میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 24 جون، 2014

وحی غیر متلو-4 آیات المدثر

پہلا باب، کتاب الوحی ۔
وحی غیر متلو (حدیث )  
-4 آیات المدثر
 وحی کا نزول  -




یہ دوسری وحی ہے کافی عرصہ بعد،


يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ‌ ﴿1 قُمْ فَأَنذِرْ‌ ﴿2 وَرَ‌بَّكَ فَكَبِّرْ‌ ﴿3 وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ ﴿4 وَالرُّ‌جْزَ فَاهْجُرْ‌ ﴿5  المدثر

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت جابر انصاری  نے آپ سے مدینہ میں پوچھا  ۔
پہلی وحی متلو اور دوسری وحی متلو کے درمیان یہ کتنا عرصہ ہے ، تاریخ کے مطابق دو سے ڈھائی سال کا ہے ۔
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ
 اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿1﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿2﴾ اقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ الْأَكْرَ‌مُ ﴿3﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿4﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿5﴾سورة العلق
ایک نکتہ وہ یہ کہ،سورۃ العلق  کی پہلی پانچ آیات، میں ربّ کو تو وہ مانتے تھے اور اُسے اکر م بھی سمجھتے تھے ، انہیں یونانی حکمت کی وجہ سے یہ بھی معلوم تھا کہ انسان علق سے پیدا ہوا ، قلم کا استعمال بھی وہ کرتے تھے ، ہاں اُن کا شاید یہ خیال ہو کہ انسان جو کچھ سیکھتا ہے ، خود ہی سیکھتا ہے ۔ 
پھر اِن 5آیات میں ، ایسی کیا بات تھی کہ اہل مکہ بپھر گئے  ؟

٭٭٭٭٭اگلا مضمون ٭٭٭٭٭٭


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین: 
  ٭- وحی غیر متلو-3-آیات العلق

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔