میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 14 مئی، 2014

ہم اور ہمارا معاشرہ !

 ہم اپنی بیٹی اور بہن کے ساتھ بیٹھ کر فلمیں دیکھتے ہیں ۔

  جب ہیروئین عشق کرتی ہے ہم سب خوشی سے سرشار ہوتے ہیں ۔
جب وہ گھر والوں سے چھپ کر ملتی ہے ، والدین سے جھوٹ بولتی ہے تو ہم اس کی مہارت پر مسکرا دیتے ہیں۔
پھر وہ ماں ، باپ یا بھائ
ی کے سامنے اپنے محبت کو حاصل کرنے کے لئے کھڑی ہوجاتی ہے تو ہم اس کی کامیابی کی دعائی کرتے ہیں ۔
جب وہ گھر سے اپنے محبوب کے ساتھ بھاگتی ہے تو ہم اس پر فخر کرتے ہیں کہ اس نے محبت کی خاطر باپ کی دولت کو ٹھکرا دیا -
اورجب  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  !
ہماری بہن  یا بیٹی ، اس خاموش تربیت کے نتیجے میں ، اپنے محبوب کے ساتھ جا کر کورٹ میج کر لیتی ہے   -

تو ہم لوگوں سے نظریں چھپاتے ہیں ۔

کیوں؟   مجھے نہیں معلوم  !
صاحبانِ عقل و فکر، فہم و دانش!     آپ بتا سکتے ہیں ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔