میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ, مئی 14, 2014

اچھے لوگوں کو خاموش رہنا چاہئے یا نہیں؟


صاحبانِ عقل و فکر، فہم و دانش!   لکھا ایک دوست نے ۔
                        دنیا بُرے(لَغْو) لوگوں کی برائی سے نہیں، بلکہ اچھے لوگوں کی خاموشی سے تباہ ہوگی۔
  محمد رسول اللہ نے اللہ کی نصیحت بتائی؟
وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِہَذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَغْلِبُونَ (41/26)
 اور کفر کرنے والے بولتے ہیں تم اس قرآن کے لئے مت سمع کرنے دو اور اس کے دوران لغو بکتے ہو تاکہ تم غالب رہو  
وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَاماً (25/72)
اور وہ لوگ الزُّور(خصوصی اضافی) کی شھادت نہیں دیتے اورلغو کے تسلسل کے ساتھ وہ تسلسلِ کِرَام کرتے ہیں
تو صاحبانِ عقل و فکر، فہم و دانش!
  الزُّور اور اللَّغْو   کے مسلسل استعمال پر اچھے لوگوں کو خاموش رہنا چاہئے یا نہیں؟


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔