت ابھی کم مجھے
اُجالے میں دن کے کُھلے گا یہ حال
          کہ اتنے سے کیڑے میں ہے کیا کمال  


جگنو
یہ قدرت کی کاریگری ہے جناب              
کہ ذرّ ے کو چمکائے جوں آفتاب
مجھے دی ہے اس واسطے یہ چمک                   
کہ تم دیکھ کر مجھ کو جاؤ ٹھٹَک
نہ الڑھ پنے سے کرو پائمال
سنبھل کر چلو آدمی کی سی چال

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔